Jaranwala ka Cinema Chowk

آخری سٹاپ! آخری سٹاپ! گاڑی اس سے آگے نہیں جائے گی’

یہ الفاظ چوبیس سالہ محمد امجد کے ہیں جو پچھلے چھ برس سے فیصل آباد اور جڑانوالہ کے درمیان چلنے والی ایک ویگن کے ساتھ بطور کنڈیکٹر منسلک ہیں۔

امجد سواریاں اتارنے کے بعد اب یہاں بیٹھ کر چائے پیئں گے اور اس کے بعد دوبارہ سواریوں کے ساتھ فیصل آباد کا رخ کریں گے۔

یہ چوک جسے مقامی ٹرانسپورٹرز ‘آخری سٹاپ’ کے نام سے پکارتے ہیں شہر جڑانوالہ کا مصروف ترین ‘سینما چوک’ ہے جہاں دن ہو یا رات ہر وقت رونق لگی رہتی ہے۔

یہاں صبح صادق سے شروع ہو کر شام تک کاروبار ہوتا ہے اور پھر شام سے لے کر صبح صادق تک ایک الگ مزاج کی بیٹھک سجتی ہے۔

معروف صحافی اور جڑانوالہ کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے مہر نذیر کے مطابق چوک کو یہ نام قریب واقع سینما گھر کی وجہ سے ملا ہے۔

‘سال 1947ء میں جڑانوالہ میں نشاط سینما بنا۔ سینما کی وجہ سے لوگوں کا رجحان دیہات سے شہر کی طرف ہوا تو قریبی چوک میں کاروباری افراد نے چائے کے ڈھابے بنا لیے اور آہستہ آہستہ اس چوک کو ‘سینما چوک’ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

انہوں نے بتایا کہ سال 1948ء میں مہتاب مسجد تعمیر ہوئی جس کے بعد اسے مہتاب مسجد چوک بھی کہا جانے لگا لیکن آج بھی زیادہ تر افراد اسے سینما چوک ہی کہتے ہیں۔

چوک میں سب سے پہلا ہوٹل حاجی عطاء نے 1990ء میں بنایا تھا جو کافی مقبول ہوا۔

حاجی عطاء کے مطابق ‘جب میں نے کام شروع کیا تو اس وقت چوک میں صرف دو چائے کے  کھوکھے اور ناشتے کی ایک ریڑھی ہوا کرتی تھی۔ ہوٹل بننے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ چوک دکانوں سے بھر گیا۔’

......
loading...

ان کا کہنا تھا کہ چوک میں سجنے والی اُس وقت کی بیٹھک اور اب کی بیٹھک میں بہت فرق ہے۔

‘تب یہاں ادبی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت تھا اور یہی وجہ تھی کہ لوگ ایک دوسرے کے مسائل اور ملکی معاملات پر بات کرتے تھے۔’

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے علاوہ عام دنوں میں بھی یہ جگہ سیاسی مجلسوں کا مرکز ہوتی ہے۔ شام کے وقت چائے کا کپ اور سیاست پر طویل بحث معمول کی بات ہے۔

‘سینما چوک کو مذہبی اور احتجاجی جلوسوں کے حوالے سے بھی اہمیت حاصل رہی ہے۔ شاید اسی لیے آج بھی شہر میں نکالی جانے والی ہر ریلی اور جلوس کا اختتام یہاں پہنچ کر ہوتا ہے۔’

چوک میں واقع چائے کے ہوٹل کے علاوہ پان کی دوکانوں میں مزدور طبقے کے لیے خاص کشش ہے جبکہ دن بھر کے تھکے ہارے ڈرائیور اور کنڈیکٹر رات کو یہاں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور مالش کروا کے اپنی تھکن دور کرتے ہیں۔

چوک میں موجود ‘گجر ٹی سٹال’ پر پورا دن دودھ، دہی اور چائے دستیاب ہوتی ہے جبکہ رات میں چائے کے ساتھ آلو والے پراٹھے شہریوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔

ان کے بالمقابل واقع عبداللہ سویٹس اور اس کے ساتھ ہی مسٹر برگر نامی فاسٹ فوڈ کارنر کے سامنے بھی شام کے بعد شہری چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹے محفلیں سجائے نظر آتے ہیں۔

مئی 2014ء میں نشاط سینما کو مسمار کر دیا گیا تھا لیکن سینما کے باعث شہرت حاصل کرنے والا یہ چوک اور اس کی رونقیں ہمیشہ اس کی یاد دلاتی رہیں گی