Story of Girl! Must read all parents

جہاں ہم لوگ اکیسویں صدی میں رہتے ہیں وہیں ہمارے ہاں آج بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہ پرانے خیالات کہ ہیں اور  آج بھی اسی پرانے زمانے میں رہتے ہیں

ایسے ہی والدین اور ان کی بیٹی کی سچی کہانی یہاں شئیر کی جا رہی ہے جو کہ ٹویٹر پر عثمان غنی نے شئیر کی ہے

آئیں آپ کو مکمل سچی کہانی کی جانب لیکر چلتے ہیں

عثمان کا کہنا ہے کہ  نؤے کی دہانی میں ان کے سکول میں ایک لڑکی پڑھتی تھی جو کہ بہت ہی  محنتی، لائق اور  ہوشیار، ایک بہتیرن مقرر  اور کلاس میں ہمیشہ اول آتی تھی۔   وہ ایک ایسی لڑکی تھی جس سے لڑکے ہمیشہ بات کرنے سے گھبراتے تھے کیونکہ وہ فوری ہر بات کا جواب دینا جانتی تھی، عثمان نے بتایا کہ میں کلاس میں اگر کبھی اس کو نمبرز میں ہرا بھی لو میں اس کے  کانفڈینس کو کبھی نہیں ہرا سکتا وہ بہت پر اعتماد لڑکی تھی۔

ہمیں دونوں نے کالج میں انجیرنگ کی اور میں  انڈسٹری میں کام کرنے لگا جبکہ اس نے انجیرنگ میں ماسٹرز کرنے کا پلان کر لیا تھا۔ جس کے بعد اس نے پاکستان کے ایک بہترین یونیورسٹی میں لیکچرار کی نوکری کی اور اسی دوران اس کے والدین نے اس کی شادی کا فیصلہ کر لیا۔

شادی تک تو ٹھیک تھا مگر اس کے سسرال اور خاوند نے اس کو نوکری  چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا ،  وہ لاکھ منا لیتی مگر والدین کے سامنے ایک نہ چلی اور اس کی شادی کردی گئی، اس کا خاوند میٹرک پاس تھا۔

......
loading...

والدین کو ڈر تھا کہ اس کی زندگی میں ان کی بچی کی شادی ہو جائے اس لئے انھوں نے رشتہ کر دیا اور جس کی وجہ سے اس لڑکی  کو اپنی نوکری اپنے خواب سب چھوڑنے پڑے، اس کا خاوند ایک بہت بدمزاج، اور اکھڑ انسان ہے اور عورت کو پاوں کی جوتی سمجھتا ہے شاہد۔

شادی کے کچھ ہی دن اس کو احساس ہو  گیا تھا کہ اس کے سسرال اور خاوند بلکل اچھے نہیں ہے مگر اپنے والدین کی خاطر وہ ہر ظلم سہتی رہی اسی دوران اس کے خاوند نے اس کو دو بار مارا بھی اور دو بار طلاق بھی دی، اس کا خآوند نہ اس کو خرچا دیتا ہے اور نہ ہی اس کا پاس کوئی پیسہ ہے کیونکہ نوکری کی اجازت بھی نہیں ہے

عثمان کا کہنا ہے کہ کچھ دن پہلے اس نے مجھے یہ سب بتایا ہے جس کے بعد سے میں بہت پریشان ہوں، کہ ایک اتنی ہونہار لڑکی کے ساتھ ہ سب ہو گیا، صرف اس لئے کے اس کے والدین کو یہ ڈر تھا کہ ان کی بیٹی کی شادی لیٹ ہو گئی تو لوگ کیا کہیں گے ؟

والدین کو ہمیشہ سوچنا چاہے کہ ایک پڑھی لکھی اور پروفیسر لڑکی شاید اپنے لئے بہترین جیون ساتھی چن سکتی تھی لوگ کیا کہیں گے ؟ سچ کر اپنی بیٹی کی زندگی تباہ کردی، اور بیچارہ اپنے والدین کو کچھ نہیں بتانا چاہتی کیونکہ اس کا کہنا ہے اس کو والدین کو اس سب سے تکلیف ہوگی۔

اپنی بیٹیوں کو بیٹی سمجھ کر پالیں نہ کے کوئی چیز کہ کوئی بھی ان کا استعمال کرکے پھینک دے، ان کو اتنا حوصلہ مند بنائیں کہ ایسے  مردوں کا مقابلہ کر سکیں  ، اپنی بیٹی کو اس کے خواب پورے کرنے دیں  اور ہمیشہ تب شادی کریں جب مکمل تسلی کر لیں

اپنے بیٹے کو اس بات کا  پابند بنائیں کہ لڑکی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسان اور اشرف المخلوقات ہے اس کی قدر کریں