ایک یا دو نہیں، ہزاروں کا مستقبل داؤ پر’

تئیس سالہ نبیلہ زرعی یونیورسٹی سے ویٹرنری سائنسز میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب تک متعدد سرکاری و نجی اداروں میں نوکری کی درخواست دے چکی ہیں لیکن انہیں ہر بار انٹرویو میں نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ان کے بقول ‘انٹرویو لینے والے ویٹرنری کی ڈگری کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر ایف ایس سی کی ڈگری کو غیر منظور شدہ کہتے ہوئے بطور امیدوار مجھے مسترد کر دیتے ہیں۔ ‘سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی نبیلہ نے سہانے مستقبل کے خواب دیکھ کر زرعی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا لیکن ان کے اس خواب کو ابھی تک تعبیر نہیں مل سکی ہے۔سجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے والد ایک کسان ہیں اور تین بہنوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے انہوں نے ان کی تعلیم پر بہت توجہ دی ہے۔’میٹرک میں 910 نمبر حاصل کرنے کے بعد میرے والد نے یہ سوچ کر مجھے زرعی یونیورسٹی میں ایف ایس سی پری ایگری کورس میں داخلہ دلوایا تھا کہ اچھی نوکری کے ساتھ میں مویشیوں کی دیکھ بھال میں ان کی مدد کر سکوں گی۔’ان کے مطابق ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چُکے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے ہر نوجوان کسی بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اپنا مستقبل محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ تاہم ان کے تعلیمی ریکارڈ اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔واضح رہے کہ زرعی یونیورسٹی کی جانب سے سال 2009ء میں میٹرک کے بعد ایف ایس سی پری ایگری کی دو سالہ ڈگری کا آغاز کیا گیا تھا جس کے لیے ایئرپورٹ چوک کے قریب کمیونٹی کالج بھی بنایا گیا ہے۔
ایئر پورٹ کے قریب واقع کمیونٹی ڈگری کالج کی عمارت
انتظامیہ کی جانب سے طلباء کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ اس کورس کے بعد ایگری انجینئرنگ اور ایگری سائنسز سمیت یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے دیگر چھبیس شعبوں میں ڈگری کے لیے اہل ہوں گے۔اس ڈگری میں طلباء کو سمسٹر سسٹم کے تحت سائنس کے علاوہ ایگریکلچر کے مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں مگر فیصل آباد ایجوکیشن بورڈ یا ہائر ایجوکیشن سے منظوری نہ ملنے کے باعث ان طلباء کو سرکاری نوکری، وظائف اور بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہیں مل پاتے۔زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن، ایگری انجینئرنگ کونسل اور پاکستان ویٹرنری میڈیکل کالج سے اجازت لیے بغیر کورس کا آغاز کیا تھا جس کے باعث اب یونیورسٹی کے علاوہ کوئی بھی ادارہ اس ڈگری کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔یاد رہے کہ زرعی یونیورسٹی کے طلباء نے ایف ایس سی پری ایگری کی ڈگری کی عدم تصدیق پر گزشتہ دنوں جیل روڈ کو مکمل طور پر بلاک کر کے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔ایم ایس سی آنرز ایگری سائنسز کے طالب علم محمد بلال لیاقت نے بتایا کہ انہوں نے 2010ء میں مذکورہ ڈگری پروگرام میں داخلہ لیا تھا اور 2016ء میں بی ایس ایگری سائنسز کی تعلیم مکمل کر لی لیکن وہ نہ تو اس کے بعد کسی دوسری یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے اور نہ ہی اب تک کوئی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
طلباء نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے جیل روڈ کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا
ان کا کہنا تھا کہ سال 2009ء سے لے کر اب تک تقریباً پانچ ہزار سے زائد طلباء ایف ایس سی پری ایگری کر چکے ہیں جو زرعی یونیورسٹی میں ہی زراعت کے مختلف شعبوں میں زیرِ تعلیم ہیں یا گھروں میں فارغ بیٹھے ہیں۔’کوئی بھی دوسرا تعلیمی ادارہ زرعی یونیورسٹی کی ڈگری کو تسلیم نہیں کر رہا۔ سات سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک طلباء کو اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔’بی ایس آنرز کے طالب علم فرحان ظفر نے سجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہر بار معاملہ اٹھائے جانے پر انتظامیہ کی جانب سے دلاسے دے دیئے جاتے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔”ایک یا دو نہیں، ہزاروں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انتظامیہ اس کے باوجود کچھ نہیں کر رہی اور اگر کچھ کر بھی رہی ہے تو اس حوالے سے متاثرہ طلباء کو آگاہ نہیں کیا جا رہا۔’واضح رہے کہ احتجاج کے روز یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلباء رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد ہیڈ آف سٹیٹ میجمنٹ ڈاکٹر فاروق کی جانب سے اس معاملے کو جلد حل کروانے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس تمام تر صورتحال کے حوالے سے سجاگ نے یونیورسٹی اتنظامیہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تو پبلک ریلیشنز اینڈ پبلیکیشنز کے انچارج شفقت ندیم نے بتایا کہ انتظامیہ اس حوالے سے پوری کوشش کر رہی ہے اور مسئلہ جلد ہی حل کر لیا جائے گا۔یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر جلال عارف نے کہا کہ مذکورہ ڈگری کی تصدیق کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں یونیورسٹی مکمل دلچسپی لے رہی ہے اور طالب علموں کو ان کا حق دلوایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے کیس تو دائر کیا گیا ہے لیکن اس کی پیروی میں دلچسپی نہ ہونے کے باعث عدالتی کارروائی تعطل کا شکار ہے اور ڈگری کی منظوری کا یہ مسئلہ مستقبل قریب میں حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

......
loading...

بشکریہ: سجاگ فیصل آباد

ہم سجاگ نیوز  فیصل آباد کے بے حد مشکور ہیں جو فیصل آباد کی مسائل پر ہمیشہ آواز اٹھاتے ہیں