ایک مفلس روزانہ ایک کاغذ پر لکھتا “یا اللہ مجھے پچاس ہزار روپے دیدے

ایک مفلس روزانہ ایک کاغذ پر لکھتا “یا اللہ مجھے پچاس ہزار روپے دیدے” اور ایک گیس والے غبارے کے ساتھ باندھ کر اڑا دیتا۔
اس کے گھر کے نزدیک واقع تھانے والے پُلسیئے اکثر اس کے غباروں کو پکڑ لیا کرتے اور اس کے سندیسے پڑھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے

۔ ایک بار انہوں نے سوچا، چلو اس کی مدد کرتے ہیں۔
سارے مل کر بمشکل پچیس ہزار روپے ہی جمع کر پائے

......
loading...

۔ پھر بھی پیسے لیکر اس کے گھر گئے اور کہا؛ یہ رہا تیرا رزق پچیس ہزار روپے

۔ ہمارے ہاتھ لگ گیا تھا تجھے پہچانے آئے ہیں۔
اس غریب نے پولیس والوں کو منہ پر تو کچھ نا کہا، شکریہ کہہ کر رکھ لیئے۔
اندر جا کر ایک کاغذ پر پیغام لکھا اور گیس والے غبارے کے ساتھ باندھ کر اڑا دیا۔ پولیس والے انتظار میں تھے،

پکڑ کر کاغذ دیکھا تو لکھا تھا:
یا اللہ تیری بہت مہربانی جو تونے میری سن لی۔ لیکن یہ تھانے والے بڑے بے غیرت ہیں، آدھے پیسے دبا گئے ہیں میرے۔