ایسی خواتین سے بچوں کی پیدائش ناجائز اور حرام بڑا فتوی آگیا

مختلف مکاتب فکر کے علما ئے کرام رائے کے مطابق طبی وجوہ کی بنا پر بچے کی پیدائش کا عمل مکمل کرانے کیلئے رضا کار کے طور پر کسی دوسری خاتون کی (صرف بچہ جنم دینے کیلئے )خدمات لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

اس عمل کے سماجی اور اخلاقی پہلو بھی بھیانک ہوسکتے ہیں اور جن ممالک میں اسے قابل عمل اور جائز قرار دے کر یہ عمل مکمل کرایا جارہا ہے ، وہاں سماجی مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ دین اسلام میں جو عمل حرام ہو اس کے نتائج کبھی اچھے ہو ہی نہیں سکتے۔

دوسری جانب ممتاز گائنا کولوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ علما کے فتوے کے مطابق یقیناً یہ عمل شرعاً ناجائز ہے ،تاہم طبی لحاظ سے یہ محفوظ عمل ہے اور اس سے حسب و نسب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق “سروگیٹ مدر” کے معاملے پر حالیہ دنوں میں شروع ہونے والی بحث پر رائے لینے کے لیے ملک کے معروف علمائے کرام سے پوچھا گیا کہ اسلام میں “رضا کار ماں” کی کیا گنجائش ہے۔۔؟ نیز اس کے سماجی اور اخلاقی نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔؟

تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے چیئرمین ، ممتاز عالم دین اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ گوکہ طبی لحاظ سے ایسا ممکن ہے اور جدید طبی اصطلاح میں اسے “رحم کرائے پر لینا ” کہتے ہیں،ایسی صورت جس میں نطفہ کسی اجنبی شخص کا ہو اور اسے کسی اجنبی خاتون کے رحم میں منتقل کرکے استقرار حمل اور بچہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ، حقیقتاً زنا نہ ہونے کے باوجود شرعاً حرام ہے۔

مفتی منیب الرحمن نے ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ رسول اکرم نے فرمایا ہے کہ “کسی شخص کا پانی (نطفہ) کسی دوسرے کی کھیتی (اجنبی عورت کے رحم) کو سیراب نہ کرے ”۔ انہوں نے مزید کہا کہ البتہ ناپسندیدہ عمل ہونے کے باوجود ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے کسی شوہر کا نطفہ اس کی حقیقی منکوحہ کے رحم میں کسی ماہر امراض نسواں خاتون ڈاکٹر کی مدد سے انجیکٹ کیا جاسکتا ہے۔

......
loading...

اجنبی مرد ڈاکٹر سے یہ خدمت لینا شرعاً ناجائز ہے۔ ممتاز عالم دین مفتی زبیر نے ان سوالات کے جواب میں کہا کہ شریعت کے احکامات کے مطابق شوہر کا نطفہ بیوی کے رحم میں ہی ہونا چاہیے ، رضا کار ماں کی خدمات لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس سے نسب کے اختلاف کا بھی اندیشہ ہے اور اب اس کے سماجی اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ 9 ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں پالنے والی رضا کار ماں کو اس بچے سے پیار ہو جاتا ہے۔ مفتی زبیر نے قرآن مجید کے حوالے سے ایک آیت کریمہ کا مفہوم بتاتے ہوئے کہا کہ سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا”۔

مفتی زبیر کے مطابق مستقبل میں اس کے اخلاقی مسائل بھی سامنے آئیں گے جن میں میراث، نسب وغیرہ نمایاں ہونگے۔ جدہ میں او آئی سی کے اجلاس میں اسلامی ممالک کے سکالرز اسے متفقہ طور پر ناجائز قرار دے چکے ہیں۔ ممتاز شیعہ عالم علامہ حسن ظفر نے اس موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے اسے قطعاً حرام اور ناجائز عمل قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حرام کام کے نتائج بھی معاشرے میں فساد برپا کرتے ہیں۔ وراثت کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں ، اس لیے شیعہ علما اسے پہلے ہی شرعی لحاظ سے حرام اور ناجائز عمل قرار دے چکے ہیں کیونکہ جو عورت نکاح میں ہی نہیں ہے وہ کس طرح ایک غیر مرد اور غیر عورت کے بچے کو اپنے رحم میں پال سکتی ہے۔ اس عمل کے نتائج بھیانک ہی ہونگے۔

دریں اثنا اس سلسلے میں جب ممتاز گائنا کولوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کی رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ شرعی نقطہ نظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو طبی لحاظ سے یہ ایک محفوظ عمل ہے ، نسب بدلنے کا رتی برابر امکان نہیں ہے ، اس لیے جن مذاہب میں پابندیاں نہیں ہیں وہاں یہ طریقہ رواج پارہا ہے ، کیونکہ میڈیکل سائنس میں مجبور ماں کو مریض کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کلکتہ میں بعض خواتین اس عمل کا 10 ہزار ڈالر معاوضہ لیتی ہیں۔ سنگا پور میں بھی ایسی خواتین ہیں جو بھاری معاوضے کے عوض رضا کار ماں بن رہی ہیں۔

نیچے شئیر کا بٹن  دبا کر اس کو اپنے تمام فیس بک فرینڈ تک پہنچائیں