پردیس کی زندگی

پیارے ابو اور امی جان…

مجھے آج سعودیہ میں پانچ سال ختم ہوگئے ہیں اور میں اگلے ماہ وطن واپسی کی تیاری کر رہا ہوں ویزہ کے لیے جو قرض لیا تھا وہ بھی اتر گیا ہے اور کچھ تھوڑے پیسے بھی ہیں شاپنگ کے لئے
کوئی خاص رقم تو نہیں مگر میری صحت ٹھیک ہے میں پاکستان میں کوئی نوکری کرلوں گا وہاں کوئی بھی چھوٹا موٹا کام کرلوں گا تو گھر کا گزارہ چلے گا اب میرا یہاں دل نہیں لگتا تھک گیا ہوں آپ کی کیا رائے ہے؟؟؟
آپ کا پیارا بیٹا۔۔۔۔۔۔

خط کا جواب….

پیارے بیٹے تمہارا خط پڑھ کر بہت خوشی ہووئ چھٹی پر آرہے ہو ست بسم اللہ لیکن تمہیں پتہ ہے ہمارا گھر پرانا ہے برسات آتی ہے تو پانی چھت پر ٹپکتا ہے اور یہاں آ کر محدود رقم سے کیسے گھر بنے گا کیوں نہ سیمنٹ کنکریٹ سے بنا گھر ہو آج کل پکا گھر ضروری ہے خیر گھر کا ذکر ہم باتوں باتوں میں کر بیٹھے جیسے تمہاری مرضی…..
تمہارے ابو اور پیاری امی …..

بیٹے کا خط….

پیارے ابو امی جان …
میں حساب لگا رہا تھا آج مجھے دس سال ہوگے ہیں بہت تھکا تھکا رہتا ہوں یہاں صحرا میں کوئی سہارا نہیں دل نہیں لگتا گھر بھی بن گیا قرضے وغیرہ بھی اتار دیے اب دل کر رہا یے ملازمت چھوڑ کر وطن آجاوں پہلے والی ہمت بھی نہیں رہی مجھ میں ٹیکسی چلا کر گھر کا خرچہ کروں گا اس ریگستان میں دل نہیں لگتا بچوں کے ساتھ رہنا چاہتاہوں آپ کی کیا رائے ہے..؟؟؟
آپ کا پیارا بیٹا۔۔۔۔۔

امی ابو کا خط..

پیارے بیٹے آپ کا خط ملا ہم بہت روئے آپ کی باتیں پڑھ کر آپ لڑکپن سے پردیس گئے ہمیں بھی تمہاری یاد آتی ہے پر بیٹا تمہاری چھوٹی بہن کا بیاہ کرنا ہے اس کے لے کچھ رقم چاہئے تاکہ سر بار اترے ہم سکون میں آئیں ہم تم پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہئتے بیٹا ناراض نہ ہونا…
آپ کے ابو اور امی …..

بیٹے کا خط….

پیارے ابو اور امی جان میں پردیس میں روز گدھے کی طرح کام کرتا ہو ں یہاں پر کوئی سکون نہیں ہے خود کا کھانا بنانا خود کپڑے دھونا روز صحرا کی دھول چاٹنا اب میں بیمار سا رہتا ہوں گھر بھی بن گیا ہے بہن کی شادی ہوگئی ہے اب اور پردیس میں نہیں رہنا وہاں کچھ کریں گے جو نصیب ہوگا۔۔
آپ کا پیارا بیٹا۔۔۔

......
loading...

امی ابو کا خط….

پیارے بیٹے مرید تمہارا خط پڑھا دیر تک روتے رہے اب بس تم پردیس میں مت رہنا تمہاری بیوی کچھ کہنا چاہتی ہے …..

بیوی۔۔۔

سلام جی میں نے کبھی آپ کو کسی کام کے لے مجبور نہیں کیا لیکن آج کچھ کہنا چایتی ہوں ہمارا چھوٹا بچہ یے میں ہوں تم ہو کب تک تم ماں باپ کے گھر میں رہوگے اور تمہارا چھوٹا بھائی بھی اسی گھر میں ریے گا کیسے ہمارا گزارہ ہوگا سوچو کیوں نہ ہمارا گھر علیحدہ ہو… تو گھر بنانا باہر کی کمائی سے بنے گا کیونکہ یہاں تو مہنگائی بڑی ہے سریا اینٹیں سیمنٹ مہنگا یے اس لیے آپ کچھ دن گزارہ کریں باقی میں آپ کو زیادہ پریشان نہیں کرتی تم خود سوچ لو…
آپ کی پیاری بیوی۔۔۔۔

خاوند کا خط..

پیاری شریک حیات…
انیس سال ختم ہوگئے بیسواں لگنے والا ہے اب تو ہمارا اپنا گھر مکمل ہوگیا ہے قرضے وغیرہ بھی نہیں ہے اب تو میری کمر ہر کام سے سیدھی ہوگئی ہے اور میری نوکری بھی ختم ہونے والی ہے کمپنی ریٹارئنمٹ دینے والی ہے طبیعت بھی خراب ہے اب تو دوست رشتہ دار کئی پیارے کوچ کرگئے ہوں گے مجے پتہ تک نہیں سر میں چاندی آگئی ہے روز ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں ریٹائرمنٹ کا کچھ فنڈ ملنے والا ہے میں بھی آنے والا ہوں اب میں اپنے بچوں کے ساتھ رہوں گا
تمہارا شریک سفر…

اب مرید نے سارے کام نمٹا دیے گھر بھی بنا لیا بہن کی شادی کی قرض اتارے بیٹے کی پڑھائی کے لیے رقم بھیجی بیٹی کی شادی کی زندگی کے 25سال پردیس میں گزارے اب وہ خود کو ائیر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔۔۔۔

شوگر بلڈپریشر السر درد بخار گردے و کمر کا درد اور جھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھی۔۔۔۔

اچانک جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا خیال آیا دیکھا تو وہ ایک خط تھا جس کو اس نے ابھی تک کھولا نہیں تھا

یہ پردیس کی زندگی کا پہلا اور آخری خط تھا جسے مرید نے کھولا نہیں تھا۔۔۔