Thapad ki Gonj

تعلیم سے فراغت کے بعد ایک بیکری میں کچھ عرصہ سیلز مین رہا، جس بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر وہ بیکری تھی، اس کی بالائی تین منازل رہائشی تھیں، روز صبح ایک بوڑھی خاتون بیکری، فلیٹس اور ملحقہ دکانوں کی صفائی کرنے آتی، فرش پر تپڑی مارتی اور جھاڑو وغیرہ لگاتی، بیکری کے مالک بہت نیک اور پرہیز گار انسان تھے، وہ اور ان کا بیٹا صبح بیکری کھولتے، تھوڑی دیر بعد بیٹا وہیں سے کالج چلا جاتا۔ ایک دن بزرگ خاتون کے ہاتھ پر چوٹ لگی تھی اور پٹی بندھی ہونے کے باوجود خون رس رس کر باہر آ رہا تھا۔ میں نے مالک کے دھیان دلانے پر فرسٹ ایڈ بکس سے سامان نکال کر ان کے ہاتھ پر تازہ پٹی کر دی، لیکن خون پھر بھی نہیں رُکا۔ بیٹا میں شوگر کی مریضہ ہوں۔

خاتون نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا تو جیسے میرے پورے وجود میں سنسنی دوڑ گئی۔ اس کی بات شاید بیکری کے مالک نے بھی سن لی، وہ فوراً کاؤنٹر کے پیچھے سے نکلے اور بزرگ خاتون کو کچھ پیسے دیتے ہوئے کہا کہ فوراً ڈسپنسری جائے اور دوا لے۔ مالک کا لا ابالی بیٹا کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اُس نے غصے میں کہا: ارے اتنی ہی بیمار تھی تو چھٹی کر لیتی، خون سے سارا فرش بھی گندا کر دیا اور وقت بھی الگ ضائع کیا۔ وہ شاید اس سے آگے بھی کچھ کہنا چاہتا تھا کہ چٹاخ کی زور دار آواز میں اس کی منمناہٹ دب کر رہ گئی۔ باپ کا تھپڑ کچھ زیادہ ہی زور سے لگا تھا۔ اس وقت بیکری میں چند گاہک بھی کھڑے تھے، میں حیران تھا کہ مالک کو یہ اچانک کیا ہوگیا کہ ذرا سی بات پر سب کے سامنے جوان بیٹے کو ایک ایسی بات پر تھپڑ لگا دیا جس میں بظاہر کوئی ایسی غصے والی بات نہ تھی۔ بیٹا آگے سے کچھ نہ بولا اور کچھ دیر تک خاموش رہنے کے بعد ہمیں سلام کر کے دکان سے نکل گیا۔ وہ خاتون بھی اس دوران وہاں سے جا چکی تھیں۔ میں نے جلدی سے گاہکوں کو فارغ کیا اور جب دکان میں ہمارے علاوہ کوئی نہ رہا تو ہمت کر کے مالک سے پوچھا کہ آخر اس نے اتنی سی بات پر جوان بیٹے پر ہاتھ کیوں اٹھایا

......
loading...


یہ ذرا سی بات نہیں تھی بیٹا۔ مالک یہ کہہ کر آبدیدہ ہو گیا۔ اب تو میں اور زیادہ حیران ہوا، آخر اس بزرگ خاتون کا مالک سے ایسا کیا رشتہ تھا کہ اُنھوں نے اپنے بیٹے کو بھی نہ بخشا اور اب آنسو بھی بہا رہے تھے۔ میرا ذہن اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ مالک کی ڈبڈباتی ہوئی آواز میری سماعت کو مرتعش کرتی چلی گئی، وہ سرسراتی ہوئی دھیمی آواز آج بھی میرے کانوں میں پورے زور سے گونجتی ہے، چند ماہ بعد میں نے وہ ملازمت چھوڑ دی لیکن بیکری کے مالک کی سرسراتی ہوئی آواز نے میرا پیچھا نہ چھوڑا، اور اب میں جب بھی کسی کمسن ملازمہ کا سوجا ہوا چہرہ دیکھتا ہوں ، وہی سرسراتی ہوئی آواز میری سماعت میں اپنے نوکیلے پنجے گاڑ دیتی ہے:

۔۔۔۔ بیٹا میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پالا تھا