کیا یاجوج ماجوج کا ظہور ہو چکا ہے ؟ بڑا انکشاف

مییری یہ عادت ہے کہ میں کلاس میں پڑھانے کے بعد پیریڈ کے آخر میں سوالات کا موقع ضرور دیا کرتا ہوں۔ آج بھی جب طلبا کو سوالات کرنے کی اجازت دی تو حافظ عمر بول پڑا۔ ’’سر! یہ یاجوج ماجوج کون تھا؟‘‘ اس کے سوال پر میں بے اختیار مسکرا دیا۔ دراصل مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا تھا۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ ایک صاحب سے تاریخ گفتگو چل نکلی۔ موضوع تو مجھے یاد نہیں، بس یہ بات ذہن میں رہ گئی کہ مجھے کہنے لگے کہ قرآن میں حضرت کہف علیہ السلام کا جوواقعہ آیا ہے اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ میں ہنس دیا کہ ’’کہف‘‘ کسی شخصیت کا نام نہیں بلکہ قرآن مجید کی ایک سورہ کا نام ہے۔ اس کا مطلب ہے ’’غار‘‘۔ اس سورہ میں غار والے نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح حافظ عمر نے بھی یاجوج ماجوج کو ایک شخص قرار دیا حالاں کہ یہ حقیقت نہیں۔ میں نے کہا کہ یقیناًآپ نے یاجوج ماجوج کے متعلق وہ کہانی سنی ہو گی جو مذہبی قصے کہانیاں سنانے والے سناتے ہیں۔
حافظ عمر ایک لائق طالب علم تھا، اس نے واقعی یہ قصہ سنا ہوا تھا۔ مگر کلاس کے باقی لڑکے اس سے واقف نہ تھے۔ چناں چہ پوری کلاس نے فرمایش کر ڈالی کہ ہمیں بھی یہ دلچسپ قصہ سنایا جائے۔ تب میں نے بتایا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک نیک دل بادشاہ (جس کا نام قرآن مجید میں ’’ذوالقرنین‘‘ آیا ہے) کی حکومت میں لوگوں کو ایک وحشی قوم تنگ کرتی تھی۔ بادشاہ نے اس وحشی قوم کو روکنے کے لیے ایک زبردست دیوار بنا ڈالی۔ یہاں تک تو بات بالکل درست ہے لیکن اس کے آگے کا قصہ بالکل فرضی ہے، جس کے مطابق یہ وحشی قوم جنوں کی قسم کی کوئی وحشی مخلوق ہے۔ یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی اس دیوار کو زبانوں سے چاٹتی رہتی ہے۔ دیوار چاٹ چاٹ کر اسے کاغذ یا پیاز کے چھلکے کی مانند کر دیتی ہے مگراسے ختم کرنے کی نوبت نہیں آتی کیونکہ اس وقت تک یہ وحشی مخلوق تھک جاتی ہے اور رات ہو جانے کے سبب انہیں نیند آجاتی ہے۔ تب یہ کہتے کہ چلو باقی دیوار کل صبح چاٹ لیں گے۔ لیکن ایسا کہتے وقت وہ، ان شاء اللہ نہیں کہتے اور سو جاتے ہیں۔ اگلے دن وہ اٹھتے ہیں تو دیوار پہلے کی طرح ہو جاتی ہے اور وہ اسے دوبارہ سے چاٹنے لگتے ہیں۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیکن قیامت کے قریب ایک رات سونے سے پہلے وہ یہ ان شاء اللہ کہہ دیں گے، پھر اگلے دن دیوار اسی طرح انہیں ملے گی جیسی انہوں نے چھوڑی تھی۔یعنی پیاز یا کاغز کی طرح باریک! اس دن وہ جلدی سے باقی کی دیوار بھی چاٹ لیں گے اور یوں یہ وحشی درندے دیوار ختم ہو جانے پر دنیا پر حملہ کر دیں گے اور تباہی و بربادی برپا کر دیں گے۔‘‘ اس کہانی پر کلاس کے لڑکے بہت لطف اندوز ہوئے۔ فواد کہنے لگا: ’’سر آپ نے کہا ہے کہ یہ محض ایک غیر حقیقی روایت ہے، حقیقت کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’حقیقت جتنی سادہ ہے، اتنی ہی دلچسپ ہے اور یہ قرآن مجید کے سچا ہونے کی ایک زبردست دلیل بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ قرآن کا ایک معجزہ ہے!‘ میری اس بات نے کلاس میں موجود ہر لڑکے کو چونکا دیا۔ میں نے جب تمام لڑکوں کواس موضوع میں دلچسپی لیتے محسوس کیا تو اپنی بات آگے بڑھائی۔ میں نے کہا: ’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے۔چنانچہ جب ان کی قوم نے ان کی رسالت کا انکار کیا تو ایک عظیم سیلاب نے ان کا انکار کرنے والے کافروں کا نام و نشان مٹا ڈالا۔ اس سیلاب سے حضرت نوحؑ کے ہمراہ وہی لوگ زندہ و سلامت رہے تھے جو آپ پر ایمان لائے تھے۔ ان لوگوں میں حضرت نوحؑ کے تین بیٹے بھی تھے۔ ان کے نام یہ تھے۔ سام، حام اور یافث۔ ان میں سے یافث کے دو بیٹے جو زیادہ مشہور ہوئے ، ان کے نام ’’یاجوج‘‘ اور ’’ماجوج‘‘ تھے۔

ان دونوں بھائیوں نے وسطی ایشیا کے علاقے کو آبادن کیا۔ بابرنے سوال کیا: ’’سر، یہ وسطی ایشیا میں کون سے علاقے پائے جاتے ہیں؟‘‘
میں نے بتایا کہ روس کے وہ علاقے جو ایشیا میں آتے ہیں، وسطی ایشیا کہلاتے ہیں۔ ‘‘ میں بابر کے سوال کا جواب دینے کے بعد کچھ لمحے رکا تو سہیل بولا: ’’سر، اس کا مطلب ہے کہ یاجوج ماجوج کسی ایک بندے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک قوم کا نام ہے۔‘‘ ’’بالکل درست اور یہ قوم نہ صرف وسطی ایشیا میںآباد ہوئی بلکہ انہی کی اولاد یورپ کے علاقوں میں بھی پھیل گئی۔‘‘ جیسے ہی میری بات ختم ہوئی۔ حافظ عمر نے حیرت بھری آواز میں کہا: ’’سر، اس کا یہ مطلب ہوا کہ یورپ اور روس کے لوگ یاجوج ماجوج ہیں!‘‘ میں نے اس کے نتیجے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’بالکل درست ! اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کی سورہ انبیاء کی آیت 96 میں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بیان کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ: ’’یاجوج ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے (یعنی چاروں طرف سے) پل پڑیں گے۔‘‘ اس آیت میں واضح طور پر یاجوج ماجوج کے دنیا پر غلبے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور آج مادی طور پر یہی قومیں دنیا پر چھائی ہوئی ہیں!‘‘ لیکن سر! اس وقت تو امریکا دنیا کی ’’سپر پاور‘‘ سمجھا جاتا ہے مگر امریکا تو یورپ میں نہیں ہے!‘‘
یہ سوال واقعی اچھا تھا۔ میں نے اس سوال کی تعریف کی اور کہا: ’’شاید آپ کو معلوم نہیں کہ امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو یورپی اقوام نے دریافت کیا اور وہاں کے مقامی لوگوں کو یا تو ختم کر دیا گیایا انہیں اپنا غلام بنا لیاگیا۔جیسے امریکہ میں ریڈ انڈین مقامی لوگ تھے ، اب ان کی تعداد دوسری قوموں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ چنانچہ امریکا سمیت ان ملکوں میں انہی اقوام کی حکمرانی ہے، جنہیں قرآن مجید یاجوج ماجوج کہتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ یاجوج ماجوج کا یہ غلبہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

......
loading...

اس سے پہلے زیادہ تر حضرت نوحؑ کے بیٹے سام اور حام کی اولاد دنیا پرحکمرانی کرتی رہی ہے۔ جب قرآن مجید نے یاجوج ماجوج کے عروج کی پیش گوئی کی تھی، اس وقت یورپی اور روسی اقوام دنیا کی سب سے پس ماندہ، جاہل اور غریب قومیں تھیں لیکن جب صنعتی ترقی کا دور شروع ہوا تو زمانے نے کچھ ایسی کروٹ لی کہ یہی اقوام دنیا کی ترقی یافتہ اقوام بن گئیں! یوں تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ قرآن کی یاجوج ماجوج کے متعلق بات حرف بحرف سچ ثابت ہوئی ہے اور یہ قرآن کے’’ منزل من اللہ‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے نازل ہونے کا ایک اور ثبوت ہے!‘‘ ’’تو سر اس کایہ مطلب ہوا کہ اب قیامت بہت قریب ہے کیونکہ قرآن کے مطابق یاجوج ماجوج کو عروج قیامت کے قریب ملے گا!‘‘ تحسین کا سوال بھی بڑا اہم تھا۔ میں نے اس کے جواب میں کہا: ’’جی ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس وقت دنیا کے خاتمے کے قریب ہیں لیکن یہ قریب کتنا ہے، اس کو ہم برسوں میں نہیں ماپ سکتے ۔ہو سکتا ہے کہ یہ سینکڑوں صدیوں پر مشتمل ہو یا چند سو برسوں پر۔ کیونکہ قیامت کے بارے میں صحیح علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ ۔‘ ’’کیوں سر! جب قیامت کی ایک نشانی پوری ہو چکی ہے تو ہم یہ اندازہ کیوں نہیں لگا سکتے کہ قیامت کتنے برسوں کے بعد آئے گی۔‘‘ دانش نے بے تکا سا سوال کیا۔ میں نے کہا: ’’بھئی پہلی بات تو یہ ہے کہ قیامت کی اور نشانیاں بھی ہیں ۔ ابھی وہ پوری نہیں ہوئیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب پوری ہوں گی۔ دوسرا یہ کہ یاجوج ماجوج کے غلبے کی آخر حد کیا ہو گی؟ اس کے متعلق بھی ہم نہیں جان سکتے اور تیسرے یہ کہ قرآن میں یہ بھی آیا ہے کہ قیامت آنے کی ٹھیک ٹھیک خبر کوئی بھی نہیں دے سکتا کہ وہ کب آئے گی۔ اس لیے میں نے کہا کہ ہم اس ’’قریب‘‘ کو برسوں میں نہیں ماپ سکتے!‘‘
کلاس میں تھوڑی دیر خاموشی رہی، پھر ایک طالب علم بولا: ’’سر کیا کسی الہامی کتاب میں بھی یہ موجود ہے کہ یاجوج ماجوج کی قوم ان علاقوں کی طرف چلی گئی تھی ، جن کا ذکر آپ نے کیا ہے؟‘‘ ’’ہاں بالکل ! موجودہ بائبل میں ایک نبی ’’حزقی ایل‘‘ کے صحیفے میں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ روش، مسک توبل میں یاجوج کی حکومت تھی اور وہاں ’’حزقی ایل‘‘ پیغمبر کو بھیجا گیا اور اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں۔ روس کا پرانا نام روش تھا، ماسکو کو مسک کہتے ہیں اور توبل کا موجودہ نام ’’توبالسک‘‘ ہے۔ جیسے ہی میری بات مکمل ہوئی ۔ پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور میں سٹاف روم کی طرف قدم بڑھانے لگا۔ اگلے دن جب میں کلاس میں گیا تومعمول کے خلاف کلاس میں خاموشی کے بجائے لڑکے کھسر پھسر کر رہے تھے۔ میں نے رجسٹر پر حاضری لگانے کے بجائے، عینک اتار کر کلاس پر ایک بھر پور نگاہ ڈالی تو خاموشی چھا گئی۔ بہر کیف میں نے تاڑ لیا کہ کچھ معاملہ ضرور ایسا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہے ۔ چنانچہ میں حاضری لگانے کے بعد آج کے موضوع پر گفتگو شروع کرنے ہی والا تھا کہ ایک لڑکا کھڑا ہوگیا اوربولا سر آپ نے کل یاجوج ماجوج کے بارے میں جو باتیں بتائیں تھیں یہ آپ کی ’’تحقیق‘‘تھی یا کوئی اور بھی اس ضمن میں یہی موقف رکھتا ہے۔‘‘ مجھ پر کلاس کی کھسر پھسر واضح ہو گئی تھی۔ سوال پوچھنے والے کا لہجہ بھی قدرے تند تھا بلکہ لفظ ’’تحقیق ‘‘طالب علم نے طنزیہ انداز سے کہا تھا۔ لیکن میں نے اس سارے تاثر کا کوئی نوٹس نہ لیا اوربولا: ’’عزیز طلبہ ، براہ کرم میرے بارے میں یہ بات نوٹ کر لیں کہ میں ہر گز کوئی محقق نہیں ہوں، بلکہ ایک طالب علم …ایک ادنیٰ طالب علم …جو ہر لمحہ اپنی غلطی دور کرنے اور نئی بات سیکھنے کے لیے متوجہ رہنے کی کوشش کرتا ہے …رہی کل کی بات تو جان لیں کہ یہ ہرگز میری تحقیق نہیں بلکہ یہ بات میں نے اپنے مطالعہ کی بنیاد پر کہی ہے۔ چنانچہ ابن کثیر، ابن اثیر اور ان کے استاد ابن تیمیہ نے صاف لکھا ہے کہ تاتاری یعنی چنگیز خاں ’’یاجوج ماجوج‘‘ی کی اولادہی ہے۔ انھوں نے بھی وہی دلائل بیان کیے ہیں جن کا میں نے ذکرکیا ہے۔ چنانچہ متعدد جدید مفسرین مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی وغیرہ نے بھی تاتاریوں کو یاجوج ماجوج یعنی حضرت نوح کے بیٹے یافث ہی کی اولاد قرار دیا ہے۔‘‘ میری یہ وضاحت سن کر وہ طالب علم بالکل خاموش ہوگیا58 بلکہ اس کے چہرے پراب شرمندگی کے آثار تھے۔ میں نے اسے کریدنا مناسب خیال نہ کیا۔ حالانکہ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ کسی نے اس طالب علم سے یاجوج ماجوج کے بارے میں مزید دلچسپ اور خود ساختہ قصے کہانیوں پر مشتمل باتیں بنائی ہوں گی۔

قارئین کی دلچسپی کی خاطر بتاتا چلوں کہ بعض اسرائیلی روایات (جنھیں ائمۂ احادیث فی الجملہ ضعیف قرار دیتے ہیں) میں مذکور ہے کہ جب ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار یاجوج ماجوج چاٹ لیں گے تووہ دنیا میں پھیل جائی گے اور ہر طرف تباہی وبربادی برپا کردیں گے۔ صرف وہی بچے گا جو کوئی ان کی غلامی قبول کرے گا۔…اسی طرح وہ تمام اہل اسلام کوقتل کردیں گے۔پھر یاجوج ماجوج کاسردار یہ کہے گا کہ میں اب مسلمانوں کے (نعوذباللہ) معبود کوبھی ختم کردوں گا۔ چنانچہ و ہ آسمان کی طرف تیر چھوڑے گا۔ یہ تیر خون میں ڈوبا ہوا نیچے آئے گا۔ تب وہ خوشی سے کہے گا کہ (نعوذباللہ )مسلمان کے خدا کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد اس پر آسمان سے عذاب نازل ہوگا اور ان کی گردنوں پر گلٹیاں بن جائی گیااور وہ سارے کافر تباو برباد ہو جائی گے۔ اس کے بعد مسلمانوں کادوبارہ عروج ہو گا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اگر اسی طرح مان لی جائے تو بہت سے لاینحل سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ تمام قابل ذکر اہل علم اس کی تشریح میں وہی بات بیان کرنے ہیں جن کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے۔ اور اس تشریح کی روشنی میں عظیم پیشین گوئی معجزاتی طور پر اس کے سچا ہونے کے دلیل ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں سوائے سوالات اور الجھنوں کے جنگل میں بھٹکنے کے اور کوئی صورت نہیں ہے۔