آج گھر سے نکلا تو دوپہر ہو چکی تھی سورج اپنی دہشت گردی پر اتر آیا تھا

آج گھر سے نکلا تو دوپہر ہو چکی تھی سورج اپنی دہشت گردی پر اتر آیا تھا، گرمی میں بنا ہیلمٹ کے بائیک چلانا اور بھی محال ہو چکا تھا، سوچا ایک عدد ہیلمٹ خرید لیا جائے،ہیلمٹ کی دوکان پر گیا، شیشوں میں رکھے ہیلمٹ بہت ہی پرکشش لگ رہے تھے، ایک سپورٹ بائکرز کا ہیلمٹ پسند کیا ریٹ پوچھا سولہ سو روپے کم کراتے کراتے ایک ہزار چار سو تک میں سودا طے پا گیا، بٹوا نکالا پیسے دینے لگا پر پیسے کچھ کم تھے، تو معزرت کر کے دوکاندار سے اے ٹی ایم کامعلوم کیا تو کہا روڈ کے اس پار جانا پڑیگا گھوم کر، خیر میں اے ٹی ایم سے کیش نکال کر واپس جانے لگا، تو روڈ سائیڈ پر ایک باریش بزرگ دھوپ میں ہیلمٹ کا اسٹال لگائے بیٹھا تھا،
میں ایک دم سے بادل نخواستہ رکنے پر مجبور ہوگیا، نیچے اترا سلام کیا، اور کہا کہ “بابا میں تو آگے دوکان سے ہیلمٹ خریدنے جا رہا تھا مگر آپکو اس عمر اور گرمی میں دیکھ کر نہ جانے کیوں دل نے کہا دوکان چھوڑو آپ اس بابا سے خرید لوں” .بابا کے چہرے پر ایک چمک آ گئی اور آنکھیں نم ہو گئی کہ بیٹا بہت مہربانی تم نے دل جیت لیا کچھ لو نا لو،،،وہی ہیلمٹ جو دوکان میں چھوڑ آیا تھا بابا سے کہا کتنے کا ہے؟؟؟ بابا نے کہا بیٹا جو تیرا دل کرے دے دو. ویسے ہم گیارہ سے پندرہ سو کا بیچتے ہیں، پھر بھی بابا کچھ تو قیمت لگاؤ؟؟ بیٹا سچ کہونگا کیونکہ تم نے بات ایسی کی سات سو پچاس کی میری خرید ہے تم جو دل کرے دے دو. میں اسرار کرنے لگا کہ بابا ایسا نہیں ہوگا آپ بتا دیں، وہ بھی اسرار کرنے لگا..پھر میں نے ہزار کا نوٹ پکڑا دیا.. تو اس وقت اور بھی حیرانگی ہوئی جب اسنے پھر سوال کیا کہ کتنے کاٹوں،؟؟؟میں نے کہا بابا پورے بھی رکھ لو تو مجھے خوشی ہوگی دکھ نہیں، توبابا نے مجھے سو روپے واپسی کر دیئے، مطلب چودہ سو روپے کی چیز نو سو میں دے دی،،
یہ چھوٹے لوگ بھی نا بہت بڑے دل والے ہوتے ہیں، پر ہم کبھی انکے دل کے اندر اترنے کوشش نہیں کرتے،کبھی ان ٹھیلے والوں سے بھی خرید لیا کرو کچھ، یہ آپ سے اے سی کے پیسے نہیں لیتے، یہ آپ سے بجلی کا بل اور نوکروں کی تنخوا نہیں لیتے، یہ آپ سے دوکان کا کرایہ بھی نہیں لیتے،”لیتے ہیں تو بس صرف اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی” ،، صرف اس نیت سے خریداری کر لیا کرو کہ ایک محنتی غریب کے گھر کا دیا جلتا رہے.
منقول
محمدسکندرجیلانی