جو لڑکیاں شادی سے پہلے یہ شرمناک کام کرتی ہیں، ان کی طلاق کا امکان بے حد زیادہ ہوتا ہے۔۔۔‘

حیا اور پاکبازی کسی بھی معاشرے کے وجود کے لئے بنیادی عناصر ہیں۔ اسی لئے دین اسلام نے عفت کی حفاظت کو لازم قرار دیا، مگر مغرب نے بالکل الٹ راستہ اختیار کرتے ہوئے بے راہروی اختیار کر لی اور اسے آزادی کا نام دے ڈالا۔ اہل مغرب نے ’آزادی‘ تو حاصل کر لی لیکن اس کے نتیجے میں خاندنی نظام تباہ و برباد ہو کر رہ گیا، اور اب اس کے ماہرین عمرانیات و نفسیات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ اس بربادی کی اصل وجہ کیا ہے۔میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہو تو شادی کامیاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟تحقیق سے جواب مل گیا
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف یوتاہ کے پروفیسر آف فیملی اینڈ کنزیومر سٹڈیز نکولس ولفنگر نے گزشتہ تقریباً نصف صدی کے اعدادوشمار کا مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ شادی سے پہلے جسمانی مراسم رکھنے اور طلاق کی شرح میں کیا تعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مغربی خواتین میں قبل از شادی مراسم رکھنے کی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی طلاق کی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے۔ گزشتہ 15سال کے اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ جن خواتین کے شادی سے قبل 10 یا زائد افراد سے تعلقات رہے تھے

......
loading...

ان میں طلاق کی شرح بھی عروج پر تھی۔ ان میں سے 33 فیصد کی شادی 5سال یا اس سے قبل ہی ختم ہوگئی۔ امریکہ جیسے معاشرے میں بھی ایسی خواتین موجود پائی گئیں جنہوں نے شادی سے قبل جسمانی تعلقات سے خود کو مکمل طور پر محفوظ رکھا تھا۔ ان میں دیگر تمام خواتین کی نسبت طلاق کی شرح کم پائی گئی، جو کہ 5فیصد تھی۔ پروفیسر ولفنگرکا یہ بھی کہنا تھا کہ جو خواتین مذہب کی جانب زیادہ رجحان رکھتی ہیں ان میں شادی سے قبل مراسم استوار کرنے کی شرح کم ہے، اور نتیجتاً طلاق کی شرح بھی کم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شادی سے قبل جنسی تعلقات اور بعدازاں ازدواجی زندگی کے استحکام کے درمیان تعلق ایک پیچیدہ معاملہ ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ جو خواتین شادی سے پہلے جنسی تعلق قائم کرتی ہیں ان میں طلاق کی شرح غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔