Siasi mukhlfat ki sza awam ko kyu ?

میری خواہش تھی کہ سیاست میں آ کر شہریوں کے مسائل حل سکوں، اسی لیے میں نے کونسلر کی نشست پر کامیابی کے بعد میونسپل کمیٹی کی چئیرمین شپ کا انتخاب لڑا لیکن ناکامی کے بعد اب اس کی سزا میرے حلقے کے عوام کو مل رہی ہے۔’یہ الفاظ جڑانوالہ میونسپل کمیٹی کے اپوزیشن لیڈر یاسر رضا ٹیپو کے ہیں جنہیں شکوہ ہے کہ چئیرمین میونسپل کمیٹی انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جڑانوالہ میں بلدیاتی انتخابات اکتیس اکتوبر 2015ء کو ہوئے تھے جن میں آزاد امیدواروں نے واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ تحصیل کی کل تیس نشستوں میں سے بیس پر آزاد اور نو پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف صرف ایک نشست جیت سکی تھی۔سترہ نومبر 2016 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جڑانوالہ کی دس مخصوص نشستوں میں سے آٹھ مسلم لیگ ن جبکہ دو آزاد امیدواروں کے حصے میں آئیں۔بائیس دسمبر کو ہونے والے چیئرمین شپ کے انتخابات میں یاسر رضا کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ رائے مصطفیٰ بابر کے درمیان مقابلہ تھا جس میں مصطفیٰ بابر نے ستائیس جبکہ یاسر رضا نے تیرہ ووٹ حاصل کیے تھے۔تاہم اب اپوزیشن لیڈر یاسر رضا ٹیپو نے الزام عائد کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات کی منتقلی کے بعد سے چئیرمین میونسپل کمیٹی نے ان سمیت ان کے حامیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہوا ہے۔ان کے بقول ‘نہ تو ہمیں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز دیئے جا رہے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمین کو ان کے حلقوں میں کام کرنے دیا جا رہا ہے۔’

......
loading...

ن تیرہ کونسلرز میں چوہدری شکور گجر، میاں شفیق، فیاض الحسن، محمد رضوان، رائے مشتاق، رانا عبدالمناف، قیوم گجر، علی تراب، یاسر رضا ٹیپو، مہر نوید، شفیق مرزا، ملک شاہد چنا اور مظفر پہلوان شامل ہیں۔کونسلر شفیق مرزا نے سُجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حزبِ اقتدار کی ان انتقامی کارروائیوں کے سبب کونسلرز اپنے حلقے میں تمام کام ذاتی خرچ سے کروا رہے ہیں۔ان کے بقول ‘بلدیہ کی جانب سے چند ہفتے قبل صفائی مہم شروع کی گئی لیکن خاکروبوں کو کہا گیا کہ اپوزیشن کے حلقوں میں صفائی نہ کی جائے۔ ایسی صورتحال میں ہم کریں تو کیا کریں؟’ان کا کہنا تھا کہ محلوں میں لگی خراب سٹریٹ لائٹ تک کو ٹھیک کرنے کوئی نہیں آ رہا۔ وہ خود الیکٹریشن کا کام جانتے ہیں اس لیے اب اپوزیشن کی ہر وارڈ میں جا کر ٹیوب لائٹس ٹھیک کر رہے ہیں۔یاسر رضا نے الزام عائد کیا کہ بلدیہ چیئرمین صرف مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے اراکین کو خوش کر رہے ہیں اور انہیں شہر کے مسائل کا کوئی احساس نہیں۔ان کے مطابق ‘بلدیہ جڑانوالہ کے لیے چودہ کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں لیکن ہمیں اس میں سے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا جو سراسر ناانصافی ہے۔’انہوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں جڑانوالہ سے رکنِ قومی اسمبلی طلال چوہدری سے بھی ملاقات کر چکے ہیں لیکن ان کی طرف سے بھی یہی جواب ملا کہ مسلم لیگ ن میں شامل ہو جاؤ تو فنڈز مل جائیں گے۔

اس حوالے سے جب وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی شیخ حبیب الرحمان سے بات کی گئی تو انہوں نے اپوزیشن کے تمام تر الزامات کی نفی کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور ذاتی تشہیر کے لیے سازش قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی جڑانوالہ کا چودہ کروڑ چھ لاکھ تین ہزار روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے جس میں سے ایک کروڑ چھتیس لاکھ روپے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رکھے گئے ہیں جبکہ بارہ کروڑ بیاسی لاکھ اکسٹھ ہزار روپے دیگر اخراجات پر صرف ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ماہانہ ترقیاتی گرانٹ چھتیس لاکھ اکسٹھ ہزار روپے جبکہ کل ترقیاتی گرانٹ دو کروڑ بیس لاکھ روپے ہو گی جو تعمیراتی کاموں پر خرچ کی جائے گی۔ تاہم ابھی ترقیاتی کاموں کے لیے کونسلرز کو فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔وائس چئیرمین کا کہنا تھا کہ تمام کونسلرز کو برابری کی بنیاد پر فنڈز دیئے جائیں گے اور اس سلسلے میں اپوزیشن اور حمایتی اراکین کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن ہر ایوان میں ہوتی ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کے مسائل حل نہ کیے جائیں۔ان کی کوشش ہو گی کہ تمام کونسلرز کے ساتھ برابری کا سلوک روا رکھا جائے۔

تحریر: محفوظ الرحمان
 بشکریہ  سجاگ نیوز ۔۔محفوظ الرحمان جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماس کمیونیکیشن میں گریجویٹ ہیں۔ بطور صحافی سُجاگ فیصل آباد کے ساتھ یہ اُن کا فیچر لکھنے کا پہلا تجربہ ہے۔