گستاخانہ مواد کیس وہ شخص جس کا نام اسلام آباد ہائیکورٹ نے ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیدیا ،یہ کون ہے ؟ جان کر مسلمان خوش ہو جائیں گے

اسلام آباد ہائی کورٹ میں گستاخانہ مواد کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر عدالت نے ایف آئی اے حکام سے کیس میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلات طلب کیں جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ متنازع پیجز کے حوالے سے 70 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، فیس بک انتظامیہ کے جواب کا انتظار ہے۔ (جاری ہے) ہ


ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا کہ امریکا میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کے لیے وکیل سے مشورہ کیا گیا ہے جب کہ انٹرپول سائبر ونگ سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے، اس کے علاوہ واشنگٹن میں ایک افسر کو بھی مقرر کیا گیا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کہانیاں نہ سنائیں، حساس معاملہ ہے، پیش رفت سے آگاہ کریں۔ پاکستان کا اپنا آئین موجود ہے یہاں ڈنمارک یا ناروے کا آئین نہیں چلے گا۔  (جاری ہے) ہ


عدالت نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا مقصد کیا ہے، جس پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کا مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔ عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ سائبر کرائم بل 2016 میں گستاخی سے متعلق کوئی قانون شامل نہیں کیا گیا، کون سی این جی اوز پاکستان کو سیکس فری سوسائٹی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے اپنا کام سرانجام دینے میں ناکام ہو چکی ہے، حساس اداروں کے افسران کو بھی تحقیقات کےعمل میں شامل کیا جائے، ہم ویلنٹائن کو رکوا سکتے ہیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں موجود ایک شخص ناصر سلطان نبوت کا دعویٰدار ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے ابھی صرف ملزم ہیں جن پر الزامات ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 22 مارچ تک ملتوی کردی۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں