آدمی اور سانپ: ایک دن ایک بچہ کھیل رہا تھا ۔اتفاق سے اس کا پائوں ایک سانپ پر جا پڑا ۔سانپ نے غصہ میں آکر اس بچہ لو کاٹ لیا ۔بچہ وہیں مرگیا۔بچے کا باپ رنجیدہ ہوااور

ایک دن ایک بچہ کھیت میں کھیل رہا تھا۔ اتفاق سے اس کا پاؤں ایک سانپ پر جا پڑا۔ سانپ نے غصہ میں آکر اس بچہ کو کاٹ لیا۔ بچہ وہیں مرگیا۔ بچے کا باپ اس واقعہ سے بہت رنجیدہ ہوااور ہاتھ میں ڈنڈالے کرسانپ کومارنے لگا اس کے پیچھے دوڑا۔ سانپ اپنے بل کی طرف بھاگا جب بل میں گھسنے لگا تو اس آدمی نے اتنی زور سے سانپ کو ڈنڈا مارا کہ اس کی دم کٹ گئی لیکن وہ آرام سے بل میں گھس ہی گیا دوسرے دن آدمی نے سوچا کہ اس سانپ کو مکروفریب سے ختم کیاجائے اور اپنا بدلہ پورا کیاجائے ۔ یہ سوچ کر وہ شہد آٹااور نمک بل کے پاس ڈال کربولا۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...


اے سانپ ! میں چاہتا ہو ہم تم دوبارہ آپس میں دوستی کرلیں اور دل میں جو نفرت پیدا ہوگئی ہے اس کو ختم کرڈالیں سانپ نے اندر ہی جواب دیا۔
اے دوست تم دوستی کرنے کے لیے زیادہ تکلیف نہ کرو (جاری ہے) ہ

اور پریشان مت ہوکیونکہ جب تک تم کواپنے مرے ہوئے بیٹے کی یاد اور تکلیف دل میں رہے اور مجھے اپنی کٹی ہوئی دم کا دکھ دل میں رہے گا۔ اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم آپس میں مل جائیں اور دوستی کرلیں ۔