بیوی کو خوش کرنے کے طریقے

بیوی اللہ رب العزت کا انعام ہے۔ جب آدم علیہ السلام کو جنت میں ایک ساتھی ہمسفر کی کمی محسوس ہوئی تو اللہ نے انعام کے طور پر اماں حوا کو تخلیق کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مرد کی زندگی عورت کے بغیر ادھوری ہے۔ بیوی اپنے گھر بار ، بہن بھائیوں ، سہیلیوں اور بہت سے عزیز رشتوں کو چھوڑ کر ایک پرائے دیس ، پرائے گھر آتی ہے۔ اس کو کچھ وقت چاہئے ہوتا ہے تاکہ وہ نئے ماحول کے ساتھ ایڈجسٹ کرسکے۔ شروع کے چند سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ جو مرد ابتدائی چند سال سمجھداری سے گزارتے ہیں، ان کی شریک سفر ہمیشہ اس کے ساتھ خوش و مطمئن رہتی ہے۔اس آرٹیکل پر ان باتوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی جو کہ آپ کی شریک سفر کو آپ سے مطمئن کردے گی ۔ (جاری ہے) ہ


بیوی کے لیے شوہر کی بہت اہمیت ہے۔ شوہر اگر چپ چاپ طبعیت کا ہے تو اسے اپنی عادت شادی کے بعد بدلنی چاہئے ، روکھا مزاج چھوڑ دینا چاہئے ۔ بیوی سے مختلف موضوعات پر خوبصورت گفتگو کو اپنے معمول کا حصہ بنانا چاہئے ۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ مرد صرف اہم باتیں ہی کرتے ہیں، باقی وقت وہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں مگن رہتے ہیں۔ اس موبائل فون نے ازدواجی تعلقات کو خراب کرکے رکھ دیا ہے۔ کچھ ووقت تو ایسا ہو کہ جب اس ٹیکنالوجی سے نظریں ہٹا کر ایک دوسرے کو بھرپور وقت دیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں ، کیونکہ ساری ذمہ داریوں کا بوجھ مرد کے کاندھوں پر ہوتا ہے ۔ ایسے میں بیوی کے لیے الگ سے چیزیں خریدنا دشوار ضرور ہوتا ہے مگر بیوی آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپکو چاہئے کہ احسن انداز سے بیوی کے خرچ کا بندوبست کریں۔ تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق خود بھی خرچ کرسکے بجائے کہ وہ تنگدست ہوکر رہ جائے ۔ سیرکی عادت اپنائیں۔ سیر جسمانی صحت کے لیے تو مفید ہے ہی ساتھ یہ خوشگوار ازدواجی تعلقات کا سبب بھی ہے۔ بیوی کیساتھ کبھی کبھی باہر سیر کو جانا ، کھانا کھانا، بیشک زیادہ مہنگا نہ ہو ۔ مگر بیوی کو خوشی کے جذبات سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ اپنے سسرالی رشتے داروں کی عزت کیجئے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد عورت کو نیچا دکھانے کے لیے اس کے میکے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے عورت کے دل میں مرد کی عزت کم ہوجاتی ہے۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...


میاں بیوی کا رشتہ صرف جنسی تسکین کا رشتہ نہیں ہے۔ یہ تو جانور بھی کرلیتے ہیں۔ بلکہ یہ ضرورتوں اور ذمہ داریوں اور آپس کے احساس کا رشتہ بھی ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ امہات المومنین کو خوش کرنے کے لیے کیا کیاکرتے تھے۔ کھانا پکانے میں ہاتھ بٹاتے۔ دوڑ لگاتے ۔ ہلکہ پھلکا مزاح بھی کرتے تھے ۔
بیوی کو خوش رکھنے والا ہی کامیاب مرد کہلاتا ہے ۔ عورت کی عقل ناقص ضرور ہے ۔ کئی بار چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ضد پکڑ لیتی ہے ۔ نخرے کرنے لگتی ہے ۔ مگر ایسے میں بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اگر زبردستی کریں گے تو عورت کو توڑ دیں گے ۔ عورت کی فطرت بدلی نہیں جاسکتی ۔ وہ اس فطرت کے ساتھ ہی خوبصورت لگتی ہے ۔ ناز نخرے اٹھانا شوہر کی ذمہ داری ہے ۔ شوہر نہیں اٹھائے گا تو کون اٹھائے گا؟