ایک آدمی کے دو بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ،بیٹا اور بیٹی بدصورت تھی ایک دن بیٹا بہت دیر تک آئینے میں

ایک آدمی کے دو بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ بیٹا بہت خوبصورت تھا اور بیٹی بہت بد صورت تھی۔ وہ دونوں جوان تھے۔ ایک دن ایک آئینے کے پاس جو ان کی ماں کی میز کے پاس رکھا ہوا ھا۔ بیٹھے ہوئے تھے اور گفتگو کر رہے تھے۔ بیٹا اس عجیب و غریب چیز میں پہلی مرتبہ اپنی شکل دیکھ کر بہت تعجب میں پڑ گیا اور خوش بھی ہوا اور بہت دیر تک اپنی شکل دیکھتا رہا آخر کار شوخی سے اپنی بہن سے کہنے لگا دیکھو میں کتنا خوبصورت ہوں اس کی بہن اس کی اس بات سے بہت ناراض ہوئی (جاری ہے) ہ

وہ یہ سمجھی کہ میرے بھائی نے میری تحقیر اور بے عزتی کی ہے ۔ یہ سوچ کر وہ دوڑی دوڑی اپنے باپ کے پاس گئی اور بولی اے ابا ! آئینہ دیکھنا اور بناؤ سنگھار کرنا عورتوں کا کام ہے۔ میرا بھائی عورتوں کی طرح خود کو آئینہ (جاری ہے) ہ

......
loading...


میں دیکھتا ہے۔ یہ کام اس کو بالکل زیب نہیں دیتا۔ باپ نے یہ سن کر دونوں کو اپنے پاس بلایا۔ گلے لگایا پھر یوں مخاطب ہوا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں ہر روز آئینہ میں اپنی شکل دیکھا کرو۔ اے بیٹے ! اگر آئینہ میں تجھے اپنی شکل خوبصورت نظر آئے تو خبردار ہو کہ بد تمیزی اور بد اخلاقی سے تمہاری اچھی صورت کو دھبہ نہ لگے۔ پھر بیٹی سے کہا اے بیٹی ! اگر تو اپنی شکل و صورت میں کوئی کمی دیکھے تو تجھے چاہیے کہ اچھے چال چلن، اعلیٰ اخلاق اور بہترین گفتگو سے اس کو چھپائے اور نیک پروین کہلائے۔