گجرات کے شہری یورپ کیوں جانا چاہتے ہیں ؟چاہے غیر قانونی راستہ ہی کیوں نہ ہو؟ ایسی رپورٹ جو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے

گجرات کے لاکھوں لوگ غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ غیر ملکی جریدے ڈی ڈبلیو کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ناروے، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی يورپی ملکوں میں پاکستانی ضلع گجرات کے باسی آباد ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ غیر قانونی طور پر اور بہت سے خطرات مول لے کر ان دنوں یورپ جانے والے تارکين وطن میں بھی بڑی تعداد گجرات کے شہریوں کی ہے۔پاکستان میں ضلع گجرات کے علاقے کھاریاں کو تو ’منی یورپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سرائے عالمگیر، گجرات، لالہ موسٰی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں ایسے گھرانے موجود ہیں،  (جاری ہے) ہ

جن کے رشتہ دار، عزیز اور قریبی جاننے والے یورپ میں آباد ہیں۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ پاکستانی ضلع گجرات ميں بڑی صنعتوں کی عدم موجودگی کے سبب مقامی افراد غير قانونی طريقے سے يورپ کا رخ کرتے ہيں۔کئی ملین کی آبادی والے ضلع گجرات اور اس کے مضافاتی علاقوں سے یورپ جانے والے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ تعداد قريب تین لاکھ ہے۔ گجرات میں بڑی زمینیں اور بڑی صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ چھوٹے کاشتکاروں کے لیے اس بارانی علاقے میں کاشتکاری کر کے گھر چلانا بہت مشکل ہے۔ جبکہ لوگ بیرون ملک سے آنے والے افراد کو جب یہاں کھلا پیسہ خرچ کرتے دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی بیرون ملک جانے کی خواہش مچلنے لگتی ہے۔  (جاری ہے) ہ


ایسے لوگوں کو ٹریل ایجنٹس کی مافیہ بھی ورغلا کر غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کیلئے راضی کرتی ہے اور انہیں اس طرح لوٹ لیا جاتا ہے۔ جبکہ بعض لوگ دشمنیوں کی وجہ سے بھی یورپ منتقل ہو جاتے ہیں۔ تاہم پاکستان سے یورپ جانے والے لوگوں کو بعد ازاں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یورپ میں پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش کا پاکستان میں تاخیر سے اندراج، ان کی غیر موجودگی میں جنم لینے والے جائیداد کے جھگڑے اور یورپ اور پاکستان میں پائے جانے والے ثقافتی فرق کی وجہ سے ايسے افراد کو اپنی بچیوں کی شادی کے معاملے تک ميں بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اہرین کا خیال ہے کہ گجرات کے باسیوں کے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے رحجان کو روکنے کے لیے آگہی مہم چلانے، نوجوانوں کے لیے قرضہ اسکیم شروع کرنے اور نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں