بی اماں بچوں کو سپارہ پڑھاتی تھیں اور غصے کی بہت تیز عورت تھیں اس وجہ سے بچے ان سے بہت ڈرتے تھے سکینہ ان سے بہت ہی خار کھاتی تھی ایک دن بی اماں نے اسے اپنے گھر کسی کام سے بلایا اور جب وہ وہاں پہنچی تو دل کو جھنجھوڑ دینے والی کہانی

اب اُٹھ بھی جاؤ سکینہ! دیکھ سورج سر پر آنے کو ہے اور تم ابھی تک بے ہوش پڑی ہو ۔ ۔ امی نے تیسری بار سکینہ کو اٹھانے کیلئےآواز دی ۔ ۔ ”امی میں نہیں جاؤں گی سپارہ پڑھنے ۔ ۔ مجھے نہیں پڑھنا بی اماں سے ۔ ۔ میں گھر پر آپ سے ہی پڑھ لونگی ۔ ۔سکینہ نے کسمندی سے جواب دیا” ۔ ۔ ”لو اور سن لو!! میری آواز پر تو تیری آنکھ نہیں کھلتی ۔۔۔۔ مجھ سے سپارہ کیسے پڑھے گی ۔ ۔ آخری بار کہہ رہی ہوں شرافت سے اٹھ جاؤ اور وضو کرکے سپارہ پڑھنے جاؤ ۔ ۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ”۔ ۔امی نے ڈانٹ کر جواب دیا۔ سکینہ سستی سے اٹھی اور پاؤں گھسیٹتی ہوئی غسل خانے کی طرف چلی گئی ۔ ۔ بی اماں کے پاس سپارہ پڑھنے سے اُسکی ہمیشہ جان جاتی تھی ۔ ۔ پڑھنے لکھنے میں تو وہ ہوشیار تھی۔ اس لیے اس حوالے سے اُسے کبھی مشکلپیش نہ آئی تھی لیکن بی اماں سے وہ ویسے ہی خارکھاتی تھی۔ بی اماں تیزمزاج کی مالک ایک کرخت قسم کی خاتون تھیں۔۔اوپر سے انکا ہاتھ بہت چلتا تھا۔۔بات بات پہ دو ہتھڑجڑ دیتیں۔اکثر شرارت کوئی اور کرتا اورشامت کسی اور کی آجاتی کیونکہ انہوں نےکبھی تحقیق کرنے کی زحمت نہ کی تھی۔ ،شکایت لگاؤ اور اماں بی سے پھینٹی لگواؤ۔۔ کے فارمولے کے تحت بچے ایک دوسرے کے ساتھ دشمنیاں نبھاتے کیونکہ اکثر وبیشتر ان کے پاس بدلہ لینے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا تھا۔سکینہ بھی کئ بار بی اماں (جاری ہے) ہ

کے بھاری بھرکم اور کھردرے ہاتھوں کا مزا چکھ چکی تھی۔ ایک دفعہ تو بے وجہ ہی اسکی شامت آگئ۔ وہ اپنے ننھے ننھے ہاتوں سے بڑا سا دو پٹہ جو وہ اپنی امی کا اٹھا لائی تھی اپنے اردگرد لپیٹ رہی تھی کہ اس کی کہنی ساتھ بیٹھی مریم کو جا لگی۔ مریمجوپہلے ہی اسکا نیا دوپٹہ دیکھ کے جل بھن رہی تھی بھاگی گئی اور بی اماں کو بلا لائی۔ بی اماں نے سکینہ کو دو چما ٹے مارے اور سب بچوں سے الگ بٹھا دیا۔ اس دن سکینہ نے سارا وقت ہٹکورے لیتے ہوئے اوردل ہی دل میں مریم سمیت اماں کو کوستےگزارہ۔۔۔۔۔پڑھائی کے معاملے میں تو بی اماں کااصول ہی نرالا تھا۔ادھر ادھر گردن موڑے بغیر بلند آوازمیں سبق یاد کرو۔ لہذا ہر صبح بی اماں کے صحن میں مچھلی منڈی کا سماں بندھا ہوتا ۔۔بچے جلدی چھٹی ملنے کی آس میں زور زور سے چیخنے کے انداز میں سبقدہراتے جاتے۔ اکثر اوقات تو بی اماں اس لیے چھٹی نہ دیتیں کہ ان کو یاد ہی نہ رہتا کہ چھٹی بھی دینی ہے۔ بچے کن اکھیوں سے بی اماں کی طرف دیکھتے مگر چھٹی کے لیے پوچھنے کا کسی میں حوصلہ نہ ہوتا۔۔آخر تھک ہار کر باہمی مشاورت سے کسیایک بہادر ساتھی کو بطور سفیر منتخب کیا جاتا جو ادھر ادھر کاموں میں مشغول بی اماں کے پاس ڈرتے ڈرتے سفارش لے کے جاتا کہ بچوں کو چھٹی دے دیں۔ بی اماں کا موڈ ہوتا تو چھٹی کا کہہ دیتیں ورنہ ڈانٹ کے بھگا دیتیں۔ ۔ اگر بی اماں کے مظالم کی (جاری ہے) ہ

حد صرف یہیں تک ہوتی تو گزارہ کیا جا سکتا تھا مگر بی اماں سپارے کے بعد گھر کے کام بھی کرواتیں جو سکینہ کو زہر لگتا تھا ۔ سکینہ ان نا انصافیوں پرکڑھتی رہتی تھی لیکن اسکا اظہار کرنے کی جرأت اس میں کسی طور نہ تھی ۔ اس نے ایک دو دفعہ اپنیامی سے شکایت کرنے کی کوشش کی تو اس کی امی نے آرام سے کہہ دیا۔ نا بیٹا تیری استاد ہیں وہ۔ ہر صورت انکا کہنا ماننا ہے۔ وہ بہت اچھی ہیں۔۔۔۔۔یہ سن کر سکینہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی ۔۔کسی طرف سے دلجوئی نہ ہونے کی وجہ سے سکینہ کیناپسندیدگی نفرت میں بدلنے لگی۔بظاہر ہر شے نارمل ہی رہی مگر اندر ہی اندر کوئی بھی ردِعمل ظاہر کیے بغیر سکینہ بی اماں سے نفرت کرنے لگی ۔ ۔ بی اماں کے کالے اور سفید بالوں کی کھچڑی اسے بری لگتی، تھوڑی کے نیچے لٹکتی بوڑھی جلد کی جھالرسے اسے ابکائی آتی ۔وہ مجبوری کے سے انداز میں بی اماں کے پاس پڑھنے جاتی اور ان کی نظروں سے بچ بچا کر جلد از جلد گھر بھاگنے کی کوشش کرتی۔۔ایک دن بی اماں نے اپنے کسی کام کیلئے اسے سہ پہر میں گھر سے بلا لیا ۔ ۔ اس وقت وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔۔ ایک تو بے وقت کا بلاوہ اور دوسرا کھیل کو مجبوراً چھوڑ کر جانے کی وجہ سے اس کا ننھا سا وجود غصے سے پھٹنے والا ہوگیا ۔ ۔ جب وہ بی اماں کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ وہ مزے سے اونگھ رہی ہیں اور بظاہر کوئی کام نہیں تھا ۔ ۔ وہ واپس جانے کیلئے مڑی تو اسکی نظر تایا جی کے پرس پر پڑی جو دروازے کے ساتھ والے میز پر کھلا پڑا تھا اور اس میں سے لال لال اور ہرے (جاری ہے) ہ

ہرے رنگ کے نوٹ جھانک رہے تھے ۔ ۔ اسے پیسوں کی ضرورت تو نہ تھی لیکن اس نے صرف اپنے غصہ کو کم کرنے کیلئے اور بی اماں سے بدلہ لینے کیلئے پرس کو اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔ اس میں سے گنے بغیر کئی نوٹ اٹھائے اور مٹھی میں دبا کر بھاگ نکلی ۔گھرپنہچتے پہنچتے سکینہ نے ساری پلاننگ کرلی تھی کہ اگر اس سے پوچھا گیا تو وہ آرام سے مریم کا نام لے دے گی کہ پیسے اس نے اٹھائے ہیں۔۔ سکینہ کے بدن میں خوشی اور سسننی کی لہر دوڑ گئ۔۔اخاہ اب آئے گا مزہ۔۔اس نے خود کلامی کرتے ہوئے کہااور سب سے نظرے بچاتے ہوئے پیسے اس سپارے میں چھپا دیے جو وہ ختم کر چکی تھی۔اگلی صبح جب سکینہ حسبِ معمول سپارہ پڑھنے گئی توبی اماں کے گھر میں ڈھنڈورا پٹا ہوا تھا۔ ۔ سب بچے اسکی جانب دیکھ کر آپس میں سرگوشیاں کر نے لگے ۔۔تایا بھی خونخوار نظروں سے اسے گھور رہے تھے وہ اس لیے کہ بی اماں کی بڑی بہوفضیلت نے پچھلی دوپہر میں سکینہ کو بی اماں کے کمرے سے نکل کر بھاگتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ لہذا سب اسے چور سمجھ رہے تھے۔ چٹائی پر بیٹھنے سے پہلے ہی فضیلت نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر کھینچ لیا۔۔بتاؤ پیسے کہاں ہیں؟ چور اچکی کہیں (جاری ہے) ہ

کی۔ اسے سپارے کے لیے بٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔یہ تو شکل سے ہی چور لگتی ہے۔اسکی ماں کو بلائیں اور پیسے نکلوائیں۔۔وہ شدیدغصے میں تھی۔۔مسلسل بولتی گئی۔۔۔۔سکینہ سہم گئی ۔ اس نے تو سوچا بھی نا تھا کہ بازی یوں پلٹ جائے گی۔ اب کیا ہو گا؟ابّا اسکی کھال ادھیڑ دیں گے؟ بی اماں ہمیشہ کے لیے اسے گھر سے نکال دیں گی؟ اس قسم کے خیالات سوچ کر اسکے دل کی دھڑکن تیز ہو گئ۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا۔۔سارے بچے اسکی حالت سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ذلت کے احساس سے سکینہ کاچہرہ سرخ ہو گیا اور وہ روہانسی ہو گئی ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنا دفاع کیسے کرے۔ وہ چپ سادھے کھڑی رہی۔۔۔۔۔ اتنے میں بی اماں کمرے سے نمودار ہوئیں اور کڑک کر بولیں ”خبردار جو اس بچی پر الزام لگایا ۔ ۔ اسے میں نے خود اپنے کامسے بلایا تھا جس کے بعد یہ سیدھی گھر واپس چلی گئی تھی ” ۔ ۔ چور ڈھونڈنا ہے تو کہیں اور ڈھونڈو” میرے بچے چور نہیں ہو سکتے۔۔چل لڑکی!! چھوڑ اسکا بازو۔۔انہوں نے آگے بڑھ کر فضیلت کے ہاتھ سے اسے چھڑایا۔۔آئے بڑے کھوجی۔۔جس کےجتنے پیسے گم ہوئے ہیں مجھ سے لے لے۔۔لیکن کوئی میرے بچوں پر الزام نہ لگائے ۔ ۔سکینہ کیلئے یہ سب بہت غیر متوقع تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخرکھٹوراور ظالم قسم کی بی اماں آج اچانک کیسے اس پر اتنی مہربان ہو گئیں۔ آج جب انکو اسےزیادہ مارنا چاہیے تھاوہ الٹا اسے مار سے بچا رہی تھیں۔۔سکینہ کو سمجھ نہیں آیا کہ ماجرہ کیا جو انہوں نے اس کی حمایت کی؟ حالانکہ انہوں نے اسے کسی کام کا حکم نہیں دیا تھا پھر یہ کیوں کہا کہ وہ کام کرنے ے بعد گھر چلی گئی تھی؟ سکینہ کا ذہنالجھ کر رہ گیا۔ بی اماں نے سب کو ڈانٹ کر بھگا دیا اوراسکو چٹائی پر بٹھا کر سبق پڑھانے لگیں۔۔۔ (جاری ہے) ہ

سکینہ اپنی اس حرکت پر سخت پشیمان تھی ۔گھر پنہچتے ہی اس نے سب کچھ اپنی ماں کو بتایا اور پیسے نکال کر سامنے رکھ دیے۔ ماں نے اسکو خوب لعن طعن کیا۔ پیسے اٹھائے، اسے ساتھ لیا اور بی اماں کی طرف چل دی۔ سکینہ ماں کے ہمراہ ڈرتے ڈرتےبی اماں کے کمرے میں داخل ہوئی اور دیکھا کہ بی اماں اپنے پلنگ پر نیم دراز تھیں۔ بی اماں! سکینہ کی ماں نے لجاہت سے کہنا شروع کیا۔۔۔ آپکی امانت دینے آئی ہوں۔۔یہ لیں اپنے پیسے ۔۔سکینہ ہی چور ہے۔ بی اماں پر اسرار طریقے سے مسکرائیں اور بولیں۔۔مجھے پتا ہے۔انہوں نے سکینہ کو کھینچ کر ساتھ لگایا اور اسکی پیٹھ تھپکنے لگیں۔ بیٹا آئیندہ ایسا نہیں کرنا۔۔چلو اب جاؤ گھر تمھاری امی تھوڑی دیر تک آجائے گی۔اس نے سر ہلایا اور باہر نکل گئی۔ پر بی اماں آپ نے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے نادانیاں کرتے ہیں بیٹی۔انہوں نے اسکی بات کاٹ کر کہا۔۔۔پر اگر آج اس پہ الزام ثابت ہو جاتا تو پھرآئیندہ گمشدہ ہونے والی چیزیں بھی اس کے کھاتے میں جایا کرتیں۔ اور میں اپنے بچوں پہ آنچ آنے دوں یہ کیسے ممکن ہے۔ویسے بھی مجھے اپنے ہر بچے کی فطرت کا اچھی طرح (جاری ہے) ہ

پتا ہے۔۔۔تم اب اس بات کی جان چھوڑو اور یہ شربت پیو۔۔۔اگلے دن جب سکینہ سپارہ پڑھنے بی اماں کے گھر داخل ہوئی تو اس نے خود میں عجیب سی تبدیلی محسوس کی۔ اسے بلند آواز میں ایک ہی سبق بار بار دہرانے ہیں مزہ آیا۔وہ اس تبدیلی پر حیران تھی۔ہر شے ایک نیا ذائقہ دے رہی تھی۔۔حتیٰ کہ آج جب وہ سبقسناتے ہوئے اٹکی تو بی اماں کے دو ہتھڑوں پہ اسے غصہ بھی نہیں آیا۔ سبق سے چھٹی ہونے کے بعد جب بی اماں نے کسی کام کے لیے بچوں کو آواز دی تو سکینہ سب سے پہلے انکی طرف بھاگی۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں