پتا نہیں وہ انسان تھا یا جن میں آج تک نہیں جان سکا لیکن اس رات وہ میری زندگی سنوار گیا اس نے ایسا کیا کیا تھا؟

یہ رات میرے لئے بہت تکلیف دہ تھی۔ میرے جیسا بندہ جو سونے سے پہلے بہت سارا کام کرنے کا عادی ہو،کمپوٹر پر پارٹ ٹائم میں ڈیٹا انٹری کرکے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں رات کا ایک پہر اس مصروفیت میں گزارتا ہو،جب بجلی اچانک کئی گھنٹوں کے غائب ہوجائے تو اسکا سانس لینا بھی دوبھر ہوجاتا ہے۔ویسے بھی جب بجلی چلی جاتی تھی تو مجھے گھٹن اور خوف لاحق ہوجاتاتھا۔میں اُن دنوں مرے کالج سیالکوٹ میں ماسٹرز کررہا تھا جب ایک ایسی رات نے مجھے بوکھلا کررکھ دیا اور عجیب طرح کے احساسات نے جنم لیا ۔ویسے اسکو احساس تو نہیں کہنا چاہئے حالانکہ یہ بات حقیقت بر مبنی ہے۔میرا اس رات ایک عجیب و غریب انسان سے پالا پڑاتھا۔وہ انسان تھا یا کون ؟ آج تک اس بات کو سوچ رہا ہوں،لیکن میرے لئے تو پیامبر تھا۔میں ہوسٹل سے باہر ایک گھر میں پینگ گیسٹ کے طور پر رہتاتھا۔یہ دومنزلہ اور پرانا گھر تھا۔دوسری منزل سے سامنے کی گلی اوراسکے برابر والی دو گلیاں بھی صاف نظر آتی تھیں۔جولائی کی گرم ترین رات تھی۔مچھر بھی یہاں بہت تھے۔بجلی چلی گئی تو میں اسکے انتظار میں پہلے تو ایمرجنسی لائٹ جلا کر اپنی سٹڈی مکمل کرتا رہا (جاری ہے) ہ

لیکن کم چارجنگ کی وجہ سے یہ لائٹ بھی آف ہوگئی ۔تو کمرے میں بیٹھنادوبھر ہوگیا۔ہر سو اندھیرا مجھے کاٹنے لگا۔ مجھے لگا جیسے یہ لائٹ نہ آئی تو سیاہ تاریکی کا ناگ مجھے ڈس لے گا۔ بجلی کے آجانے کی امید پر کچھ دیر کے لئے میں گھر سے باہر چلا گیا ۔سوچا تھا کہ جب واپس لوٹوں گا توبجلی آچکی ہو گی لیکن دو گھنٹے بعد واپس آنے پر بھی اندھیرے نے میرا استقبال کیا۔مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔رات کا ایک بج چکا تھا ۔مجھے ڈیٹا انٹری لازمی کرنا تھی ۔ایسا نہ کرنے پر مجھے اس جاب سے نکال دیا جاتا۔گھر بیٹھے بیٹھے مجھے معقول آمدنی ہورہی تھی اس لئے میں پریشان ہوگیا اور کچھ دیرکے لئے بالکونی میں چلا گیا۔میں نے دیکھا ہمارے محلہ کے علاوہ بھی دور تک بجلی ہنوزغائب تھی۔کوئی بڑا بریک ڈاؤن آیا لگتا تھا۔ (جاری ہے) ہ

میں اسی سوچ بچار میں تھا کہ میری نظر بائیں والی گلی میں ایک آدمی پر پڑی۔ اسنے ہاتھ میں بڑی سی ٹارچ تھام رکھی تھی اور نہایت آہستہ سے چل رہا تھا ۔وہ شہر جو کافی رات گئے تک بھی شور سے گونجتا رہتا ہو لیکن جب بجلی غائب ہوجاتی ہے تو رات کو سناٹاسا چھا جاتا ہے۔کچھ ایسا ہی مجھے اس وقت محسوس ہو رہا تھا۔مجھے اس سناٹے میں کانوں میں مچھروں کی بھیں بھیں کے علاوہ اس ٹارچ والے آدمی کے جوتوں کی آواز آرہی تھی۔ میں محویت سے سوچ رہا تھا کہ وہ بھی گرمی اور مچھروں سے تنگ آکر باہر گلی میں گھوم رہا ہوگا۔اس لمحہ مجھے اپنے پیچھے کھٹکا محسوس ہوا اور ساتھ ہی میاؤں کی آواز آئی تو پلٹ کر دیکھا ۔ایک کالی بلی دیوار پر چڑھی اپنی چمکتی آنکھوں سے میری جانب دیکھ رہی تھی۔اسے دیکھنے کے بعد میں نے دوبارہ گلی میں دیکھا تو حیران رہ گیا۔وہ ٹارچ والا غائب تھا ۔پہلے تو خیال آیا کہ وہ اپنے گھر میں گھس گیا ہوگا لیکن اچانک دائیں جانب والی گلی پر نظر پڑی تو وہی ٹارچ والا اب اس گلی میں اسی رفتار سے چل رہا تھا۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...


حیرانی ہوئی کہ اگر یہ وہی آدمی ہے توچشم زدن میں دوسری گلی میں کیسے پہنچ سکتا ہے۔ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ بلی میرے پیروں کے پاس آکر میاؤں میاؤں کرنے لگے۔ میں چونکا اور اسکی طرف دیکھنے لگا ۔ بخدا مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں لگا کہ اُس ٹارچ سے اُٹھتی روشنی اور اِس بلی کی آنکھوں سے پھوٹتی روشنی میں کوئی فرق نہیں ۔ یہ سوچ کر میں نے ٹارچ والے کی جانب دیکھا لیکن حیرانی دوچند ہوگئی۔اب وہ اس گلی کی بجائے میرے گھر والی گلی میں کھڑا تھا۔یہ دیکھتے ہی میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس حیرت انگیز اور پراسرار انسان سے مل کر یہ بھید جاننا چاہئے کہ وہ کیسے آناً فاناً دوسری گلی میں پہنچ جاتا ہے۔ابھی میں پلٹ کر نیچے جانے ہی والا تھا کہ مجھے اپنے اردگرد روشنی سی نظر آئی اور ساتھ ہی اپنے کاندھوں پر بوجھ محسوس ہونے لگا۔یوں جیسے کسی نے میرے کاندھوں پر بھاری ہاتھ رکھے ہوں ۔میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہی ٹارچ والا اب میرے پیچھے کھڑا تھا ۔اس نے سفید چوغا نما کپڑے پہنے ہوئے تھے۔بولا’’ بجلی نہیں اور اندھیارے سے پریشان ہو۔اپنے اندر کا بلب کیوں نہیں روشن کرلیتے‘‘’’ کک کیا مطلب‘‘ میں نے تھوک نگل کرلڑکھڑاتی زبان سے پوچھا۔’’ اوئے کملیا۔کلمہ پڑھ کے یہ آیت پڑھتا رہا کر ۔تجھے کسی قسم کے اندھیروں اور بجلیوں کی محتاجی نہیں ہوگی۔‘‘ٹارچ والا بولا’’ اللہ ھو نورالسمٰوات والارض پڑھا کر ۔بے فضولوں کی طرح وقت ضائع نہ کیا کر۔تیرے من میں روحانی بلب آن ہوگیا تو پھر تجھے کوئی محتاجی نہیں ہوگی‘‘ (جاری ہے) ہ


میں کچھ نہ بولا سوائے اسکے جو اس نے مجھے سمجھایا اور پڑھنے کا سبق دیا وہ میں دھرانے لگا،دھراتا چلا گیا اور خود بخود میری آنکھیں بند ہوگئیں۔اور محسوس ہونے لگا جیسے میرے سینے میں سو واٹ کا دودھیا بلب روشن ہوگیا ہے اور میں جوں جوں یہ آیت پڑھتا ہوں روشنی بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس مشاہد ہ میں نہ جانے کتنا وقت گزرا ہوگا کہ میری آنکھ کھل گئی ۔ بجلی آچکی تھی،اندھیرا چھٹ چکا تھا ،نہ ٹارچ والا نہ وہ کالی بلی ۔۔۔ اہم بات یہ ہے کہ پھر میں نے اللہ ھو نورالسمٰوات والارض کا ورد حرز جان بنالیاہے ۔ اب مجھے بجلی کے جانے پر اندھیروں کا خوف نہیں رہتا ۔میرے سینے میں روشنی سی چمک اٹھتی ہے اس ذکر کی بدولت اورلامتناہی ناقابل بیاں سکون مل جاتا ہے۔