آج کے دور کے تابعی کی کہانی وہ ہماری مسجد کے امام صاحب تھے ایک دن وہ فجر کی نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک شخص ان کے پاس ایک مقدمے کا فیصلہ لے کر آیا

یہ واقعہ جو میں لکھ رہی ہو ں بالکل حقیقت پر مبنی ہے۔ اور یہ ہمارے دادا جان نے ہمیں سنا یا ہے۔ میرے دادا جان کی ابھی نئی نوکری لگی تھی اور وہ اپنے آبائی گاﺅں میں رہتے تھے۔ گا ﺅں تو نہیں قصبہ کہہ لیں۔ میرے دادا جان شروع ہی سے نماز کے پا بند تھے۔ دین کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اور مسجد میں درس و تدریس سننے والے۔ باقاعدگی سے نما ز پڑھنے کی وجہ سے مسجد کے امام کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ نماز سے فراغت کے بعد کوئی نہ کوئی بات آپس میں ڈسکس کر لیتے تھے۔ اسی طر ح باتوں کے دوران امام صاحب نے کہا کہ عطا صاحب آج میں آپ کو ایک سچا واقعہ سناتا ہوں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نماز پڑھ کر فارغ ہوا۔ جب سب نمازی چلے گئے اور آخر میں ایک نمازی رہ گیا۔ نمازی نے کہا کہ ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ (جاری ہے) ہ

میں نے کہا کہ پو چھو لیکن نمازی نے کہا آپکو ذرا زحمت دینا ہو گی۔ آپ کو میرے ساتھ چلنا ہو گا۔ وہ مجھے ساتھ لے کر چل پڑا۔ وہ آگے آگے میں پیچھے پیچھے۔ چلتے چلتے ایک میدان آگیا۔ وہا ں پر قناتیں لگی ہوئی تھیں۔ بہت سے لو گ بیٹھے تھے۔ ایسے جیسا کہ کوئی عدالت لگی ہوئی ہو۔ کوئی دربار لگا ہوا ہو۔ لیکن دروازے پر پہنچ کر نمازی نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم جنا ت قوم سے ہیں اور ہم کو ایک مسئلہ درپیش ہے۔ خیر امام صاحب اندر چلے گئے۔ سب لو گ ( جنا ت ) کھڑے ہوگئے۔ عزت کے ساتھ عدالت لگی ہوئی تھی۔ سامنے کرسی پر جج بیٹھا ہو اتھا۔ اور مجرم کے کٹہرے میں ایک شخص کھڑا تھا اور سامنے ایک لاش پڑی ہوئی تھی۔ جوکہ چادر سے ڈھکی ہوئی تھی خیر انہو ں نے امام صاحب کو تعظیم کے ساتھ بٹھا یا اور مسئلہ بیان کیا کہ یہ سامنے جو لاش آپ دیکھ رہے ہیں، ایک جن کی ہے۔ اور سامنے کٹہرے میں جو شخص کھڑا ہے یہ ایک انسان ہے۔ سامنے مرنے والے جن کے بوڑھے والدین بیٹھے ہیں۔ اس انسان کا کہنا ہے کہ وہ نماز پڑھ کر مسجد میں کھڑا تھا۔ جب سب نمازی چلے گئے اس نے صفیں لپیٹیں تو صفوں میں ایک سانپ نکلا اس نے سوچا کہ کہیں یہ سانپ کسی کو ڈس نہ لے۔ اس نے لا ٹھی اٹھا کر سانپ کومار دیا۔ سانپ کو مارنا تھا کہ وہ خود غائب ہو گیا۔ (جاری ہے) ہ

انسان کاکہنا ہے کہ میں نے ایک سانپ کو مارا ہے، جن کو نہیں ،جبکہ جن کے والدین کہتے ہیں کہ اس نے ہمارے بیٹے کو مارا ہے۔ ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پارہے۔ نہ وہ اپنے مو قف سے ہٹتے ہیں اور نہ ہی والدین کہتے ہیں کہ ہم اس کو چھوڑیں گے۔ خون کا بدلہ خو ن، ہم بھی اس انسان کو مار دیں گے۔ امام صاحب نے غور سے دونو ں کی باتیں سنیں پھر اس نے ایک حدیث پڑھی۔ ” کہ جن جو شکل اختیار کریں گے ان کو ویسے ہی مانا جائے گا نہ کہ جن “لہذا اس نے سانپ کو ما راہے اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ایک جن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جن جو شکل اختیار کرے گا اس کو وہی سمجھا جائے گا۔ لہذا اس انسا ن کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ با ت سن کر مجمع میں سے ایک بہت ہی بوڑھا جن کھڑا ہو ااس نے کہا یہ امام صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ با ت فرمائی تھی تو میں وہا ں موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جن جو شکل اختیار کرے گا (جاری ہے) ہ

اس کو وہی سمجھا جائے گا۔ جنوں کی چونکہ عمریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ لہذا با ت کی تصدیق اور گواہی کی صورت میں فیصلہ انسان کے حق میں سنا یا گیا اور عدالت کے جج نے امام صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کہا آپ نے ایک حدیث سے ہمارااتنا بڑا مسئلہ حل کر دیا۔ ہم کو تین دن ہو گئے تھے کہ ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ پھر امام صاحب کو وہی نمازی جن باہر عزت کے ساتھ رخصت کرنے آیا۔ جونہی باہر قدم رکھا۔ تو ایک دم سب منظر سے غائب ہو گیا۔ نہ وہ عدالت تھی، نہ قناتیں۔ کچھ بھی وہا ں نہ تھا۔ میدان صاف تھا۔ پھر امام صاحب واپس مسجد آگئے۔ جبکہ وہ انسان جب گھر پہنچا تو گھر والو ں کو واقعہ سنایا کہ اس کو جن اٹھا کر لے گئے تھے۔ اور تین دن تین راتیں جنوں کے ساتھ گزار کر آیا ہے۔ گھر والو ں نے اس کی بات پر یقین نہ کیا۔ گھر والے بھی ڈھونڈ کر پریشان تھے کہ نماز پڑھنے تو مسجد گیا تھا پھر کہا ں چلا گیا؟ (جاری ہے) ہ


اس کے بعد امام صاحب نے دادا جان کو تمام واقعہ سنایا اور دادا جان بہت حیران ہوئے۔ چونکہ امام صاحب نے ایک بوڑھے گواہ جن کو دیکھا تھا۔ بوڑھے جن نے ایمان کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ وہ جن صحابی رضی اللہ عنہ کہلا یا۔ دادا جان نے یہ سچا واقعہ بچپن میں سنایا تھا لیکن آج تک نہیں بھولا اور یہ وا قعہ پاکستا ن بننے سے قبل کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں