اس نے قبر کھود نے کے لیے کدال چلانا شروع کی تواچانک آواز آئی کہ یہاں کھدائی نہ کرو نوجوان نہ رکا توزور دارتھپٹرسے اس کا چہرہ ہی مڑگیا ،پھر مر گیا

ایشیاءکے سب سے بڑے قبرستان’ میوشاہ قبرستان‘میں کام کرنیوالے ایک گورکن نے انکشاف کیا کہ تقریباً 10 سے 12 سال پہلے ہمارے ساتھ ریکسر لائن کا ایک نوجوان گورکن محمد صالح کام کرتا تھا اور وہ اکیلے ہی قبر کھود لیتا تھا، اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا، اس نے جگہ صاف کی اور قبر کی کھدائی کرنے لگا۔ اچانک آواز آئی یہاں کھدائی نہ کرو۔ وہ رک گیا، چاروں طرف دیکھا، اوپر درختوں پر نظر دوڑائی، لیکن کچھ نظر نہ آیا۔ وہ حیران و پریشان تھاکہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے ۔ اسی کشمکش میں اس نے دوبارہ کام شروع کردیا۔ صالح نے جیسے ہی کدال چلانا شروع کی، اسے پھر آواز آئی کہ ہم نے آپ کو کہا ہے کہ یہاں کھدائی نہ کرو اور اچانک اس کے منہ پر زوردار تھپڑ لگا۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...


وہ تھپڑ اس طاقت سے لگا کہ صالح دور جاکر گرا اور اس کا چہرہ ایک طرف کو مڑگیا۔ اگلے دن مجھے صالح ملا تو اس کی گردن ٹیڑھی تھی اور چہرہ ایک طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس نے مجھے سارا واقعہ بتایا۔ میں نے کہا جب تجھے پہلی آواز آئی تھی تو پھر کھدائی نہیں کرنا تھی۔ اس نے کہا بابا، مجھے وہاں کچھ نظر نہیں آرہا تھا، میں سمجھا شاید میرے ساتھ کوئی مذاق کررہا ہے۔ اگلے دن وہ نوجوان فوت ہوگیا۔
روزنامہ امت کے مطابق یہ انکشاف قبرستان کے گورکن باباعیدو نے کیا۔ بابا عیدو نے بتایا (جاری ہے) ہ

کہ وہ بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ ایران سے ا ٓیا تھا۔ بچپن سے ہی محنت مزدوری کرتا رہا، ہر طرح کا کام کیا اور پھر اسی قبرستان میں کام شروع کیا۔ بابا عیدو کا کہنا تھااپنی عمر کا اندازہ نہیں، لیکن جب ایوب خان کے دور میں بھارت سے جنگ ہوئی تو میں اس وقت بھی اس قبرستان میں کام کرتا تھا۔ اس وقت میں کڑی جوان تھا، جس میں طاقت تھی، لیکن ان پڑھ تھا۔ بابا عیدو ایک پرانی قبر کی مرمت کررہا تھا۔ ہم نے یہاں کے مزید حالات جاننے کے لئے پوچھا تو بابا عیدو نے کہا ”میری ساری زندگی اس قبرستان میں گزرگئی ہے۔