ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شواہدا اکٹھے کرنے کا پاکستان میں انوکھا کیس جب باپ نے ٹیسٹ کروایا تو واقعی یہ بات ثابت ہوئی کہ بچی اس کی نہیں تھی ڈی این اے ٹیسٹ کا پاکستان میں مستقل !!!

لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ زیرسماعت ہے جس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ڈی این اے ٹیسٹ کو اسلامی قانون کے تحت شہادت کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے اور کیا اس ٹیسٹ کے نتیجہ سے اولاد کے جائز ہونے کا تعین کیاجاسکتا ہے؟ ڈی این اے ٹیسٹ کے تحت درج کرائے گئے حدود کے ایک مقدمہ میں عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت پر دونوں فریقوں کے وکلاء سے پوچھا ہے کہ کیا اسلامی فقہ میں کسی شخص کو ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر زنا کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے؟اس مقدمہ میں امریکہ میں مقیم ایک شخص نے پاکستان میں مقیم اپنی بیوی اور ایک شخص کے خلاف حدود کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں دونوں نے جنسی تعلقات استوار کرلیے جس کے نتیجہ میں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس نے اپنا اور اپنی مبینہ لڑکی کا امریکہ میں ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جس کی رپورٹ نے بتایا کہ یہ لڑکی اس کی اولاد نہیں۔ (جاری ہے) ہ

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اس کا اور بچی کا پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ یہ بچی ملزم کی ہی کی اولاد ہے۔ ملزم نے عدالت میں تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔مغربی ملکوں میں پولیس ڈی این اے کی مدد سے بچوں کی ولدیت بتاسکتی ہے، چوروں کے خلاف شواہد اکٹھے کرسکتی ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کو عدالت میں حتمی ثبوت مانا جاتا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے زنا کے واقعات بھی ثابت کیے جاسکتے ہیں اور مجرموں کو پکڑا جاسکتا ہے۔آپ کا ردعمل کیا ہے؟ کیا مسلم ممالک میں ڈی این اے ٹیسٹ کو ثبوت مانا جائے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے، تو کیوں؟ اگر آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے تو کیوں؟ آپ کی نظر میں لاہور ہائی کورٹ والے مقدمے میں کیا فیصلہ دیا جانا چاہئے؟آپ کی رائےآپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیںیاسر جادون، ڈنمارک:پاکستان میں تو بغیر خون دیے بلڈ رپورٹ بن جاتی ہے۔ اگر صرف ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر فیصلے ہونے لگیں تو پھر اللہ مالک ہے۔ (جاری ہے) ہ

عنایت خان، دوبئی:بی بی سی کو اس کے لئے علمائے کرام سے رجوع کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ شرعی قانون شہادت میں ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر صحیح طریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔آصف رفیق، لائبیریا:کرِمنل سائنس میں ڈی این اے نئی ٹیکنِک ہے۔ عدالتوں میں فنگر پرِنٹس کو پہلے سے ہی شہادت کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ فنگر پرنٹس کی طرح ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال بھی عدالت میں شہادت کے طور پر ہوسکتا ہے۔ یہ غیراسلامی نہیں ہے، انصاف کی جانب لےجاتا ہے۔حسن علی، اٹلی:جی ضرور ہونا چاہئے ڈی این اے۔ جب بھی پاکستان میں کوئی اچھی چیز آتی ہے تو یہ اسلام کو بیچ میں لاکر اس میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔حالنکہ کوئی بھی اس وست صحیح مسلم نہیں۔ آج ہمارے معاشرے کی وجہ سے ہمارا ملک پیچھے ہے۔ اس لئے یہ ٹیسٹ ضرور ہونا چاہئے۔آصف آفریدی، شارجہ:جی نہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کو حتمی ثبوت نہیں ماننا چاہئے کیوں کہ اسلام میں زنا ثابت کرنے کے لئے تین گواہوں کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس سے اس حدیت اور قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔وجیہ الدین نظر، ٹھٹہ:ڈی این اے ٹیسٹ بھی ایک علم ہے۔ اللہ تعالی نے خود انسان کو کہا ہے کہ تحقیق کرے۔ اگر انسان نے اتنی معلومات حاصل کرلی ہے اور وہ مومن ہے تو اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرض نہیں۔راشد ضمیر راؤ، سامبا:
جی ہاں ڈی این اے ٹیسٹ شہادت کے لئے صحیح ہے۔نوید نقوی، کراچی:ابھی سائنس اتنا آگے نہیں ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کو حتمی مانا جائے۔ حتمی بات صرف وہ ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ اور اس کے رسول (ص) نے بتادیا ہے کہ کس طرح زنا کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا، سائنس کا کیا ہے آج جو نظریہ پیش کرتی ہے کل اس کی نفی بھی خود ہی کردیتی ہے۔ (جاری ہے) ہ

ہلال باری، لندن:جناب اگر مسلمان اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے اور برائی کے کاموں سے دور رہے تو ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑےگی۔ اس کے استعمال کرنے کا صحیح فیصلہ تو عالم دین ہی دے سکتے ہیں جنہوں نے اسلام کی تعلیمات پر عبور حاصل کرلی ہے۔فاتح عالم، فرانس:جب کمپیوٹرائزڈ انکم ٹیکس رٹرن شروع ہوا تو لوگ کہتے تھے کہ اب سی بی آر میں فراڈ کا قلعہ قمع ہوجائے گا، مگر کیا ایسا ہوا؟غلام حسین انجم، ٹورانٹو:سائسنٹفک نالج اسلام سے کنٹراڈِکٹ نہیں کرتی۔ زنا کے کیس میں چار گواہوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر میاں، بیوی ہی الزام لگائیں تو حالات مختلف ہوجاتے ہیں۔ ڈی این اے کا ٹیسٹ اللہ کی تعریف سے ہے۔ اور اللہ کے بنائے ہوئے سیسٹم کو استعمال کرنا جس سے کسی غلط فہمی کا ازالہ ہوتا ہو یا کسی کی بھلائی ہوتی ہو اس پر اسلام کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور ڈی این اے ٹیسٹ کو شہادت کے طورپر مانا جانا چاہئے۔ساجد خان، پاکستان:میرے خیال میں یہ صحیح ہے، جو کوئی شخص اپنی بیوی یا شوہر پر اعتماد نہیں کرتا وہ ڈی این اے کا استعمال کرسکتا ہے۔ اسلام میں ہر چیز جائز ہے جو انصاف پر مبنی ہو۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...

حیات خان مری بلوچ، بلوچستان:ڈی این اے ٹیسٹ سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو ڈی این اے ٹیسٹ جانتے ہیں۔ اور رشوت کا بازار گرم ہوگا۔ لیکن قبائلی لوگ اس کی امید نہیں کرتے۔ بگٹی قبائل کا اپنا رواج ہے جسے ’’آس آپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ مری بلوچ اور پشتونوں کا الگ رواج ہے۔ سندھی لوگوں کا الگ۔ پنجاب میں کوئی رواج نہیں ہے اس لئے وہ ڈی این اے ٹیسٹ میں یقین کرتے ہیں۔ لیکن صحیح اسلام وہی ہے جو مکمل ہو۔شہزاد قریشی، ابو ظہبی:جی ہاں ڈی این اے کا ٹیسٹ ہونا چاہئے، اگر والد کیس کو نظرانداز کررہا ہے۔ اس کے ذریعے اصل مجرم تک پہنچا جاسکتا ہے۔کفیل احمد صدیقی، لاہور:ڈی این اے ٹیسٹ ضرور ہونا چاہئے کیوں کہ اس سے اصل حقائق کا علم ہوسکتا ہے۔ اسلام میں نئی چیزوں کے لئے اجتحاد کا طریقہ موجود ہے۔ ضروری ہو تو تمام علماء اکٹھے بیٹھ کر اس بارے میں کوئی متفقہ فیصلہ کرسکتے ہیں۔جاوید اقبال ملک، چکوال:ڈی این اے ٹیسٹ بھی سائنس کی تعریف ہے، ایک اسٹیپ ہے، اور کم از کم ان گناہ کرنے والوں کو بھی کسی حد تک خوف ہوگا۔ ویسے جو لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے وہ ڈی این اے سے کیوں ڈریں گے۔ بہر حال اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔عمران، بینگ کاک:اسلام سائنس کی مخالفت میں ہے۔ مسلم ممالک زراعت، ادویات اور جنیاتی انجینیئرنگ میں کامیابی کے لئے مرتے ہیں، تو نظام انصاف میں ڈی این اے کا استعمال کیوں نہیں ہوسکتا۔طارق سعید، ٹوبہ ٹیک سنگھ:(جاری ہے) ہ


میرا خیال ہے کہ اگر کسی طریقے سے ملزم پکڑے جائیں تو بےراہ روی پر بھی قابو پایا جاسکے گا اور جرائم کم ہوں گے۔ اسلام جرائم کم کرنے کے کسی نئے طریقے کے کیسے خلاف ہوسکتا ہے؟علی وقار، اسلام آباد:تفتیش کے لئے اس ٹیسٹ کو ضرور اپلائی کرنا چاہئے لیکن اس بات کو بھی یقینی کو بنائے گا کہ ٹیسٹ میں رشوت اور دوسری قسم کی کوئی دغا بازی نہیں ہوگی۔ جس سے بےگناہ لوگوں کو نہیں پھنسایا جائے گا۔ عام کیس میں میڈیکل رپورٹ پر پہنچ والے لوگ اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔شاہد اقبال، یو اے ای:سائنس نے پہلے ہی ثابت کردیا ہے۔ لاہور کورٹ ڈی این اے کی رپورٹ مانے۔صمدانی صدیقی، کراچی:برے کیریکٹر والے لوگوں کے لئے ڈی این اے کا ٹیسٹ کافی نہیں ہے۔ماجد صدیق، ریاض:معاملہ نازک ہے۔ پھر بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ زنی کی اجازت اسلام میں نہیں ہے، اس سے سو فیصد اتفاق ہوگا آپ کو۔ اور زنا کرنے والا اسلام کا مجرم ہے۔ تو جب دوسری ایجادات کو استعمال کرنے سے پہلے آپ اسلام کو بیچ میں نہیں لاتے تو ڈی این اے کی رپورٹ کو لانے سے پہلے اس قسم کے سوالات کیوں اٹھائے جارہے ہیں؟ وڈیو کیمرہ، فنگر پرنِٹنگ اگر کسی کیس کو حل کرسکتا ہے تو ڈی این اے کیوں نہیں؟ (جاری ہے) ہ


راحیل منصور، لاہور:لوگ اسلام کے تابعدار نہیں ہیں اور جب مسائل سامنے آتے ہیں تو وہ اسلام میں اس کا حل تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دوا سے بہتر احتیاط ہے۔ اسلام نے ہمیں احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ایسے مسائل نہ پیدا ہوں۔انجم ارشد، منڈی بہاؤالدین:
اس ٹیسٹ کی وجہ سے بہت لوگ غیرقانونی طور پر جنسی تعلقات سے باز رہیں گے۔ ساتھ ہی اس سے لوگو ں کے ذہن و دماغ میں غلط فہمیاں ختم ہوجائیں گی۔خان مغل، گل بہار:ہمیں ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال پاکستان میں کرنا چاہئے تاکہ کئی مقدمات کا حل کیا جاسکے۔منظور احمد بنیان، اسلام آباد:ڈی این اے ٹیسٹ ایک مثبت شہادت ہے۔ اسلامی ممالک میں اس کا استعمال کیا جانا چاہئے، ڈی این ای کے ساتھ دیگر شہادتوں کو بھی ماننا چاہئے۔ میرے خیال میں مرد کو نہیں چاہئے کہ اپنی بیوی کو طویل وقفے کے لئے چھوڑ کر جائے۔ ورنہ یہ نہیں ہوتا۔محمد زمان زاہد، میانوالی:ایسا نہیں ہونا چاہئے ہمارے ملک میں، رشوت زیادہ ہی ہے،(جاری ہے) ہ

غریب آدمی گھاٹے میں رہے گا۔عاصیہ ہمایوں، پاکستان:بالک ہونا چاہئے۔ میرا خاوند بھی اپنی بچی پر شک کرتا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے اس کا شک دور کردیا۔۔۔ویلکم ڈی این اے۔شاہدہ اکرم، ابوظہبی:آج کا موضوع بہت نازک ہے اور میرے یا ہم میں سے کسی کی بھی آراء کو بھی ایک جرم سمجھا جاسکتا ہے۔ اور بطور خاص ایک عورت ہونے کے ناطے تو شاید ہمارا معاشرہ اس کی اجازت بھی نہ دے کہ میں اپنی بات کہہ سکوں لیکن کیوں کہ آپ نے بحث سامنے لاکر دعوت دی ہے تو اپنے خیالات کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں۔ جہاں تک ڈی این اے ٹیسٹ کا سوال ہے، جس طرح ہر ایجاد کا ہم کوئی مثبت پہلو دیکھتے ہیں تو دوسری طرف اس کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ضرور ہوتا ہے جو ہماری نظر سے اگر چھپا بھی ہو تو تو لیکن منفی سوچ رکھنے والے اس کو ضرور اپلائ کریں گے۔ ڈی این اے ٹیسٹ سے چوروں کو پکڑنے کا کام ہوکستا ہے، گم شدہ بچوں کو ان کے اصلی ماں باپ مل سکتے ہیں، مجرموں کو بھی یقینی طور پر پکڑا جاسکتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں اور معاشرے میں اس ایک اچھی اپروچ کو غلط طریقوں کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی کو بلیک میل کرنے والے کے لئے ابھی اس کو استعمال کرسکتے ہیں۔! رپورٹ بنواکر کسی کو بھی پکڑوایا جاسکتا ہے!! کسی سے دشمنی ہو تو اس کو بھی کسی قسم کے بھی کیس میں پکڑوا سکتے ہیں، اپنے مخالف فریق کے لئے بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں، یہ سب میں اس بنیاد پر کہہ رہی ہوں کہ یہ سب ممکنات میں سے ہیں۔۔۔۔ (جاری ہے) ہ

غزنفر سید، میلان:جی ہاں، بالکل مانا جانا چاہئے کیوں کہ انسان کی گواہی جھوٹی ہوسکتی ہے، مشین کی نہیں۔عادل بلال، ملتان:میرے خیال میں اگر اس طریقے سے زنا جیسے گھناؤنے جرم پر اور دوسرے جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے، ڈی این اے کے ذریعے، تو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اسلام اس کام سے منع نہیں کرتا جس سے لوگوں کو انصاف ملے۔ اصل چیز لوگوں کو معاشرے میں انصاف ملنا ہے اور کچھ نہیں۔ابراہیم، سیالکوٹ:ضرورت کے حالات میں اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اسلام حقیقت میں ڈی این اے کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ لیکن جب تحقیقات کی ضرورت ہو تو اس کا استعمال ہونا چاہئے۔