تاجر اپنا سامان بیچ کر واپس جا رہا تھا کہ ڈاکو نے حملہ کر دیا مال لوٹ کر خنجر کا وار کرنے لگا مرتے ہوئے تاجر کی نظر درخت پر بیٹھے کبوتروں پر پڑی تو کہنے لگا کبوتر گواہ رہنا ڈاکو ہنس دیا ،تاجر مرگیا لیکن پھر چند روز بعد ہی ایک تقریب میں ڈاکو نے دیکھا کہ دو کبوتر

کہاجاتاہے کہ قتل کے خون کی چھینٹ بھی اپنا اثردکھاتی ہے اور بالآخر سچ سامنے آکرہی رہتاہے ، ایسا ہی کچھ عراق کے شہر موصل کے ایک تاجر کیساتھ ہوا تھاجہاں آج کل داعش اور فورسز کی گھمسان کی جنگ جاری ہے ۔ یہاں کے ایک مویشیوں کے تاجر کو منڈی سے واپس لوٹتے ہوئے ایک ڈاکونے لوٹ کر قتل کردیا تھا ، آخری سانسیں لیتے مقتول تاجر نے درخت کی شاخوں پر بیٹھے کبوتروں کی ایک جوڑے کو گواہ ٹھہرایا تو کئی سال گزرنے کے بعد ایک تقریب میں جیسے ہی ڈاکو نے اپنے سامنے بھنے ہوئے دو کبوتر دیکھے تو بلااختیار تقریب کے شرکاءکے سامنے قتل کاقصہ سنادیا جس کے بعد شرکاءنے بطورگواہ کردار اداکیا اور مجرم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیاگیا۔ کتاب ’سنہرے فیصلے‘کے حوالے سے روزنامہ امت نے لکھاکہ ”عراق کے مشہور شہر موصل سے ایک تاجر اپنے مویشیوں کے ساتھ حلب کی طرف روانہ ہوا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی شام اور عراق کی سرحدی حدود علیحدہ نہ ہوئی تھیں۔ حلب مورخین کے مطابق دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہے اور آج کل شام کا شہر ہے۔ تاجر نے اپنے قیام ایک مناسب درجے کے ہوٹل میں کیا۔ یہاں ان دنوں مویشیوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ اس نے اپنے مویشی جلد ہی فروخت کردئیے اور موصل کی راہ لی۔ (جاری ہے) ہ


ایک ڈاکو مسلسل اس تاجر کے پیچھے لگا ہوا تھا اور اس کی مسلسل نظر اس پر تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے پاس ایک خطیر رقم موجود ہے۔ تاجر راستے میں ایک ویران جگہ پر ایک درخت کے نیچے ستانے کیلئے رکا تو اس ڈاکو نے اس پر حملہ کردیا۔ اس کی گردن پر اپنا خنجر رکھا اور کہا ”جو کچھ تمہارے پاس ہے نکال کر میرے حوالے کردو“ تاجر نے ادھر ادھر دیکھااور شورمچایا کہ کوئی اس کو بچائے۔ مگر اس ویران جگہ پر اس کی کون سنتا؟ اس نے خاموشی سے اپنا تمام مال ڈاکو کے حوالے کردیا۔ اب ڈاکو اسے قتل کرنے کے درپے ہوا۔ تاجر نے کہا کہ تم نے میرا تمام مال لے لیا۔ اب تمہیں میری جان سے کیا غرض ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میرے اوپر رحم کھاﺅ، مجھے قتل نہ کرو، مگر ڈاکو پر خون سوار تھا۔ اس نے اس کی منت سماجت کی قطعاً کوئی پروانہ کی اور اس کو قتل کرنے لگا۔ تاجر بالکل نہتا تھا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا کہ کوئی اس کی مدد کرے،اچانک اس کی نظر اوپر درخت پر پڑی۔ (جاری ہے) ہ


اس کو دو کبوتر درخت پر بیٹھے نظر آئے۔ اس کی جان نکل رہی تھی۔ ڈاکو خنجر سے اس پر پے درپے حملے کررہا تھا کہ اچانک اس نے ان کبوتروں کو مخاطب کیا اور کہا : ”اے کبوترو!گواہ رہنا“۔ڈاکو نے اسے قتل کردیا اور اس کے آخری الفظ نہایت مزاحیہ انداز میں دہرانے لگا: ”اے کبوترو! گواہ رہنا…. گواہ رہنا“اب ڈاکو نے اپنا راستہ لیا۔ راستے میں بھی وہ مقتول کے الفاظ دہراتا تھا۔ اس کیلئے یہ گویا ایک لطیفہ تھا، جو مرتے وقت تاجر نے بیان کیا تھا۔ ادھر اس تاجر کے اہل و عیال اس کی آمد کے منتظر تھے۔ دن گزرتے رہے، مگر اس کی کوئی خبر نہ ملی، چنانچہ اس کا بڑا بیٹا اپنے والد کی تلاش میں حلب گیا۔ وہاں اس کو بتایا گیا کہ وہ فلاں تاریخ کو حلب آیا تھا، فلاں جگہ قیام کیا۔ فلاں کے ہاتھ اپنے مویشی فروخت کئے، اتنی رقم وصول ہوئی اور چند دنوں کے بعد حلب سے کچھ فاصلے پر ویرانے میں کسی نامعلوم شخص نے اسے خنجر کے وار سے قتل کردیا اور ساری رقم چھین کر بھاگ گیا۔ تمہارے والد کو فلاں قبرستان میں دفنادیا گیا۔ (جاری ہے) ہ

......
loading...


تاجر کا بیٹا حاکم شہر کے پاس گیا، وہاں دہائی دی، پھر قاضی کے پاس گیا اور اپنے والد کے دوستوں سے ملا کہ کسی طرح قاتل کا پتہ چل سکے۔ اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود نتیجہ صفر رہا، کیونکہ نہ کوئی موقع کا گواہ تھا اور نہ قاتل نے کوئی نشان چھوڑا تھا۔ وہ مایوس ہوکر واپس موصل آگیا۔ وہاں کے ولی سے ملا اور اس سے مدد کی درخواست کی۔ا س نے فوری طور پر حلب کے حاکم کو خط لکھا۔ ایک مرتبہ پھر قاتل کی تلاش شروع ہوئی۔ مگر ساری تحقیق کا نتیجہ یہ تھا کہ قاتل کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ تھک ہار کر لواحقین صبر کر کے بیٹھ گئے اور اس مقدمے کی فائلیں بند کردی گئیں۔کتنے ہی سال بیت گئے مگر اس قصے کو ایک شخص نہیں بھولا اور یہ وہ شخص تھا، جس نے اس تاجر کو قتل کیا تھا۔ جب بھی وہ کسی کبوتروں کے جوڑے کو دیکھتا تو اسے مقتول کے الفاظ یاد آجاتے کہ اے کبوترو! گواہ رہنا….۔ ایک دفعہ اس کے کسی قریبی رشتے دار کے ہاں تقریب تھی۔ یہ خاصا امیر کبیر شخص تھا، لہٰذا کھانے میں بہت زیادہ لوگ تھے، جن میں شہر کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ کھانا لگایاگیا تو انواع و اقسام کے کھانے سامنے تھے۔ قاتل نے ایک بڑے طبق سے ڈھکن اٹھایا تو سامنے دو بڑے کبوتر بھنے ہوئے پڑے تھے۔ (جاری ہے) ہ


اس آدمی نے ایک لمبی سانس لی اور اس کی آنکھوں کے سامنے ایک درخت اس کے اوپر بیٹھے ہوئے کبوتر اور ایک مظلوم مقتول کی لاش گھوم گئی۔ اس کے کانوں میں مقتول کے الفاظ گونج رہے تھے: ”اے کبوترو! گواہ رہنا“اور پھر اس نے غیر ارادی طور پر ایک زوردار قہقہہ لگایا لوگوں نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا کہ کیا ہوا۔ اب اس نے کبوتروں کی طرف اشارہ کیا اور پھر قہقہہ لگایا ، ایک غیر مرئی طاقت نے اس کی زبان کھلوادی۔ وہ دعوت کو بھول کر لوگوں کو قتل کا واقعہ سنانے لگا۔ اس کا ایک ایک جزو، مکمل تفصیل سے سنایا، اس کی زبان نے کوئی چیز نہ چھوڑی۔لوگ مبہوت ہوکر اس کی داستان سن رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے اپنے راز کو افشا ںکیا تو اسے احساس ہوا کہ میں نے یہ کیا غلطی کردی۔ برسوں سے جس واقعے کو لوگ بھول چکے تھے اور اس مقدمے کی فائلیں تک داخل دفتر ہوگئی تھیں، اس نے خود اس کا چرچا کردیا تھا۔ مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ (جاری ہے) ہ


چند گھنٹوں میں پورے حلب میں یہ واقعہ ہر شخص کی زبان پر تھا اور حلب کے حاکم کو بھی اطلاع مل گئی۔ اس نے فوراً اس شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ پولیس کے سربراہ نے باقاعدہ مقدمہ درج کروایا۔ اس دعوت میں شریک لوگوں کو گواہی کیلئے طلب کیا گیا۔ انہوں نے اپنے اپنے بیان دئیے۔ مجرم کو بلواکر گواہوں کے بیانات سامنے رکھے گئے۔ اس کے پاس اعتراف کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ قاضی نے مجرم کو پھانسی کی سزا سنادی۔ (جاری ہے) ہ


پھانسی سے ایک دن پہلے مجرم سے اس کی بیوی نے الوداعی ملاقات کی اور اس سے پوچھا کہ جب اتنے برسوں سے تمہارے اس جرم پر پردہ پڑا ہوا تھا تو پھر کیسے تم نے اس راز کو فاش کردیا؟ اس نے جواب دیا: ”ایک زبردست صاحب ارادہ نے میرے ارادے کو (جس کے تحت میں نے یہ واقعہ بیان نہ کرنے کی قسم کھارکھی تھی) سلب کرلیا اور مجھے بات کرنے پر مجبور کردیا۔“اگلے روز صبح سویرے اس کی پھانسی کے منظر کو دیکھنے کیلئے بے شمار لوگ جمع تھے۔ جب اس کی گردن میں رسی ڈل دی گئی تو اس نے کہا: ”میری زبان سے الفاظ نہیں نکلے تھے، بلکہ وہ کبوتروں کی زبان سے نکلے تھے، جو دعوت کے روز میرے سامنے طبق میں پڑے تھے۔“(جاری ہے) ہ


اب جلاد نے رسی کھینچ دی۔ لوگوں نے ایک مجرم کو کیفر کردار تک پہنچتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور سکھ کا سانس لیااور پھر اچانک ہی تمام لوگ بے اختیار نعرہ تکبیر اور خدا تعالیٰ کی کبریائی اور وحدانیت کے کلمات بلند کرنے لگے۔ اس وقت لوگوں نے دو کبوتروں کو دیکھا، جو قاتل کے سر پر بغیر کسی حرکت کے بیٹھے تھے۔ تمام لوگوں نے بیک آواز کہا: ہم نے گواہی دی، ان دونوں کبوتروں نے بھی گواہی دے دی۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔