پانی کیوں مانگا؟ ایک شخص سلطان محمودبن سبکتگین کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا،اس نے جان کی امان پا کر عرض کیا کہ آپ کا بھانجا میری بیوی پر عاشق ہے،جب جی چاہتا ھے وہ زبردستی میرے گھر پر آ جاتا ہے،اس نے میری بیوی سے

علامہ حافظ ابن کثیر رحمة اللٰہ علیہ اپنی مایہ ناز تصنیف”البدایہ والنھایہ”میں رقم فرماتے ایک شخص سلطان محمودبن سبکتگین کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا،اس نے جان کی امان پا کر عرض کیا کہ آپ کا بھانجا میری بیوی پر عاشق ہے،جب جی چاہتا ھے وہ زبردستی میرے گھر پر آ جاتا ہے،اس نے میری بیوی سے ناجائز تعلقات قائم کر رکھےہیں،اس کے خوف کی وجہ سے کوئی حاکم اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تیار نہیں،میں نےہرطرف کوشش کی، امراء سے ملا،وزراء سے شکایت کی مگر میری تمام کوششیں ناکام رہیں،اس کے شر سےسب پناہ مانگتے ہیں،اس لئے میں آپ ہی سے انصاف کا طالب ہوں۔ سلطان محمود سبکتگین نے یہ شرمناک واقعہ سنا تو اس کا خون کھولنے لگا، اس نے شکایت کرنے والے سے کہا کہ آئندہ جونہی میرا بھانجا تمھارے گھر آئے،فوراً مجھے اطلاع دینا،اس بات کی قطعاً پرواہ نہ کرنا رات ہے یا دن،پھر سلطان نے اپنے سکریٹری کو طلب کیااور حکم جاری کیا  (جاری ہے) ہ

کہ تمام سیکورٹی والوں کو اطلاع کردو کہ جب بھی یہ فریادی آئے، اسے فوراً میرے پاس پہنچا دیا جائے۔ دو دن گزرے،رات کا کچھ حصہ بیت چکا تھا کہ وہ شخص سلطان محمود کے محل آپہنچا، سلطان سو رہا تھا،اسے جگا کر بتایا گیاکہ فلاں شخص آپ سے ملاقات کے لئے حاضرہوا ہے،سلطان فوراً اٹھا اور فریادی کے ساتھ اس کے گھر روانہ ہو گیا، گھر میں داخل ہوا تو اس نے اپنے بھانجے اور عورت کو ایک ہی بستر پر پایا،کمرے میں شمع روشن تھی ،سلطان نے فریادی سے کہا کہ تم پیچھے ہٹ جاؤ، اس کے بعد وہ آگے بڑھااور شمع گلکر دی، پھر وہ بجلی کی طرح اپنے بھانجے کی طرف لپکا اور پلک جھپکتے ہی اس کی گردن تن سے جدا کر دی، اب سلطان نے آواز دی:جلدی سے پانی لاؤ،وہ شخص پانی لے آیا تو سلطان نے بے تابی سے پانی پیا، اس شخص نے سلطان کو قسم دے کر پوچھا  (جاری ہے) ہ

......
loading...

کہ آپ نے آتے ہی شمع کیوں بجھائی؟سلطان نے کہا:تیرا ناس ہو!یہ میرا سگا بھانجا تھا،میں اسے ذبح ہوتےنہیں دیکھ سکتا تھا،میں نے سوچاہو سکتا ھے اس کی شکل دیکھ کر مجھے رحم آجائے اور میں تقاضائے عدل پورا نہ کر سکوں، اس شخص نے اگلا سوال کیا: آپ نے اسے ذبح کرتےہی پانی کیوں مانگا؟سلطان نے جواب دیا:جب تم نے مجھے میرے بھانجے کے بارے میں اطلاع دی تھی، (جاری ہے) ہ

میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک تمھاری مدد نہ کر لوں، مجھ پر کھانا پینا حرام ہے،میں اسی وقت سے پیاسا تھا،اس لئے فوراً پانی مانگا،اس شخص نے عادل سلطان محمود کو خوب دعائیں دیں،اور اس واقعے کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ھوئی! (البدايه والنهايه ج/15، ص/634) یہ ہےہمارے نیک حکمرانوں کے کردار کی ایک جھلک، انھوں نے حق وانصاف کے معاملے میں اپنے اور بیگانے میں کبھی کوئی تمیز روانہیں رکھی اور عدل وانصاف کا ترازو ہمیشہ سیدھا رکھا!

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔