مؤذن کا بھیا نک انجام مؤذن مسجد کی چھت پر چڑھا اس نے پاس ہی ایک چھتپر ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی دیکھی

ایک مؤذن عصر کی جامع مسجد میں اذان دیا کرتا تھا۔ ظاہر میں وہ دین کا کام کرنے والا تھا لیکن اس کے دل میں خوفِ خدا نہ رہا۔ اس کے دل میں فسق و فجور بھر چکا تھا۔ ایک دفعہ وہ اذان دینے کے لیے مصر کی اس مسجد کے مینار پر چڑھا۔ مینار کے ادھر ادھر مکانات تھے۔
ایک مکان میں اس کی نظر پڑی تو اسے کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئی۔ اس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اذان دینے کی بجائے وہ نیچے اترا اور اس گھر کے پاس جا کر معلومات لیں کہ یہ لڑکی کون ہے؟ کسی نے کہا کہ فلاں جگہ اس کا باپ ہے۔ (جاری ہے) ہ

یہ اس کے پاس گیا۔ معلومات لیں کہ آپ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ ہم عیسائی ہیں اور یہاں نئے آ کر بسے ہیں۔ ابھی ایک دن ہوا ہے کہ ہم یہاں آ کر ٹھہرے ہیں۔ اس نے کہا کہ اچھا میں چاہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھوں۔ اس عیسائی نے کہا کہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تمہیں ہمارے دین پر آنا پڑے گا۔ پھر میں اپنی بیٹی کا تمہارے ساتھ رشتہ بھی کر دوں گا۔ یہ بڑا خوش ہوا، کہنے لگا ٹھیک ہے۔ میں تمہارے دین کو قبول کر لیتا ہوں۔ عیسائی نے کہا میرے ساتھ آؤ۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر مکان پر جانے لگا۔ (جاری ہے) ہ

ابھی چوتھی سے پانچویں سیڑھی چڑھ ہی رہا تھا کہ اس کا پاؤں پھسلا گردن کے بل نیچے گرا اور وہیں پر اس کی جان نکل گئی مینارے پر چڑھا تھا اذان دینے کے لیے مگر اللہ تعالیٰ کو اس کے اندر کا فسق و فجور ناپسند تھا جس کی وجہ سے پروردگار نے حالات ایسے بنا دیے کہ جب وہ مینار سے نیچے اترا، اس وقت وہ ایمان سے خالی ہو چکا تھا۔اللہ اکبر

اپنا تبصرہ بھیجیں