بیوی سے ۳۰۰ روپے لینے کی وجہ ایک شخص روزانہ بیوی سے تین سو روپے لیتا اس کی زندگی سکون میں آگئی ۔۔

اگر آپ بھی میری طرح تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ تحریر آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے۔دفتر میں لنچ کا وقفہ تھا اور ہم سب لوگ کھانے کی میز کے گِرد جمع تھے۔ایسے میں فہیم میاں نے پوچھا، علیم صاحب! آج آپ کو گھر سے کتنا جیب خرچ ملا ہے؟آج مجھے پورے 400 روپے ملے ہیں، میں نے مصنوعی انداز سے گردن اکڑاتے ہوئے جواب دیا۔واہ! یعنی پورے 100 روپے زیادہ، آج تو آپ کے مزے ہو گئے، فہیم کے لہجے کا طنز چھپا نہ رہ سکا۔خرم ساری بات نہیں جانتا تھا، اس لیے حیران ہو کر پوچھنے لگا ’’کیا مطلب؟ آپ کو روزانہ گھر سے جیب خرچ کے پیسے ملتے ہیں؟‘‘’’ارے ہاں بھئی! میری بیگم صاحبہ روزانہ مجھے 300 روپے جیب خرچ دیتی ہیں اور آج انہوں نے 100 روپے زیادہ دیے ہیں کیوں کہ واپسی پر کچھ چیزیں لیتے ہوئے جانا ہے، میں نے وضاحت کی۔یہ سن کر خرم کے چہرے پر حیرت کا رنگ مزید گہرا ہو گیا اور کہنے لگا یہ کیا بات ہوئی! آپ اپنی بیگم سے جیب خرچ لیتے ہیں تو کیا آپ کو بُرا نہیں لگتا؟اِس میں بُرا لگنے والی کون سی بات ہے یار؟ یہ فیصلہ ہم دونوں نے مل کر کیا ہے کیوں کہ میں بہت فضول خرچ ہوں اور جیب میں جتنے بھی پیسے ہوں، بہت جلدی اُڑا دیتا ہوں اس لیے ضروری ہے کہ مجھے روزانہ لگا بندھا جیب خرچ ہی دیا جائے میں نے اپنی بات مزید واضح کی۔
میرا کہنا کچھ غلط بھی نہیں تھا کیوں کہ پُرانے احباب میری فضول خرچی کی عادت سے بخوبی واقف ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ کئی مواقع پر اسی بناء پر مجھے کئی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ۔جاری ہے۔


300 روپے روزانہ جیب خرچ کا قصہ یہ ہے کہ شادی کے ابتدائی چند سال میں ہم دونوں میاں بیوی نے گھر کا بجٹ بنانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ صرف اندازے کی بنیاد پر اپنے ماہانہ اخراجات کا حساب رکھا کرتے تھے۔ پیسے خرچ کرنے کے معاملے میں میرا لااُبالی پن اپنی پرانی روِش پر جاری تھا۔لیکن ایک مہینہ ایسا بھی آیا کہ جب میں نے مزے میں آ کر کچھ زیادہ ہی رقم خرچ کر دی اور اگلی تنخواہ سے بہت پہلے جیب خالی ہو گئی۔ الحمدللہ فاقے کی نوبت نہیں آئی کیوں کہ بیگم صاحبہ ہر مہینے کھینچ تان کر کے تھوڑی بہت رقم پسِ انداز کر لیا کرتی تھیں جو اُس بحران میں کام آ گئی۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ اگلے دو ہفتے تک انتہائی احتیاط سے اخراجات چلانے پڑے۔سچی بات ہے دوستو! اُس وقت نصیحت تو ضرور ہوئی لیکن میں ٹھہرا پوتڑوں کا بگڑا ہوا فضول خرچ اور مجھ سے صرف تنگ دستی ہی میں کفایت شعاری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ زندگی میں بہت زیادہ خواہشات کبھی نہیں پالیں مگر پیسہ جب بھی ہاتھ میں آیا، اللّے تللّے میں ہی اُڑایا۔ وہ ریاضی جس کا تعلق معاشیات سے ہو، ہمیشہ سے میرے لیے اُکتاہٹ کا باعث ہی بنی ہے لیکن اب معاملات شادی سے پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب سنبھلنا ضروری ہو گیا تھا۔تب ہم دونوں میاں بیوی نے ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنے مالی حالات کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں ہر مہینے کا باقاعدہ بجٹ بنانا چاہیے اور بجٹ بنانے ۔جاری ہے۔

سے پہلے ہم نے غور کیا کہ انتہائی لازمی نوعیت کے گھریلو اخراجات کون کون سے ہیں۔ یعنی وہ اخراجات جن پر کوئی سمجھوتہ ممکن ہی نہیں۔ اس طرح ہم نے گھر کے بجٹ کو ’’مدّات‘‘ (ہیڈز) میں تقسیم کرنا شروع کر دیا جیسے کہ راشن، بجلی اور گیس کے بل، بلڈنگ مینٹی ننس، مرغی، گوشت، موبائل کارڈز، انٹرنیٹ فیس اور دوائیں وغیرہ۔ماہانہ مدّات بنانے کے بعد ہم نے یہ حساب لگایا کہ باقی کی رقم سے مہینے بھر کے روزمرہ اخراجات کس حد تک ممکن ہیں، اس کے لیے ہم نے باقی کی رقم کو مہینے کے 30 دنوں پر تقسیم کر کے روزانہ مدّات بنائیں۔ احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم نے’’ناگہانی اخراجات‘‘ کی مد میں بھی کچھ رقم علیحدہ کر لی تاکہ تقریب یا تکلیف، ہر دو میں سے کسی کی صورت میں بھی زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد تنخواہ ملتے ہی تمام مدّات کی پرچیاں بنائیں اور ہر مدّ کے لئے مختص کردہ رقم اس کی پرچی کے ساتھ پِن لگا کر رکھ دی۔ یہی معاملہ روزمرّہ اخراجات کے ساتھ بھی کیا گیا اور یوں 30 دن کی 30 پرچیوں کے تحت رقم رکھ دی گئی۔اس ساری تقسیم کے نتیجے میں روزانہ جیب خرچ کے طور پر میرے لئے جو رقم بچی، آج وہ 300 روپے یومیہ ہے اور اسی میں مجھے دفتر جانے آنے کے کرائے سے لے کر کھانے پینے تک، سارے ذاتی اخراجات کرنے ہوتے ہیں۔اس پابندی کی وجہ سے میری فضول خرچ فطرت کی تسکین تو نہیں ہوتی لیکن اتنا ضرور ہے کہ اخراجات اعتدال پر رہتے ہیں اور اس کا سارا کریڈٹ میں اپنی بیگم صاحبہ کو دینا چاہوں گا جو مجھے روزانہ 300 روپے جیب خرچ کے طور پر دیتی ہیں۔ ۔جاری ہے۔


یہی نہیں بلکہ ہم دونوں کی مشترکہ ذمہ داری یہ بھی ہے کہ روزانہ خرچ ہونے والی رقم کی ایک ایک پائی کا حساب (چاہے اس کا تعلق کسی بھی مدّ سے ہو) پابندی سے لکھیں تاکہ مہینے کے اختتام پر معلوم ہو جائے کہ پورے مہینے میں ہم نے کون کون سے اخراجات کئے اور آئندہ مہینے کے لئے ہمیں کن مدّات میں اخراجات کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے، یہ سلسلہ تادمِ تحریر جاری ہے۔ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ روپے پیسے کا سارا کنٹرول مرد کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور روزمرہ خرچ کی رقم بھی شوہر ہی کو بیوی کے ہاتھ پر رکھنی چاہیے۔ اس کے برعکس بیوی سے روزانہ جیب خرچ کے پیسے لینے والے۔جاری ہے۔

مرد کو ہمارے یہاں زن مرید اور اسی قسم کے نہ جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ بیوی سے جیب خرچ لینے کو مرد کی انا کو مسئلہ بنا دیا جاتا ہے اور گھروں میں اس بات پر شدید نوعیت کے جھگڑے ہو جاتے ہیں لیکن اگر شوہر میرے جیسا ’’الل بچھیرا‘‘ ہو تو اسے کم از کم اپنی اس خرابی کا اعتراف ضرور کرنا چاہیے۔زندگی میں اعتدال کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ شوہر اور بیوی کو ایک گاڑی کے دو پہیئے سمجھا جائے وہیں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ خانگی ذمہ داریوں کا تعین دونوں باہمی مشورے اور افہام و تفہیم سے کریں، چاہے ان کا تعلق امورِ خانہ داری سے ہو یا پھر گھریلو معاشیات سے۔ ایسا کرنے سے کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اس مشاورت سے گھر کے معاملات ہی بہتر ہوتے ہیں۔6 سال پر مُحیط اپنے اس تجربے کی روشنی میں میرا تو تمام تنخواہ دار دوستوں کو یہی مشورہ ہو گا کہ ایک بار ماہانہ گھریلو بجٹ بنانے اور بیوی سے جیب خرچ لینے کا معمول بنا کر دیکھیں، تب ہی انہیں اس کا فائدہ صحیح معنوں میں معلوم ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں