ایک دہقان کے پاس ایک خوبصورت گائے تھی وہ اس سے بڑا پیار کرتا تھا ایک رات ایک شیر وہاں آنکلا اور گائے کو

ایک دہقان کے پاس ایک خوبصورت گائے تھی۔ وہ اس سے بڑا پیار کرتا تھا۔ ایک رات ایک شیر وہاں آ نکلا اور گائے کو کھا کر اس کی جگہ پر بیٹھ گیا۔ دہقان رات کے اندھیرے میں گائے کے تھان پر پہنچا اور شیر کے جسم کو اپنی گائے سمجھ تھپتھپانے لگا۔ شیر گائے چٹ کر کے سیر ہو چکا تھا۔ اس نے دہقان کو کچھ نہ کہا اور دل میں سوچا کہ اگر اجالا ہوتا تو مجھ کو دیکھ کر ہی اس غریب کا پتہ پھٹ جاتا۔جاری ہے۔

......
loading...

اور دل خون ہو جاتا جو مزے سے مجھے کھجا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مجھ کو اپنی گائے سمجھ رہا ہے۔حاصل کلام یہ کہ انسان کا نفس ایک خونخوار شیر ہے۔لیکن وہ اپنی کو رباطنی کی وجہ سے اس کو گائے سمجھ کر پالتا رہتا ہے۔۔جاری ہے۔

حق تعالیٰ بھی یہی کہتا ہے کہ اسے مغرور اندھے میرے نام سے کوہ طور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ اگر میں پہاڑ پر قرآن اتار دیتا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ تو محض ماں باپ سے میرا نام سن کر ایمان لایا ہے۔اگر تو میری حقیقت سے واقف ہو جائے تو اپھے آپ کو فناہ کر ڈالے (نفس امارہ کو ہلاک کر دے ) اور بے نشان ہو جائے۔