مشعال خان کا جنازہ پہنچا تو امام مسجد نے کیا کہا؟

امام مسجد نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام میں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا اور پھر پیشے کے اعتبار سے مقامی ٹکنیشن کو امامت کرانے کو کہا گیا لیکن پھر شرکاءنے ان کی امامت کی مخالفت کردی۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق صوابی کے رہائشی سلمان احمد نے انکشاف کیا ہے کہ مشال خان کی میت جب مردان سے ۔جاری ہے۔

تقریباً60کلومیٹردورآبائی گاوءں لائی گئی تو مقامی مسجد کے امام نے انکا نماز جنازہ پڑھانے سے معذرت کر لی۔سلمان احمد نے مزید بتایا کہ امام مسجد کے انکار کے بعد ایک ٹیکنیشن کو نماز جنازہ پڑھانے کا کہا گیا ۔جاری ہے۔

لیکن اس کی کئی لوگوں نے پھرمخالفت کی۔مشال کو شاعری کا شوق تھا ۔مردان پولیس کے چیف محمد عالم شنواری نے پولیس کی غفلت کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ ’جب پولیس ٹیم مردان یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئی تو مشال کو قتل کیا جاچکا تھا اور ہجوم اس کی لاش کو جلانے کی کوشش کررہاتھا‘۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں