ایک درخت پر الو سو رہا تھا۔ وہیں ایک ٹڈا بہت شور مچا رہا تھا اور الو کے آرا میں خلل ڈال رہا تھا۔ پھر ٹڈے نے الو کو گالیاں دینا شروع

ایک درخت پر الو سو رہا تھا۔ وہیں ایک ٹڈا بہت شور مچا رہا تھا اور الو کے آرا میں خلل ڈال رہا تھا۔ پھر ٹڈے نے الو کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور کہنے لگا تو بڑا بد بخت ہے رات کو چوریاں کرتا ہے اور ساری رات آوارہ پھرتا ہے اور دون کو درخت کی کوہ میں جا چھپتا ہے۔ الو نے کہا خاموش رہ! اس نے ٹڈے کو بہت منع کیا مگر وہ باز نہ آیا۔ الو اس کی ان باتوں سے بڑا ناراض ہو ا۔ اب اس نے یہ سوچا کہ اس سے بدلہ لینا چاہیے یہ سوچ کر الو بولا۔اے دوست ! تیری آواز ایسی سریلی ۔جاری ہے ۔

......
loading...

ہے کہ ہر ایک خوشی سے سنے اور سنتا رہے اور جاگتا رہے تیری سریلی آواز کے سامنے گانے بجانے کے آلات کی کوئی حیثیت نہیں ہاں اے دوست ! مجھے یاد آیا کسی نے مجھے ایک گلاس میں آب حیات دیا تھا اگر تمہارا دل چاہتا ہے ۔جاری ہے ۔

تو میں اس میں سے تم کو بھی دے سکتا ہوں۔ ٹڈا اس وقت پیاسا تھا۔ اپنی تعریف سن کر خوشی سے پھول گیا اور پھولا نہ سماتا ہوا اچھل کر درخت پر گیا الو اس کے استقبال کے بہانے سے آگے بڑھا اور اس کو پکڑ لیا اور نگل گیا اس طرح اس نے اپنا بدلہ لے لیا اور دشمن کے ختم ہونے سے بہت سکون پایا۔