اپنے خاوند کی اس حرکت پر مجھے شک ہوا کہ اس کا کسی لڑکی سے جنسی تعلق ہے اور پھر ایک

مغربی معاشرہ یوں تو اخلاقیات کی پستی میں گھر ا ہوا ہے اور اسے شخصی آزادی کا نام دیا جاتا ہے لیکن ایسے برے حالات میں بھی ایک چیز کو سخت معیو ب سمجھا جاتا ہے وہ ہے شادی شدہ مردوں کا دوسری عورتوں سے تعلقات استوار کرلینا۔خاص کر اس وقت جب ان کی بیویو ں کواس بات کا پتہ چل جائے ۔جاری ہے۔

تو وہ بھی مشرقی دیسی عورتوںکی طرح ایک بھونچال پیدا کر دیتی ہیں۔ اور بعض خاوند اپنی اس بد اخلاقی کے باوجود اتنے سخت رویے کے ہوتے ہیں کہ بیویو ں کو صبر ہی کرنا پڑ جاتا ہے۔ایسا ہی لندن کے شمالی علاقے میں مقیم ایڈیلا کو کرنا پڑ رہا ہے۔کہتی ہیں کہ عرصہ 30سال سے ڈیوڈ والٹن سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔دونوں کے درمیان اس طویل عرصے میں کوئی خاص جھگڑا یا غلط فہمی نہیں ہوئی۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے میںنے اپنے 59سالہ خاوند کے رویے میں ۔جاری ہے۔

......
loading...

ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھی۔ وہ ہر وقت موبائل فون کے میسجز میں مصروف نظر آتا اور انھیں پڑھ کر مسکراتا رہتا۔ اپنی بیوی کی گفتگو پر کوئی خاص دھیان نہ دیتا۔اس کے علاوہ وہ گھر سے غائب ہوتا تو اس کا نمبر بھی مصروف یا بند ملتا۔اس کے علاوہ وہ رات کو جاگ کر باہر لان میں جاکر آہستہ آواز میں کسی سے فون پر گفتگو کرتا اور اپنا موبائل فون ایک منٹ کےلئے بھی کسی کو نہ دیتا۔ایڈیلا کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب اس نے ایک دن اپنے خاوند کو آفس سے چھٹی کر کے خوب تیار ہوتے دیکھ کر اس کی ریکی کرنے کا ٹھان لی۔ اور پیچھا کرنے پر پتہ لگا کہ و ہ ایک مشہور ریسٹ ہا?س کیمبرج لاج میں ایک لڑکی سے ملنے گیا ہے۔ اور وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ ان کی بیٹی کارڈلا کہ سہیلی بینیٹ تھی ان کی خاتون کے اسرار کے باوجود ہوٹل انتظا میہ نے اسے ہوٹل کے اس کمرے کے بارے میں معلومات نہیں دیں جہاںاس کا خاوند اور بینیٹ نہ جانے کیا کررہے تھے۔ ۔جاری ہے۔

شام کو گھر پہنچتے ہی خاتون کے پوچھنے پر پہلے تو وہ ٹالتا رہا کہ آفس کے کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا تھا۔لیکن ایڈیلا کہ یہ بتانے پر کہ اس نے اس کا پیچھا کر کے حقیقت پتہ لگالی ہے تو وہ کہنے لگا کہ وہ لڑکی کسی پریشانی میں مبتلا ہے اور میں اسے اپنی بیٹی سمجھ کر مدد کررہا ہوں۔تاہم ایڈیلا کا شک دور نہ ہوا۔ والٹن نے محتاط رویہ اپنا لیا اور اپنی بیوی کے سامنے موبائل کا استعمال ترک کر دیا اور چھپ کر لڑکی سے رابطہ کرنے لگا۔ایک رات والٹن سویا ہوا تھا کہ ایڈلا نے کسی طرح اس کے تکیے کے نیچے سے اسکا مو بائل نکالا جس پر اس لڑکی بینیٹ کا میسج آیا ہوا تھا۔جس میں لکھا تھا۔” ۔جاری ہے۔

تم پریشان تو نہیں ہو؟؟کاش میں اس وقت تمھارے پاس ہوتی اور اپنی بانہوں میں لے کر پیار کرتی”۔ یہ میسج پڑھ کر ایڈیلا رونے لگی تو والٹن جاگ گیااور ساری صورتحال سامنے آنے پر اس نے اعتراف کیا کہ وہ بینیٹ کے بہت قریب آچکا تھا۔دونوں کئی بار ہم بستری کے نشاط انگیز لمحات کا لطف بھی اٹھا چکے تھے اور اب ان کا ایک دوسرے سے دور ہونا ممکن نہیں تھا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔