حلالہ کیا ہے حلالہ کے غلط استعمال کے ذریعے فحاشی اور حرام کام کا ارتکاب کس طرح کیا جا رہا ہے

خواتین ایک اجنبی سے شادی کرنے اور جنسی تعلقات استوار کرنے کے بعد اسے طلاق دے کر واپس اپنے پہلے شوہر سے شادی کرنے کے لیے یہ رقم ادا کر رہی ہیں۔فرح (فرضی نام) جب 20 سال کی تھیں تو خاندانی دوستوں کے ذریعے ان کی شادی ہوئی تھی۔ دونوں کے بچے بھی ہوئے، لیکن فرح کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کے ساتھ بدسلوکی شروع ہوئی۔فرح نے بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک اور وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام کو بتایا:۔۔جاری ہے ۔

‘پہلی بار میرے شوہر نے پیسوں کے لیے بدسلوکی کی۔’فرح نے کہا: ‘وہ مجھے بالوں سے بال پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ کئی مواقع پر پاگلوں کی طرح برتاؤ کرنے لگتے۔’ان بدسلوکیوں کے باوجود فرح کو امید تھی کہ حالات بدل جائیں گے لیکن ان کے شوہر کے رویے میں سختی آتی گئی اور پھر ایک دن ان کے شوہر نے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعہ انھیں طلاق دے دی۔فرح بتاتی ہیں: ‘میں گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ تھی اور وہ کام پر تھے۔ ایک شدید بحث کے بعد انھوں نے مجھے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا- طلاق، طلاق، طلاق۔’یہ بعض جگہ مسلمانوں میں مروج شادی کو ختم کرنے کا ایک ہی نششت میں تین طلاق کا نظام ہے۔زیادہ تر مسلم ممالک میں تین طلاق پر پابندی ہے تاہم برطانیہ میں یہ جاننا تقریبا ناممکن ہے کہ کتنی خواتین کو تین طلاق کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔۔جاری ہے ۔


فرح نے کہا: ‘میرا فون میرے پاس تھا۔ میں نے یہ پیغام اپنے باپ کو بھیج دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی شادی اب ختم ہو گئی۔ تم اب اس کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔’رح کا کہنا ہے کہ وہ بری طرح گھبرا گئی تھیں، لیکن وہ اپنے سابق شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی تھیں۔فرح کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ‘زندگی کا پیار تھا۔’فرح نے کہا کہ ان کے سابق شوہر کو بھی اس طلاق پر افسوس تھا اور اپنے سابق شوہر کو حاصل کرنے کے لیے فرح نے حلالہ کے متنازع نظام کی جانب قدم بڑھایا۔مسلمانوں کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ حلالہ واحد طریقہ ہے جس کے سہارے دو طلاق شدہ پھر سے آپس میں شادی کرنا چاہیں تو شادی کر سکتے ہیں۔حلالہ کے بعض معاملوں میں اقتصادی طور پر ان کا استحصال کیا جا سکتا ہے، بلیک میل کیا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس چلن کے سخت خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے۔۔جاری ہے ۔

کہ اسلام میں طلاق سے منسلک قوانین کی ذاتی طور پر غلط تشریح کی جا رہی ہے۔لیکن بی بی سی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سی آن لائن سروسز کے ذریعہ حلالہ کو انجام دیا جا رہا ہے اور بہت سے معاملات میں خواتین سے عارضی شادی کے لیے ہزاروں پاؤنڈ وصول کیے جا رہے ہیں۔فیس بک پر ایک آدمی نے حلالہ سروس کی تشہیر کی تھی۔ اس سے بی بی سی کی ایک انڈر کور رپورٹر نے ایک مطلقہ مسلم خاتون کے طور پر ملاقات کی۔اس شخص نے کہا کہ ڈھائی ہزار پاؤنڈ کے عوض وہ اس سے شادی کر سکتا ہے اور پھر ہم بستری کے بعد اسے طلاق دے دے گا ۔جاری ہے ۔تاکہ وہ اپنے پہلے خاوند سے دوبارہ شادی کر سکے۔انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ اور کئی لوگ کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک نے تو ایک خاتون سے شادی کرنے کے بعد اسے طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا۔۔جاری ہے ۔

۔بی بی سی نے جب اس شخص سے ملاقات کی تو اس نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلالہ کی کسی شادی میں ملوث نہیں اور اس نے جو صفحہ بنایا ہے وہ محض تفنن طبع اور سماج کی نبض کو جاننے کے لیے ہے۔اپنے پہلے شوہر سے ملنے کے اضطراب میں فرح نے ایسے شخص کی تلاش شروع کر دی جو اس سے شادی کرے اور پھر اسے طلاق دے دے تاکہ وہ اپنے سابق شوہر سے دوبارہ شادی کر سکے۔فرح نے کہا: ‘میں ایسی لڑکیوں کو جانتی تھی جو خاندان سے چھپ کر اس کے لیے آگے بڑھی تھیں اور ان کا کئی ماہ تک استعمال کیا گیا تھا۔س کے لیے وہ ایک مسجد میں گئی تھیں جہاں انھیں مخصوص کمرے میں لے جایا گيا تھا اور وہاں انھوں نے اس خدمت (حلالہ) کو فراہم کرنے والے امام یا دوسرے کسی شخص کے ساتھ ہم بستری کی اور پھر دوسروں کو بھی ان کے ساتھ سونے کی اجازت دی گئی۔’لیکن مشرقی لندن میں اسلامی شریعہ کونسل جو خواتین کو طلاق کے مسئلے پر مشورے دیتی ہے۔۔جاری ہے ۔

وہ سختی کے ساتھ حلالہ کی مخالف ہے۔اس تنظیم کی خولہ حسن نے کہا: ‘یہ جھوٹی شادی ہے۔ یہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور مجبور خواتین کا استحصال ہے۔’انھوں نے مزید کہا: ‘یہ مکمل طور پر حرام ہے۔ اس کے لیے اس سے سخت لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے دوسرے طریقے ہیں، مشاورت ہے۔ ہم لوگ ایسا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ چاہے جو بھی ہو لیکن آپ کو حلالہ کی ضرورت نہیں۔’فرح نے آخر میں طے کیا کہ وہ اپنے سابق شوہر کے ساتھ نہیں جائیں گی اور نہ ہی حلالہ کا راستہ اپنائیں گی۔ تاہم فرح نے متنبہ کیا کہ ان جیسی صورتحال میں بہت سی عورتیں کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوں گی۔وہ کہتی ہیں: ‘جب تک آپ اس ایسی صورت حال سے دوچار نہیں ہوئے ہیں اور آپ کو طلاق نہیں ہوئی ہے اور اس درد کو نہیں سہا ہو جو میں نے سہا ہے تو آپ کسی خاتون کی اضطراب کو نہیں سمجھ سکتے۔’اب ہوش کے عالم میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔ میں اپنے شوہر کو واپس پانے کے لیے کسی کے ساتھ سونے کو تیار نہیں ہوں۔ لیکن ایک خاص مدت کے دوران میں اپنے شوہر کو واپس حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھی۔’اب اسلامی نقطہ نظر سے بات کرتے ہیں۔۔۔۔سوال: جواب: حلالہ کا مسئلہ عصر پیغمبر سے ہی شروع ہوا جس کی وجہ سے قرآن کی آیت بھی۔۔جاری ہے ۔

نازل ہوئی اور اس سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) نے احادیث بھی ارشاد فرمائیں۔اسلام میں حلالہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو جب تین طلاق دے دئے جائیں تو اس کے بعد اس کی طرف رجوع نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ وہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری کرے اور یہ مرد اپنی مرضی سے بغیر کسی کے دباو کے اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ عورت اپنے اختیار سے طلاق لے لے اس کے بعد سابقہ شوہر اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۳۰ میں اس بارے میں حکم دیا گیا ہے: « فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا» (بقره 230).یعنی اگر شوہر نے عورت کو تین طلاق دے دئے تو اسکے بعد وہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس صورت میں پہلے شوہر کے اس کی طرف رجوع کرنے میں۔۔جاری ہے ۔

کوئی حرج نہیں ہے۔یہ چیز اسلام نے اس وجہ سے رکھی ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان طلاق کی نحوست کو کم کیا جائے طلاق سے سماج میں پیدا ہونے والے مسائل کا سد باب کیا جائے چونکہ جب انسان اپنی زوجہ کو طلاق بائن یعنی تین مرتبہ طلاق دے دے گا اس کے بعد اگر اپنے کئے پر پشیمان بھی ہو تو اس پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا چونکہ اب اس عورت کو حاصل کرنا گویا انتہائی مشکل ہے اس لیے کہ جب وہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرے گی تو ضروری نہیں کہ اس کے بعد اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور بالفرض اگر وہ مطالبہ کرے تو ضروری نہیں کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے اور اس دوسری شادی میں اسلامی نے ہمبستری کی قید لگائی ہے کہ دوسرا مرد اس عورت کے ساتھ جو اب اس کی بیوی ہے ہمبستری بھی کرے اس چیز سے پہلے مرد کو یہ احساس بھی ہو گا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق بائن دے کر بھیج دے گا وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر کے ہمبستری کر لے گی اس کے بعد اگر بالفرض طلاق کی صورت میں وہ اس سے شادی بھی کرے تو یہ اسکی بے غیرتی کا ثبوت ہو گا۔ ۔جاری ہے ۔۔۔جاری ہے ۔

لیکن بعض جاہل لوگ اس مسئلہ کو دوسرے روپ سے پیش کرتے اور اس الہی حکم میں تحریف پیدا کر کے اپنا مفاد پورا کرتے ہیں جیسا کہ بعض ان اسلامی فرقوں میں جن میں صرف تین بار طلاق طلاق طلاق کہنے سے تین طلاق ہو جاتے ہیں حلالہ ایک بڑی مشکل کا علاج ہے۔ عام جاہل لوگ حلالہ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ادھر تین طلاق دینے کے بعد جب اپنے کئے پر پشیمان ہوئے تو اپنی بیوی کو کسی مرد کے پاس ایک رات کے لیے بھیج دیا اس کے بعد دوسرے دن وہ حلال ہو کر واپس آگئی۔ اس عمل کو شریعت اسلامی نے صریحا حرام قرار دیا ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی(ص) میں ایسا کرنے والوں پر لعنت بھی کی گئی ہے” لعن اللہ المحلل و المحلل لہ‘‘ (ترمذی)”خدا کی لعنت ہو اس مرد پر جو اپنی بیوی کو حلال کرنے کے لیے بھیجے اور اس مرد پر جو دوسرے کی بیوی کو اس طرح حلال کرے‘‘۔ ( یہ حدیث أبوداود ،احمد ،النسائي ،الترمذي اورابن ماجه میں بیان ہوئی ہے)عام لوگوں میں رائج حلالہ اور قرآن میں بیان شدہ حکم حلالہ میں فرق۔ عوام میں جو حلالہ رائج ہے وہ یوں ہے کہ جو اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد نادم ہو جائے تو وہ حلالہ کو اپنی مشکل کا راہ حل سمجھتے ہوئے اپنی بیوی کو کسی ملاں کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ ملاں اسے حلال کر کے لوٹا دیتا ہے یہ چیز اہل تشیع کے سماج میں رائج نہیں ہے کیونکہ اہل تشیع کے نزدیک تین بار طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی اور جو شخص الگ الگ دفعہ تین بار اپنی بیوی کو طلاق دے وہ دوبارہ کم ہی اس کی طرف رجوع کی سوچے گا اور پھر حلالہ کرنے کی کوشش کرے گا اس لیے حلالہ زیادہ تر اہلسنت کے نزدیک رائج ہے۔لیکن قرآن اور شریعت میں جو حلال کرنے کا طریقہ کار ہے وہ یہ ہے کہ تین طلاق کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے وہ چاہے کسی سے شادی کرے یا نہ کرے اور کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کی صورت میں بھی اس کو مکمل اختیار ہے کہ وہ دوسرے شوہر سے طلاق لے یا نہ لے اس میں پہلے مرد کا کوئی رول نہیں ہے اب ایسی صورت میں یہ عورت دوسرے کے ساتھ سالھا سال زندگی بسر کرے اور فرضا اگر اس کا شوہر اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا مر جائے۔۔جاری ہے ۔

تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت چاہے تو پہلے مرد کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔لہذا وہ حلالہ جو اہل سنت کے سماج میں رائج ہے بالکل ناجائز اور حرام ہے اور اس بات پر تمام علمائے اہلسنت اور علمائے اہل تشیع کا اتفاق ہے لیکن حلالہ کا وہ طریقہ جو قرآن اور احادیث میں بیان ہوا ہے وہ تمام علمائے اسلام کے نزدیک صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں