جن کی شرط بزرگ نے پرھائی شروع کی تو جن آخر بول ہئ پڑا جن نے کہا میں نکلنے کیلئے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے بزرگ نے کہا کوئی شرط ورب نہیں تجھے ایسے ہی اور ابھی ہی نکلنا پڑے گا جن نے کہا میری شرط سن تو لو

کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کو اذیتناک حالت میں مبتلا دیکھ کر، جس کے بارے میں شک کیا جا رہا تھا کہ اس پر جنات کا سایہ ہے، ایک بزرگ کے پاس لے گیا۔بزرگ نے پڑھائی شروع کی تو جن آخر بول ہی پڑا۔جن نے کہا میں نکلنے کیلئے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔بزرگ نے کہا؛ کوئی شرط ورط نہیں، تجھے ایسے ہی اور ابھی ہی نکلنا پڑے گا۔جن نے کہا میری شرط سن تو لو۔بزرگ نے کہا؛ اچھا سُنا۔
جن نے کہا؛ میں اس عورت سے باہر نکل آتا ہوں لیکن اس عورت کے خاوند میں داخل ہو جاؤنگا۔ ۔جاری ہے ۔

خاوند نے یہ سنتے ہی خوف سے کانپناشروع کر دیا اور دور جا بیٹھا۔بزرگ نے کہا؛ مجھے یہ شرط منظور نہیں۔جن نے کہا؛ جانتے ہو میں ایسا کیوں کرنا چاہتا ہوں؟بزرگ نے کہا بتاؤجن نے کہا؛ یہ آدمی نماز نہیں پڑھتا اور میں ایسا آدمی ہی تو پسند کرتا ہوں۔عورت کا خاوند واسطے دینے لگا کہ نہیں، میں اس جن کو قبول نہیں کرتا۔بزرگ نے جن سے کہا: اچھا میں تجھے ایک راستہ بتاتا ہوں۔تو ان کے گھر کے سامنے والے درخت میں رہائش کر لے۔جس دن یہ آدمی کوئی نماز نا پڑھے تو بلا جھجھک اس میں داخل ہو جانا۔اور جن نے کہا؛ مجھے یہ شرط قبول ہے اور میں اس عورت کو ابھی چھوڑ رہا ہوں۔کچھ عرصہ کے بعد اس عورت نے اس بزرگ کو فون کر کے شکریہ ادا کیا، تو بزرگ نے باتوں باتوں میں اس کے خاوند کا بھی پوچھ لیا۔ ۔جاری ہے ۔


عورت نے کہا؛ بابا جی وہ تو آجکل نماز سے پہلے جا کر مسجد کا دروازہ کھولتا ہے۔بزرگ نے کہا؛ تو بس پھر ہم نے اس جن کو هيئة الأمر بالمعروف و النهي عن المنكرمیں ملازم رکھوا دیا ہے۔بزرگ نے عورت سے کہا؛ بیٹی میرے تو وہم و گمان میں بھی یہ طریقہ نہیں آ سکتا تھا، میں نے تو بس وہی کچھ کیا جو تو نے مجھے سمجھا دیا تھا۔(عورت کو کوئی جن وغیرہ نہیں تھے، گھر میں کئی دن پہلے ماحول بنا کر اور پھربزرگ سے فون پر طریقہ کار طے کر کے وہ اپنے علاج (در اصل اپنے خاوند کی بے نمازی کا علاج) کیلئے گئی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں