بے لوث محبت سردیوں کی نخ بستہ رات تھی کہ اچانک کسی نے دردازہ کھٹکھٹایا میں نے جوں ہی دردازہ کھولا سامنے ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا آنکھیں نم کر دینے والی کہانی

میں اُس زمانے میں بر منگھم میں رہتا تھا۔ برمنگھم، انگلستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لندن اور برمنگھم میں فرق ایسے ہے جیسے کراچی اور حیدر آباد۔ آبادی اور صنعتوں کی بھرمار کے باوجود برمنگھم ابھی تک لندن کی بے رحمی، بے کسی، تڑپ اور چبھن اپنے اندر نہیں لا سکا ہے۔ لوگ چلتے چلتے رُک جاتے ہیں، جیسے کچھ بھول آئے ہوں اور بھولی ہوئی چیز کے لیے لوٹ بھی جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کھڑے ہوئے بات کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ لوگ بے مطلب اور بے غرض بھی بات کر لیتے ہیں، ہیلو کر دیتے ہیں، حال پوچھ لیتے ہیں۔ اُس روز انجم کی طبیعت خراب تھی، صبح سے رو رہی تھی۔بڑی مشکل سے شام کو اسے نیند آئی تھی اور گھر میں کچھ سکون ہوا تھا۔ نسیم بھی تھک کر سو چکی تھی۔ دونوں ماں بیٹی سرد ہوائوں سے بے خبر گرم کمرے میں لحاف میں دبکی ہوئی تھیں اور میں ٹیلی ویژن کے آگے بیٹھا رات کاسفر کاٹ رہا تھا کہ کسی نے آہستہ سے دروازہ کھٹ کھٹایا۔پہلے تو میں ہوا کا کوئی آوارہ جھونکا سمجھ کر بیٹھا رہا مگر جب دوسری دفعہ بھی دروازہ ہلا تو میں نے جا کر دروازہ کھولا۔ ایک بوڑھا آدمی سردی سے کپکپا رہا تھا۔ ’’میرا نام جان ہے، میں رات گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘ انگلستان میں اس کا رواج تو نہیں ہے مگر اب کچھ دنوں سے گرتی ہوئی معاشی صورتِ حال اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے جہاں بھکاری پیدا کیے ہیں وہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے تو میرے جی میں آئی کہ ’سوری‘ کہہ کر دروازہ بند کروں مگر بوڑھے کے چہرے پر کچھ ایسی بے کسی تھی،کچھ ایسا اضطراب تھا، کچھ ایسی امید تھی کہ مجھ سے انکار نہ ہو سکا۔مجھے ایسے لگا جیسے میں لاہور میںاپنے گھر میں کھڑا ہوں، ٹھنڈی ہوائوں کے جھکڑ چل رہے ہیں اور چچا فضل دین کپکپاتا ہوا جا رہا ہے اور یکایک رک کر کہہ رہا ہے۔ ’’مرتضیٰ! رات تیرے پاس سو جائوں کیا؟‘‘ میں راستے سے ہٹ گیا اور جان کو اندر بلا لیا۔ گرم کمرے میں آتے ہی جیسے اسے آرام ملا، اس کے چہرے پر اطمینان آ گیا۔ وہ جلتے ہوئے ہیٹر کے پاس والے صوفے پر بیٹھ گیا، مجھے محسوس ہوا، جیسے وہ بھوکا ہو۔ میں نے چار سلائس گرم کیے اور دو انڈے تل کر بھرے ہوئے کافی کے مگ کے ساتھ لا کر اس کے سامنے رکھ دیے۔ اس نے تشکر بھری نظروں کے ساتھ مجھے دیکھا اور اس طرح کھانا شروع کر دیا جیسے نہ جانے کب کا بھوکا ہو۔اوپر ایک چھوٹا کمرا خالی تھا، میں نے جتنی دیر میں بستر ٹھیک کیا، اتنی دیر میں جان کھانا ختم کر چکا تھا اور کافی کی چسکیاں لے رہا تھا۔ بھرے پیٹ کا اطمینان اس کے چہرے پر آہستہ آہستہ آ رہا تھا۔ صبح نسیم نے مجھے جگایا۔ وہ پوچھ رہی تھی کہ چھوٹے کمرے میں کون سو رہا ہے؟ جان ابھی تک سو رہا تھا اور اس طرح سو رہا تھا جیسے کبھی نہ سویا ہو۔ ویسے بھی آج ہفتہ تھا، چھٹی کا دن۔ ۔جاری ہے ۔


میں نہا دھو کر تیار ہوا تو جان جاگ گیا تھا۔ آج بھی مجھے بہت سے کام نمٹانے تھے۔ ڈرائنگ روم کا وال پیپر بدلنا تھا، نیا قالین لا کر رکھا ہوا تھا، وہ بچھانا تھا اور باہر باغیچہ صاف کرنا تھا۔ بہت دنوں سے سوچ رہا تھا مگر وقت کی کمی کی وجہ سے چیزیں خراب سے خراب تر ہو گئی تھیں۔ جیسے ہی میں نے پرانا وال پیپر نکالنا شروع کیا، جان بھی میرے ساتھ شامل ہو گیا۔ پورا دن ہم دونوں کام میں لگے رہے۔ شام تک ڈرائنگ روم میں نیا قالین بھی بچھ گیا اور نیا وال پیپر بھی لگ گیا۔ ہم دونوں بری طرح تھک چکے تھے۔میں سوچ رہا تھا کہ اگر جان رک جائے تو اس کے ساتھ مل کر باغیچے کا کام بھی نمٹا دوں گا۔ کھانا کھانے کے بعد نہ اس نے جانے کے لیے کہا اور نہ میں نے اس سے کچھ کہا۔ رات گئے جب مجھے نیند آنے لگی تو میں نے جان سے کہا کہ وہ اوپر کمرے میں جا کر سو جائے۔ آج دن بھر انجم کی طبیعت بھی صحیح رہی تھی۔ وہ ہم لوگوں کے کام کے درمیان آ کر پٹر پٹر بولتی رہی۔ مجھ سے زیادہ اس کی دوستی جان سے ہو گئی۔دوسرا دن بھی کام میں نکل گیا مگر شام کو باغیچہ اور گھر اس طرح لگ رہا تھا جیسے ہم نئے گھر میںآ گئے ہوں۔ ہر چیز صاف ستھری اور سلیقے سے لگی ہوئی تھی۔ جان دن بھر میرے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔ پیر کے دن صبح صبح میں کام پر چلا گیا، شام کو واپس آیا تو گھر کے اندر کی صورت ہی بدلی ہوئی تھی۔ لگتا تھا جیسے کسی نے پورا گھر سجا بنا دیا ہے۔ نسیم نے بتایا کہ جان نے پورے گھر کی صفائی کی ہے اوراب انجم کو لے کر پارک گیا ہوا ہے۔جان واپس آیا تو انجم کے ہاتھ میں چاکلیٹ کے کئی چھوٹے بڑے پیکٹ تھے، غبارے تھے اور کچھ کھلونے، چھوٹی سی بچوں والی ٹوکری میں بھرے ہوئے تھے۔ کھانا کھا کر ہم لوگ کافی دیر تک ٹیلی ویژن دیکھتے رہے۔ منگل کے دن سے نسیم جاب شروع کر رہی تھی۔ جان کے ذمے یہ کام لگا دیا گیا کہ وہ انجم کو نرسری چھوڑ کر آئے گا اور شام کو لے کر بھی آئے گا۔ شام کو ہم لوگ گھر پہنچے تو دیکھا، انجم کے ہاتھ منہ دھلے ہوئے ہیں۔ وہ شام کا صاف ستھرا لباس پہنے جان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔میں نے اور نسیم نے مل کر جلدی جلدی کھانا تیار کیا اور پھر روز کی طرح رات ہو گئی۔ اب جان کا یہ معمول ہو گیا کہ صبح انجم کو نرسری پہنچاتا، دن بھر گھر کی صفائی کرتا، چھوٹے موٹے کام نمٹاتا، شام کو انجم کو واپس لے کر آتا۔ رات کو اسے کوئی کہانی سناتا پھر مجھ سے تھوڑی بات کر کے خود بھی سو جاتا۔ وہ بہت دھیرے سے ہمارے چھوٹے سے خاندان کا حصہ بن گیا۔ اسے انجم سے بہت محبت تھی۔ انجم کے پاس پہلے بھی کئی کھلونے تھے مگر چار پانچ مہینے میں اس کے پاس نہ جانے کیا کیا چیزیں آ گئی تھیں۔ جان اپنی پینشن کا بڑا حصہ انجم پر صرف کر دیتا۔ وہ بڑا مست آدمی تھا، اپنی ذات میں مگن۔ آہستہ آہستہ پتہ لگتا گیاتھا اس کے بارے میں۔ ۔جاری ہے ۔


اس کا ایک بیٹا، امریکہ شفٹ ہو گیا تھا اور ایک بیٹی آسٹریلیا میں شادی کر کے آباد ہو گئی تھی اور بیوی ۱۵؍ سال پہلے کسی حادثے کا شکار ہو گئی تھی اوراب اس کا کوئی نہیں تھا۔ ایک بھائی تھا، انگلینڈ کے کسی کونے میں۔ نہ اسے اس کی خبر تھی اور نہ اسے اس کی۔ جان ہمارے ہاں آنے سے پہلے ایک اولڈ ہوم میں رہتا تھا مگراب ہمارے ہی گھر کا ایک فرد بن گیا تھا جیسے پردیس میں کوئی بزرگ مل گیا ہو اور انجم کو تو جیسے کوئی ساتھی مل گیا تھا۔ وہ جان کے ساتھ ہر وقت مگن رہتی۔ایک دن انجم کو بخار ہو گیا۔ ہم دونوں اسے جان کے پاس چھوڑ کر کام پر چلے گئے۔ دوپہر کو جان نے میرے آفس فون کیا کہ اس نے انجم کو اسپتال میں داخل کرا دیا ہے ۔اس نے ڈاکٹر کو گھر پر بلایا تھا، ڈاکٹر نے اسے اسپتال بھجوا دیا ہے۔ میںاورنسیم اسپتال پہنچے تو جان راہِ داری میںایک دیوار سے لگا کھڑا تھا۔ چھوٹی سی ایک صلیب اس کے ہاتھوں میں دبی تھی۔ نہ جانے وہ دل ہی دل میںکیا بڑ بڑا رہا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید انجم کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے مگر وہ ٹھیک ٹھاک تھی۔خسرے کی وجہ سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا اور آنکھیں سُوجی ہوئی لگ رہی تھیں مگر ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ ہم لوگ گھر آ گئے۔ رات بھرمجھے ایسا لگا جیسے کوئی ٹہل رہا ہے۔ جان کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ رات بھر نہیں سویا۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ کیا جذبہ تھا، کون سی کسک تھی، کون سا رشتہ تھا جو جان کو رات بھر جگاتا رہا۔ انجم نہ اس کی بیٹی تھی، نہ نواسی، نہ پوتی۔ وہ ایک اجنبی سماج کا، اجنبی ملک کا، اجنبی شہر کا، اجنبی زبان کا ایک اجنبی آدمی تھا۔ ایک مسافر کی طرح جو کسی سرائے میں چلاآتا ہے۔دوسرے دن میںاور نسیم شام کو اسپتال پہنچے تو اسپتال میں زبردست تماشا لگا ہوا تھا۔ سسٹر انچارج میرا انتظار کر رہی تھی اور جان استقبالیے پر بیٹھا ہوا تھا۔ جان صبح وہاں پہنچ گیا تھا اور نرسوں سے جھگڑ رہا تھا کہ وہ انجم کا خیال نہیں کر رہی ہیں۔ سسٹر نے مجھ سے کہا کہ میں جان کو واپس لے جائوں اورکل سے اسے اسپتال میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ سارے مریض، سارا نظام اس کی وجہ سے ڈسٹرب ہو گیا ہے۔ مجھے سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا پھر جب میں نے جان سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو وہ اور ناراض ہو گیا۔
سارے راستے ہم لوگ خاموش رہے۔ میں نے گاڑی کے آئینے میں دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے ہیں۔ وہ دھیرے دھیرے رو رہا تھا۔ گاڑی سے اتر کر میں نے اس سے آہستہ سے کہا۔ ’’جان! کیا بُرا مان گئے؟‘‘ اس نے بڑے کرب سے کہا۔ ’’نہیں چارلی! نہیں مجھے بُرا ماننے کا کیا حق ہے۔ جب میرے بچے میرے پاس نہیں رہے تو میں تم پہ حق کیسے جتا سکتا ہوں؟ میں تو دشمن ہوں انجم کا۔ یہ حرام خور نرسیں مجھ سے زیادہ چاہتی ہیں اسے۔ میرا کیا حق ہے؟‘‘ وہ جذباتی ہو گیا۔ اس کے جھریوں والے چہرے پر آنسو ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرح بھڑک رہے تھے۔ ۔جاری ہے ۔

......
loading...


میں نے اس سے معافی مانگ لی۔ ’’نہیں ، جان! یہ مطلب نہیں ہے میرا۔ میں بھی تو تمہارے بیٹے کی طرح ہوں۔ تم جو کچھ کہہ رہے ہو، درست ہے۔‘‘ انجم جلد ہی اسپتال سے لوٹ آئی اور زندگی کے روز و شب اسی طرح سے شروع ہو گئے۔ سال ایسے گزر گیا جیسے شروع ہی نہ ہوا ہو۔ کرسمس پر جان نے انجم کے لیے ایک قیمتی کھلونا خریدا۔ وہ جان سے اتنی زیادہ مانوس ہو گئی تھی کہ نسیم کا دل پریشان ہو گیا تھا، وہ کہتی تھی کہ ایک دن ہم لوگ واپس چلے جائیں گے، پھر کیا ہو گا؟جان بڑے دھیرے سے ہم لوگوں کی زندگی میں داخل ہوا تھا اور آہستہ آہستہ ہمارے خاندان کا فرد بن گیا تھا۔ بوڑھے جان کی زندگی بھی عجیب تھی۔ اسے بیٹے کو دیکھے ہوئے سالہا سال گزر چکے تھے۔ شروع میں تو کرسمس کارڈ وغیرہ آتے تھے پھر آہستہ آہستہ ان کا سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ فون کا ایک تعلق رہ گیا تھا مگر وہ بھی اس طرح ختم ہوا کہ جان کے بیٹے پیٹر نے شادی کر لی اور کسی نئے شہرمیں آباد ہو گیا۔ اس شہر سے اس نے فون ہی نہیں کیا اورجان کو پچھلے گھر سے کسی نے نیا نمبر بھی نہیں دیا۔ جان کو اس بات کا بڑا دکھ تھا۔ وہ اکثر کہتا۔ ’’نہ جانے پیٹر کے بچے ہیں کہ نہیں۔نہ جانے کیسے ہوں گے، کاش میں ان سے مل سکتا۔‘‘ وہ مجھے چارلی کہتا تھا اور شاید مجھ سے بھی اسی شدت سے محبت کرنے لگا تھا، جس شدت سے اسے انجم پیاری تھی۔
اس نے کبھی اپنی بیٹی کاذکر نہیں کیا تھا جو آسٹریلیا میں آباد ہو گئی تھی۔ سلویا اس کا نام تھا۔ ایک مرتبہ جمعہ کی رات نسیم اور انجم دونوں سوئے ہوئے تھے ۔ میں نے جان سے پوچھا کہ تم کبھی آسٹریلیانہیں گئے؟ یہ بھی ایک اتفاق تھا، ٹی وی پر ابھی ابھی آسٹریلیا کے ایب اوریجنلز کے بارے میں پروگرام ختم ہوا تھا، اسی لیے میں نے جان سے پوچھ لیا تھا۔ایب اوریجنلز، آسٹریلیا میں رہنے والے اصل لوگ تھے جنھیں انگریزوں نے مار مار کرختم کرنے کی کوشش کی تھی تا کہ اس وسیع و عریض زمین پر قبضہ کر لیں۔ قبضہ تو ان کا ہو گیا تھا مگر وہ ایب اوریجنلز کو ختم نہیں کر سکے تھے اور اب تو ایب اوریجنلز کی بقا کے لیے مہم شروع ہو چکی تھی۔ وہ سفید فام لوگ جو پکے رنگ کے گندمی ایب اوریجنلز کے سرکاٹنے پر دس ڈالر کمایا کرتے تھے، اب ان کی ثقافت اور تہذیب بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
میرے سوال پر جان دھیرے سے مسکرایا، ایک تلخ سی مسکراہٹ۔ ’’ہاں چارلی! میں گیا تھا۔ میری تو وہاں بیٹی ہے۔ اس کے بچے ہیںمگر وہاں دل نہیں لگا۔ میں تو اس لیے گیا تھا کہ ہمیشہ کے لیے وہاں رہ جائوں گا۔ نواسوں اور نواسیوں کو کھلاتے ہوئے زندگی گزار دوں گا مگر یہ نہ ہو سکا۔ انہوں نے میرے ساتھ وہی کیا جوایب اور یجنل کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ایک ماہ بعد ہی میری بیٹی نے کہا کہ پاپا واپس چلے جائو۔ مجھے محسوس ہوا، جیسے بچوں کا مجھ سے قریب آنا انہیں اچھا نہیں لگا۔ ۔جاری ہے ۔

ہوا یہ تھا کہ ان کا چھوٹا بیٹا اینڈریو میرے بہت قریب آ گیا تھا جیسے انجم میرے قریب آ گئی ہے۔ ایک شام ہم سب باہر بیٹھے ہوئے شام کا مزہ لے رہے تھے۔ میں تھا، میری بیٹی سلویا تھی، اس کا شوہر ڈیسمنڈ تھا۔ ٹھنڈی بیئر دن بھر کی تھکن مٹا رہی تھی اور بچے دوڑ بھاگ رہے تھے اور اپنے کھیل میں لگے ہوئے تھے کہ یکایک اینڈریو ایک چھوٹی سی دیوار سے نیچے گر گیا اور اپنے سر پر چوٹ لگا بیٹھا۔ چوٹ کوئی خاص نہیں تھی مگر وہ جیسے ہی سنبھلا، روتا ہوا، ہچکیاں لیتا ہوا اور دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا۔ ڈیسمنڈ اور سلویا دونوں اس کی طرف دوڑے مگر معصوم بچہ میری طرف آیا کیوں کہ اس تھوڑے سے عرصے میں، میں نے اسے وقت دیا تھا اور اس کے ساتھ رہا تھا۔
یہ بات ان دونوں کو اچھی نہیں لگی، مجھے آج تک ان کا چہرہ یاد ہے، نامہربان، سخت اور حیران چہرہ۔ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ میں نے اینڈریو کو ان سے چھین لیا ہے۔ گویا بچہ میرے پاس دوڑتا ہوا اپنا زخم دکھانے نہیں آیا تھا بلکہ ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا تھا۔ آج کل کے رشتوں میں تحفظ کا احساس نہیں ہے، بے لوث محبت نہیں ہے، محبت، چاہ، اُلفت سب کی قیمت ہے۔ ہر ایک کچھ واپس مانگتا ہے اور فوراً واپس مانگتا ہے۔ اینڈریو تو ان کا بچہ تھا، ان کا بچہ ہے، ان کا اپنا ہے۔وہ تو میری طرف اس لیے آیا تھا کہ چند دنوں کے لیے میری بھرپور توجہ اس کی طرف تھی۔ درد کے اس لمحے میں اس معصوم کے ذہن میں صرف میری ہی گرم گود تھی کیوں کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں ہی اسے بھرپور اور مکمل توجہ دے سکوں گا۔ اتنی سی بات سے رشتے تھوڑی بدل جاتے ہیں، دھاگے تھوڑی ٹوٹ جاتے ہیں مگر وہ دونوں یہ برداشت نہیں کر سکے تھے۔‘‘ ’’مجھے وہ گھر اجنبی لگا۔ میں روتے ہوئے اینڈریو کو چھوڑ کر واپس انگلینڈ آ گیا۔ مجھے ابھی تک وہ چہرہ یاد ہے، معصوم اور آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے۔اب تو اینڈریو بڑا بھی ہو گیا ہو گا اور شاید مجھے بھول بھی گیا ہو گا، شاید کبھی ملاقات ہو تو پہچانے بھی نہیں لیکن مجھے وہ سب پیارے ہیںاور مجھے اب بھی ان سے پیار ہے، بے انتہا، بے شمار، بے غرض اور غیر مشروط۔‘‘ میں بوڑھے جان سے نہیں کہہ سکا کہ وقت بدل گیا ہے، اقدار بدل گئی ہیں، یہ جدید دنیا ہے ۔ اس جدید دنیا کے اپنے اصول ہیں، تازہ اور نئے۔ تم ایک پرانی دنیا کے، پرانی اقدار کے بے لوث، بے غرض انسان ہو، تم مر جائو اس سے پہلے کہ تمہیں اور دکھ ہوں، اور غم ہوں۔۔جاری ہے ۔


پھر وہ دن آ گیا جب میرا کام برطانیہ میں ختم ہو گیا اور ہم لوگوں کے واپس آنے کا وقت آ گیا۔ میری اور نسیم کی توقعات کے خلاف، جان نے بڑے حوصلے سے ہم لوگوں کو انجم سمیت رخصت کیا۔ اس نے ہمارا سامان باندھا،میرے لیے، نسیم کے لیے اور انجم کے لیے تحفے لایا اور ہم لوگوں کو ہیتھرو ایئر پورٹ چھوڑنے آیا۔ اس کا پروگرام تھا کہ ہمیں چھوڑ کر واپس نیوکاسل جائے گا جہاں اس کا گھر تھا، جس میں کوئی کرایہ دار رہ رہا تھا۔ بجھے ہوئے دل کے ساتھ میں نے اس سے رخصت کی رسمی اجازت لی۔اس نے بڑے پیار سے انجم کو الوداع کیا، مجھے پتہ تھا کہ بڑی ہمت سے اس نے اپنے آنسو روکے ہیں۔ پھر ہم لوگ اس سے رخصت ہو گئے۔ میں نے مڑ کر ایک آخری نظر ڈالی۔ میں نے دیکھا، ضبط کے بند ٹوٹ چکے ہیں۔ جان جالیوں سے چپکا ہوا تھا،اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب بہہ رہا تھا۔ کسی روک ٹوک کے بغیر میرے قدم بھاری ہو گئے، میں تیز قدم ہو گیا کہ کہیں انجم بھی مڑ کر نہ دیکھے۔دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے۔ نہ مجھے فرصت ہوئی، نہ ہی جان کا کوئی خط آیا، انجم نئے لوگوں، نئے اسکول میں آ کر جلد ہی برمنگھم کو بھول گئی۔ اب وہ سب کچھ ایک خواب سا لگتا تھا۔ ایک دن لندن سے رجسٹرڈ لفافہ آیا۔ فرینک اینڈ فرینک وکیلوں کی کمپنی کی طرف سے جس میں جان کی موت کی خبر تھی۔ وہ سڑک پر ایک حادثے میں زخمی ہوا تھا پھر دس دن اسپتال میں رہ کرچل بسا تھا۔ لفافے میں وصیت کی ایک کاپی تھی جس کے مطابق جان کے پاس جو کچھ بھی تھا، وہ فروخت کر کے آدھے کا بینک آرڈر انجم کے نام تھا اور بقیہ آدھا اینڈریو کے لیے آسٹریلیا بھیج دیا گیا تھا۔
یہ جو خوب صورت مکان ہے، قیمتی اور بڑا، یہ میرا نہیں ہے۔ یہ انجم کا ہے، جہاں ہم سب رہتے ہیں اور اس مکان کا نام انجم منزل نہیں ہے، اس کا نام جان لاج ہے اور اس کتبے کے نیچے لکھا ہوا ہے۔ ’’بے لوث، بے غرض، غیر مشروط محبت۔‘‘ اس کے سوا کسی طریقے سے ہم اسے یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔ اپنے اس اجنبی دوست کو، جس نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ محبت کی صرف ایک ہی شرط ہوتی ہے اور یہ کہ محبت بے لوث، بے غرض اور غیر مشروط ہو۔