موت کا خوف حضرت سعید جبیر ؒ بڑے تابعین میں سے ہیں ، ان کو حجاج بن یوسف نے گرفتار کر ا لیا ، اس کو آپ سے مخالفت تھی ، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ان کو قتل کر دیا جائے ۔ اس نے آپ کو اپنے سامنے بلایا اور پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : سعید بن جبیرؒ اس نے کہا : مجھے تم شقی بن کسیر لگتے ہو۔

حضرت سعید جبیر ؒ بڑے تابعین میں سے ہیں ، ان کو حجاج بن یوسف نے گرفتار کر ا لیا ، اس کو آپ سے مخالفت تھی ، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ان کو قتل کر دیا جائے ۔ اس نے آپ کو اپنے سامنے بلایا اور پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : سعید بن جبیرؒ اس نے کہا : مجھے تم شقی بن کسیر لگتے ہو۔ سعید کے بالمقابل شقی جس کا معنی ہے ’’بدبخت‘‘ اور اور جبیر کہتے ہیں ’’اصلا کی ہوئی چیز ، اور کسیر کسر سے ہے جس کا معنی ہے ٹوٹی ہوئی چیز ۔ انہو ں نے جواب دیا جس ماں نے میرا نام رکھا ہے وہ مجھے تم سے بہتر جانتی تھی ۔ حجاج نے کہا تو بھی بدبخت ، تیری ماں بھی بدبخت ۔ انہوں نے آگے سے جواب دیا : غائب کا علم اللہ کے پاس ہے ۔ اس نے غصے میں آکر کہا : میں ابھی تجھے جہنم رسید کرتا ہوں ۔ تو جواب میں فرمانے لگے : اگر میں تجھے اتنے اختیار والا سمجھتا کہ تو مجھے جہنم میں بھیجنے کے قابل ہے تو میں تجھے سجدہ کرنا شروع کر دیتا ۔ اس جواب پر وہ بڑا زچ ہوا ، حالانکہ موت کے وقت تو بندے کا گلا ہی خشک ہو جاتا ہے ، آواز ہی نہیں نکلتی اور ان کی دیکھیں کہ شیر کی طرح آگے سے گرج کر جواب دے رہے ہیں ۔ ۔جاری ہے ۔

حجاج کہنے لگا : اچھا تو تم کیسے قتل ہونا پسند کرو گے ؟ جواب میں فرمایا : جیسا آپ خود قتل ہونا پسند کریں ، میں بھی ویسے ہی پسند کروں گا ۔ حجاج بڑا پریشان ہوا، کہنے لگا : اچھا میں جلاد کو بلاتا ہوں ، اس نے جلاد کو بلایا اور کہا کہ اس کو قتل کر دو ! تو جیسے انہوں نے سنا تو تیار ہونے لگے ۔ حجاج نے پوچھا : تمہاری کوئی آخری خواہش اور تمنا ؟ فرمایا : ہاں ! دو رکعت نفل پڑھنا چاہتا ہوں ۔ کہنے لگا : ٹھیک ہے پڑھ لو ۔ انہوں نے دو رکعت تو پڑھیں مگر بڑی خفیف اور ہلکی ، جلدی جلدی مکمل کر لیں ۔ اس پر حجاج بڑا حیران ہوا اور کہا : مشہور تو ہے تم بڑی لمبی نماز پڑھتے ہو اور آج تو دو رکعت تم نے بڑی ہلکی پڑھیں ، اس کی کیا وجہ ہے ؟جواب میں فرمایا : میں آج نماز ہلکی اس لیے پڑھی کہ تمہارے دل میں گمان نہ ہو کہ موت کے ڈر کی وجہ سے یہ اپنی نماز لمبی کر رہا ہے ،اس لیے مختصر نماز پڑھی ۔ اس نے کہا اچھا اس کو لٹائو! جب انہوں نے آپ کو لٹایا تو انہوں نے فورا! اپنا چہرہ قبلے کی طرف کیا اور پڑھا : ترجمہ :’’سب سے یکسو ہو کر میں اپنے منہ کو اسی کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائی ‘‘ اس پر اس کو غصہ آیا اور کہا اس کا چہرہ قبلے کی طرف سے پھیر دو ، تو لوگوں نے ان کا چہرہ قبلے کی طرف سے پھیر کر رخ بدل دیا تو وہ پڑھنے لگے ،۔جاری ہے ۔

ترجمہ ’’ پس تم جس طرف بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا رخ ہے ‘‘ اس نے کہا اس کا چہرہ زمین کی طرف کر کے اوندھا لٹا دو، جب ان کو اوندھا لٹایا تو زمین پر لیٹ کر پڑھنے لگے ۔ ترجمہ ’’اس زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اس میں لوٹائیں گے اور دوبارہ اسی سے نکالیں گے ‘‘ ۔ جب انہیں شہید کیا تو اتنا خون نکلا اتنا خون نکلا کہ جگہ ہی ساری خون سے بھر گئی ، لوگ بھی حیران اور حجاج بن یوسف بھی حیران تھا، اس نے اطبا سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ؟ بڑے لوگوں کو قتل کیا گیا مگر بس تھوڑا سا خون نکلتا تھا ، لیکن آج تو اتنا خون نکلا کہ حیران ہیں ، اطبا نے جواب دیا کہ علم طب کی رو سے محسوس ہوتا ہے کہ پہلے لوگوں کو جو قتل کیا جاتا تھا ، ان کے دل میں موت کا خوف سوار ہوتا تھا ، اس خوف کی وجہ سے ان کا خون خشک ہو جاتا تھا ، تو قتل کرنے کے باوجود تھوڑا نکلتا تھا ، اس بندے کو جو قتل کیا گیا تو لگتا ہے کہ موت کا خوف تھا ہی نہیں ، لہٰذا جتنا خون تھا اصل حال میں باقی رہا اور ان کی شہادت کے بعد سارا خون جسم سے باہر نکلا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ موت کا خوف ان کے دلوں میں تھا ہی نہیں ، کیسے لوگ  تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں