نیک روحوں کی سرزمین گوادر وہ نوجوان جو گوادر کی سیر کو گیا تو اچانک سمندر میں کی ریت پیروں تلے سے کھسک گئی سمندر میں ایک گاڑی آئی اور اسے باہر نکال دیا ہوش میں آیا تو ادر گرع جمع لوگوں نے بتایا کہ یہاں کوئی گاڑی نہیں آئی آپ کو سمندر میں جاتے دیکھا اور پھر ایک بڑی

ان دنوں کالج میں چھٹیاں تھیں۔ میرا دل کافی عرصہ سے مچل رہا تھا کہ گوادرکی سیر کرکے اس کی خوبصورتی کا نظارہ کروں اور خاص طور پر گوادرکے ساحل پر ڈوبتے اور طلوع ہوتے سورج کا وہ مسحور کن نظارہ کر سکوں جس کا آئے روز ذکر ہوتا ہے۔ میں نے سنا تھا کہ گوادر کافی آباد ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے بارہ تیرہ سال پہلے گوادر میں ابھی وہ رونق نہیں تھی جو آج ہے اور اب تو یہ سی پیک سے جڑ چکا ہے، کئی شاندار ہاﺅسنگ سکیمز شروع ہوچکی ہیں اور’گوادرسنٹر ل‘ بن چکاہے۔اور آنے والے وقت میں یہ پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر اور بزنس حب ہوگا۔اسکی فضا نہایت موزوں اور صحت افزا ہوگی ۔مجھے یقین ہے ایک روز پورے ملک کے لوگ اس بات پر بے چین اور کف افسوس ملتے نظر آئیں گے کہ انہوں نے گوادر میں گھر کیوں نہیں بنایا۔میرے چچا اکثر گوادر کے بارے میں حیران تجربات بیان کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہاں نیک لوگوں کی روحیں موجود ہیں ،بلوچستان کا یہ وہ حصہ ہے جو کبھی ملک سبا کا وطن ہوا کرتا تھا۔خیر اس بات کا تو میں خود بھی گواہ ہوں ۔ کہ اس کی سرزمین میں کچھ حیران کرنے والی بات ہے۔ ملتان سے گوادر جانے کے لیے میں نے موٹر بائیک پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔مجھے بائیک پر دور دراز علاقوں میں سیر کرنے کا جنون ہے۔ 150سی سی ٹریل موٹر سائیکل اگرچہ پہاڑی علاقوں میں سیر کے لیے سود مند نہیں ہوتی البتہ میدانی علاقوں میں اس پر سفر کو یادگار بنایا جا سکتا ہے۔ ۔جاری ہے ۔

......
loading...


میں بہت آہستہ آہستہ شہر بہ شہر سفر کرتا ہوا گوادر پہنچا تو اس وقت شام ہو چکی تھی۔ ابھی اندھیرانہیں چھایا تھا۔ میں نے گودار میں نماز مغرب ادا کی اور یہ میںعادت کے مطابق نماز ادا کرنے کے بعد تسبیحات کرنے لگا۔ جب اس سے فارغ ہوا تو میں نے گوادر کے ساحل کی جانب ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ یہاں سے گوادر کا ساحل نظر آتا ہے اور سمندر کی لہریں ساحل سے لپٹنے کے لیے موج در موج آتی ہیں۔ موسم خوشگوار تھا ۔صبح کاذب کے وقت میری آنکھ کھلی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ بہت بھلی معلوم ہوئی۔ ٹھنڈی مرطوب ہوا سے دل اور ذہن پر بہت اچھا اثر ہوا۔ میں جلدی سے اٹھا اور پیدل ہی گوادر کے ساحل پر پہنچ گیا۔ گھٹنوں تک ٹراﺅزر چڑھا لیا اور ساحل پر چلتے چلتے سمندر کی لہروں سے کھیلنے کے لیے آگے بڑھا….سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا ۔میٹھی میٹھی کرنوں سے پھوٹنے والا اجالا بہت نرم تھا۔ میں ماحول کی سحر زدگی میں جب کافی آگے تک ساحل پر چلتا ہوا پانی میں اترا تو موجیں مچلنے لگیں ۔کافی دور مجھے سمندر میں ایک جہاز رواں نظر آیا۔ میں اس کودیکھنے میں اتنا مگن ہوا کہ یہ بھول ہی گیا کہ میں ساحل کو تین سو میٹر تک پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔
اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرے پیروں تلے سے ساحل کی ریت کھسک گئی ہے اور میں پانیوں میں تیر رہا ہوں۔ اچانک تھا کہ بےہوش ہوجاتا، کیا دیکھتا ہوں کہ ساحل کی جانب سے بہت تیز رفتار گاڑی میری طرف آرہی ہے اور سمندر میں داخل ہوگئی ہے۔ میں اس وقت تک غوطے کھا کر سنبھلنے کی کوشش میں تھا کہ اچانک گاڑی میں سے ایک انسان پانی میں کودا اور پھر تیرتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھے گھسیٹتا ہوا گاڑی تک لے گیا اور اس میں بیٹھا کر باہر ساحل تک آیا۔ اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہیں رہا کیونکہ اس وقت تک کافی پانی میرے اندر داخل ہوگیا تھا۔۔جاری ہے ۔


ہوش آیا تو دیکھا چند لوگ میرے گرد کھڑے ہیں اور ایک مقامی شخص مجھ پر جھکا ہوا ہے۔ میں نے آنکھیں کھولیں و ہ بولا ”‘شکر ہے خدا کا تو نے آنکھیں تو کھولیں۔“ اس شخص نے مجھے الٹا لٹا کر پھیپھڑوں اور پیٹ سے پانی نکال کر مجھے ہوش دلائی تھی۔ اس وقت تک سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اسنے بتایا کہ ایک گھنٹہ سے تمہیں ہوش میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی میں نے اس سے گاڑی والے کے بارے میں پوچھا تو وہ حیران ہو ا کہ یہاں تو کوئی بھی گاڑی والا نہیں۔ میں نے اٹھ کر دیکھا۔ دور تک ریت پر ٹائروں کے نشان بتا رہے تھے کوئی تو تھا جس نے گاڑی سمندر میں اتار دی اور مجھے بچا لیاتھا۔ وہ شخص بولا کہ وہ صبح سے ساحل کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ اور اس نے مجھے سمندر میں جاتے ہوئے دیکھا اور پھر ایک بڑی موج نے ہی مجھ کو ساحل پر لا پٹخا تھا۔ میں اس کی بات تسلیم نہیں کر رہا تھا اور وہ اپنی بات پر بضد تھا۔ میں آج تک حیران ہوں کہ ہم دونوں میں سے سچا کون ہو سکتا ہے؟کیا یہ گوادر کی کوئی نیک روح تھی؟

۔