جنازہ ایک دن معروف کمپنی کے ملازمین اپنے دفتر پہنچے تو ان کی نظر دروازے پر لگے ایک نوٹس پر پڑی، اس پر لکھا تھا گذشتہ رات وہ شخص جو کمپنی کی اور آپ کی بہتری اور ترقی میں رکاوٹ تھا انتقال کر گیا ہے آپ سب سے درخواست ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے

ایک دن معروف کمپنی کے ملازمین اپنے دفتر پہنچے تو ان کی نظر دروازے پر لگے ایک نوٹس پر پڑی، اس پر لکھا تھا گذشتہ رات وہ شخص جو کمپنی کی اور آپ کی بہتری اور ترقی میں رکاوٹ تھا انتقال کر گیا ہے آپ سب سے درخواست ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کیلئے کانفرنس روم میں تشریف لے چلیں جہاں اس کا مردہ جسم رکھا ہے۔“ یہ پڑھتے ہی پہلے تو سب اداس ہو گئے کہ ان کا ایک ساتھی ہمیشہ کیلئے ان سے جُدا ہو گیا ہے لیکن چند ہی لمحوں بعد انہیں اس تجسس نے گھیر لیا کہ وہ کون سا شخص تھا جو ان کی اور کمپنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا، اس شخص کو دیکھنے کیلئے سب تیزی سے کانفرنس روم کی جانب ہو لئے۔ کمپنی کے مالک نے ملازمین سے کہا کہ وہ ایک ایک کر کے آگے جا سکتے ہیں اور کفن پوش کا دیدار کر سکتے ہیں۔ دراصل کفن میں ایک آئینہ رکھا ہوا تھا جو بھی کفن کے اندر جھانکتا وہ اپنے آپ کو دیکھتا! آئینہ کے ایک کونے پر تحریر تھا :۔جاری ہے ۔

......
loading...


”دنیا میں صرف ایک شخص ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو محدود کر سکتا ہے یا آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ شخص آپ خود ہیں“ آپ کی زندگی میں تبدیلی آپکے باس کے تبدیل ہونے سے، آپکے دوست احباب کے تبدیل ہونے سے، آپ کی فیملی کے تبدیل ہونے سے یا آپ کی کمپنی تبدیل ہونے یا آپ کا معیار زندگی تبدیل ہونے سے نہیں آتی۔ آپ کی زندگی میں اگر تبدیلی آتی ہے تو صرف اس وقت جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنا تجزیہ کریں، اپنے آپ کو آزمائیں، مشکلات نقصانات اور ناممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں،۔جاری ہے ۔

فاتح کی طرح سوچیں زندگی کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔ رئیس المتغّزلین مولانا حسرت موہانی نے جس طرح اپنی شاعری کے تین رنگ بتائے ہیں فاسقانہ، عاشقانہ اور عارفانہ، کم و بیش یہ تینوں رنگ اکثر عوام میں پائے جاتے ہیں لیکن اگر ان میں ایک اور رنگ جسے ”مخلصانہ“ کہتے ہیں اپنے اندر سما لیں تو ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ورنہ کبھی نہ کبھی ہمارے بڑوں، فیکٹری مالکان یا باس کو شیشے کو کفن میں رکھ کر ہر کسی کو اس کا چہرہ دکھانا پڑے گا اور اس شیشے کے پاس لکھا ہوا ہو گا …. دیکھتا جا اور شرماتا جالہٰذا اگر ہم اپنے آپکو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں کے ساتھ مخلص ہو کر آگے بڑھنا چاہئے، تب دیکھنا آپکے قدم چندا ماموں کے پاس پہنچ جائینگے اور آپ ستاروں پر کمندیں ڈال لیں گے