لائلپور کا پہلا دیہاتی سکول

فیصل آباد سے سولہ کلومیٹر دور سمندری روڈ پر واقع گاؤں چک نمبر 242 ر ب دسوھا میں سال 1909 میں گورنمنٹ زمیندارہ سکول کی بنیاد رکھی گئی تھی۔یہ اپنی طرز کا پہلا دیہاتی سکول تھا جس کا مقصد گاؤں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا تھا۔سکول کے بانی گاؤں کے ہی رہائشی خان صاحب مہر آبادان تھے جنہوں نے اپنی زرعی اراضی بیچ کر عمارت کی تعمیر شروع کروائی جو دو سال کے مدت میں 1911ء میں مکمل ہوئی۔انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے گاؤں کی سطح پر ہی ‘متحدہ انجمن’ نامی تنظیم بنائی گئی جس کا صدر خان صاحب مہر آبادان کو منتخب کیا گیا تاکہ وہ سکول کے معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں چلا سکیں۔مہر آبادان نے سال 1917ء تک سکول کی دیکھ بھال کی جس کے بعد متحدہ انجمن کی طرف سے بنائے گے دیہاتی کوٹہ سسٹم کے تحت سکول کو چلایا گیا۔ اس سسٹم کے تحت پورا گاؤں مل کر سکول کے معاملاتکو چلاتا رہا۔یکم مئی 1936ء کو خان صاحب مہر آبادان اس دنیا سے رخصت ہو گے جنہیں سکول کے صحن میں ہی دفن کیا گیا۔

گورنر پنجاب جنرل ایڈوائر نے بھی مہر آبادان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا جو سکول میں ایک تختی پر کنندہ کیے گئے ہیں۔”دسوھا ہائی سکول صوبے میں واقع چند اہم اداروں میں سے ایک ہے جس کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ایک چھوٹے گاؤں میں واقع ہے۔ یہ آبادان کے خواب کی تعبیر ہے جن کا موازنہ سرسید احمد خان سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سرسید کو نوابوں، مہاراجوں اور وائسرائے کی مدد حاصل تھی لیکن آبادان نے اپنی زمین بیچ کر اس خواب کو پورا کیا۔”قیامِ پاکستان کے بعد ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں زمیندارہ سکول کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا اور اب ادارے کے انتظامات گورنمنٹ سکول کے طور پر چلائے جا رہے ہیں۔ موجودہ ہیڈ ماسٹر محمد ارشد نے سُجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ چھ برس سے یہاں تعینات ہیں اور انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ یہ سکول تاریخی لحاظ سے ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔’تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اکثر سکول کا معائنہ کرنے کے لیے آتے رہتے ہیں جن کی آمد اہل علاقہ اور طلباء کے لیے باعثِ فرحت ہوتی ہے۔’

......
loading...

انہوں نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بارہ ایکڑ پر محیط زمیندارہ سکول کی تعمیر پر سات لاکھ انسٹھ ہزار روپے لاگت آئی تھی جبکہ اس میں بائیس کمرے اور چار واش رومز موجود ہیں جن میں سے چار کمرے خطرناک ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سکول آج بھی بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے لے جانے کے لیے کوشاں ہے اور اس وقت یہاں ساڑھے چھ سو سے زائد طالب علم زیرِ تعلیم ہیں جنہیں پڑھانے کے لیے اٹھارہ اساتذہ موجود ہیں۔تعمیر و مرمت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے  ہیڈ ماسٹر نے بتایا کہ وہ اہلِ علاقہ کی مدد سے سکول کو بہتر سے بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت بھی وقتاً فوقتاً سکول کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز مہیا کرتی رہتی ہے۔دہم کلاس کے طالب علم محمد طیب نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے میں ایک بار اساتذہ کی جانب سے طلباء کو خصوصی لیکچر دیا جاتا ہے جس میں انہیں سکول کی تاریخ اور اس کو بنانے کے پیچھے چھپے مقاصد سے روشناس کروایا جاتا ہے۔

طیب کے مطابق انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کا سکول تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور مہر آبادان نے اس وقت گاؤں کے بچوں کے لیے تعلیم کا بندوبست کیا جب کوئی سکول کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔زمیندارہ انجمن کے صدر محمد یعقوب نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کے افراد سکول کے معاملات کو ابھی بھی اسی طرح چلاتے ہیں جیسے اپنے گھروں کے معاملات چلاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ درسگاہ بہت سے شہرت یافتہ افراد کی مادرِ علی ہے جن میں سابقہ وزیر بلدیات مہر محمد صدیق اور سابقہ اراکینِ اسمبلی چوہدری سلطان احمد مرحوم، چوہدری غلام نبی اور چوہدری بشیر احمد شامل ہیں جبکہ لبنان میں پاکستان کے سفیر رہ چکے سید لال شاہ بخاری مرحوم بھی اسی سکول کے طالبِ علم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکول کو اپ گریڈ کرنے کے لیے درخواستیں اعلیٰ حکام کو بجھوائی گئی ہیں اور انہیں امید ہے کہ بہت جلد اس سکول کو ہائر سکینڈری سکول کا درجہ دے دیا جائے گا۔