صحرا کی بیٹی

سورج کی آخری سرخ کرن بھی غائب ہو چکی تھی۔رات لمحہ بہ لمحہ گہری ہوتی چلی جا رہی تھی۔ پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرنے کےلئے پرواز کرتے ہوئے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف پرواز کر رہے تھے۔ایسے میں صحرا میں ایک اونٹنی سفر کر رہی تھی۔ اس اونٹنی پر دو آدمی سوار تھے۔ دونوں بوڑھے تھے۔ انہوں نے لمبی لمبی قبائیں پہن رکھی تھیں۔ اونٹی تیزی سے سفر کرتی ہوئی بحرزقاق کے کنارے طنجہ شہر کے جنوبی دروازے میں داخل ہوئی۔یہ دونوں شخص اپنے حلےے اور لباسوں سے پادری لگ رہے تھے۔ سفر کی تھکان ان کے چہروں پر چھائی ہوئی تھی۔ ان کے گلوں میں چاندی کی بڑی بڑی صلیبیں لٹک رہی تھیں۔ ان کے سروں پر عمامے اور جسم پر سفید رنگ کی قبائیں تھیں۔…….. دروازے کے محافظوں کے قریب آکر انہوں نے اپنی اونٹنی کو روک لیا، پھر ان میں سے جو پادری آگے بیٹھا ہوا تھا اس نے تکمیل کی رسی اونٹنی کی گردن پر مار کر اسے بٹھایا اونٹی کے بیٹھتے ہی دونوں نیچے اتر آئے پھر یہ پادری محافظوں کے قریب آکر رک گئے۔ محافظ حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ان میں سے ایک پادری نے محافظوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”ہم دونوں شہر طنجہ کے امیر اور ان کے معاون الحریف بن مالک سے ملنا چاہتے ہیں۔محافظ نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کرتے ہوئے جو نماز مغرب پڑھ رہے تھے کہا:”میرے یہ ساتھی نماز پڑھ لیں پھر میں تمہیں ان میں سے ایک محافظ کے ساتھ امیر طارق بن زیاد کے پاس بھیج دوں گا۔ جب تک تم دونوں یہاں آرام کرو۔“وہ دونوں لکڑی کی موٹی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد محافظ نماز مغرب پڑھ کر فارغ ہو گئے تو محافظ جس نے پادریوں سے بات کی تھی، ان میں نماز سے فارغ ہونے والے ساتھیوں میں سے ایک کو ان پادریوں کے متعلق بتایا، پھر ان نوجوانوں میں سے محافظوں کا سردار ان کے قریب آیا اوربولا:”میرے بزرگو! اگر میں غلطی پر نہیں تو تم دونوں پادری ہو۔“دونوں نے بیک زبان جواب دیا:”ہاں! ہم دونوں پادری ہیں۔“محافظ نے پوچھا:”کیا میں پوچھ سکتا ہوں تم لوگ کہاں سے آئے ہو اور امیر طارق بن زیاد اور الحریف بن مالک سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟“انہوں نے کہا:”ہم دونوں جنوب کی ایک بستی الویرا کے رہنے والے ہیں ۔جاری ہے ۔

اور یہ بستی طارق بن زیاد کی حکومت میں شامل ہے تم لوگوں کا سردار اور طنجہ کا نائب امیر الحریف بن مالک بھی اس بستی کا رہنے والا ہے۔ ہم امیر طارق بن زیاد کے ہاں ایک شکایت لے کر آئے ہیں۔اس پر محافظ نے کہا:”میں تمہارا مطلب سمجھ گیا ہوں، میں تمہارے ساتھ اپنا ایک آدمی بھیج دیتا ہوں وہ امیر طارق بن زیاد تک تمہیں پہنچا دے گا۔ اس وقت امیر طارق بن زیاد اور الحریف بن مالک دونوں ابھی شہر کی جامع مسجد میں ہوں گے۔ تم دونوں وہیں جا کر ان سے مل سکتے ہو۔“یہ سن کر دونوں پادری اٹھ کھڑے ہوئے۔ محافظ نے اپنے ایک ساتھی کو اشارہ کر کے بلایا اور اسے کہا:”ان معزز پادریوں کو امیر طارق بن زیاد کے پاس لے جاﺅ۔ میرا خیال ہے امیر ابھی تک جامع مسجد میں مغرب کی نماز پڑھ کر فارغ نہیں ہوئے ہوں گے، تم ان دونوں کو وہیں لے جاﺅ۔“وہ تینوں مسجد کی طرف جا رہے تھے، کچھ دیر بعد وہ مسجد کے قریب آکر رک گئے۔ محافظ نے انہیں طارق بن زیاد اور الحریف بن مالک سے ملوایا۔ایک پادری نے کہا:”امیر ہمارے کلیا میں ایک لڑکی لوسیا راہبہ کی حیثیت سے خدمت کر رہی تھی ہسپانیہ کا ایک عیسائی نوجوان اسے اغوا کر کے لے گیا ہے ہم آپ کی رعایا ہیں۔ آپ لوسیا کو زندہ یا مردہ ہمیں واپس دلا دیں۔پادری کی بات سن کر الحریف بن مالک کی حالت عجیب ہو گئی تھی۔طارق بن زیاد نے الحریف بن مالک سے کہا:”ابن مالک تم آج ہی روانہ ہو جاﺅ اور جتنی جلدی ہو لوسیا کو واپس لے آﺅ۔الحریف بن مالک نے اقرار میں سرہلایا۔ دونوں پادری وہاں سے مطمئن ہو کر چلے گئے۔ اسی دن الحریف بن مالک ہسپانیہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ سفر کرتا ہوا ہسپانیہ پہنچا وہاں اس نے ایک حویلی کرائے پر لی اور لوسیا کی تلاش شروع کر دی۔الحریف بن مالک لوسیہ کی شکل سے ناواقف تھا۔ اب اس کے لئے یہ مسئلہ تھا کہ وہ لوسیہ کو تلاش کیسے کرے۔ اس کا حل اس نے یہ نکالا کہ طارق بن زیاد کو ایک خط لکھا کہ وہ ان پادریوں سے رابطہ قائم کر کے کوئی ایسا شخص وہاں سے روانہ کریں جو لوسیہ کو جاننے والا ہو۔ چند دن بعد الحریف بن مالک کے پاس ایک آدمی پہنچ گیا۔ اب وہ دونوں لوسیہ کی تلاش میں مصروف ہو گئے۔ ایک دن ایک بوڑھے نے انہیں بتایا:”مارتن کو تمہارے یہاں آنے کا پتہ چل گیا تھا ، اور وہ لوسیہ کو لے کر طلبیرہ کی طرف بھاگ گیا ہے۔وہ دونوں یہ سن کر گھوڑے دوڑاتے ہوئے طلبیرہ روانہ ہو گئے۔ ۔جاری ہے ۔

......
loading...

رات کی تاریکی ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ وہ دونوں اپنے گھوڑوں کو ایڑلگا کر اس شاہراہ پر سرپٹ دوڑارہے تھے، جو دریائے تاجہ کے کنارے طلبیرہ کی طرف جاتی تھی۔دریائے تاجہ کے کنارے کنارے کوئی بارہ میل تک طلبیرہ کی طرف جانے کے بعد اچانک الحریف بن مالک نے دریاکے کنارے جانے والی شاہراہ پر ایک ہیولا دیکھا۔ یہ کوئی بگھی تھی۔ الحریف بن مالک اپنے ساتھی ہاشم کے ساتھ اس بگھی کی طرف بڑھا، مارتن خود بگھی کے گھوڑوں کو ہانک رہا تھا، مارتن نے انہیں دیکھتے ہی چابک رکھ کر تلوار نکال لی۔ امیر الحریف بن مالک نے بھی اپنی تلوار نکال لی۔ مارتن بگھی سے نیچے اتر آیا۔ الحریف بن مالک بھی گھوڑے سے نیچے اترا مارتن نے اچانک ہی الحریف بن مالک پر حملہ کر دیا۔ الحریف بن مالک نے تلوار پر اس کا وار روکا۔ پھر اس نے دھکا دے کر اسے نیچے گرایا مارتن کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر پرے جا گری۔اتنے میں ہاشم نے آگے بڑھ کر مارتن کو قابو کرلیا۔ بگھی کے اندر سے رسیاں نکال کر اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ دیئے گئے۔ اب الحریف بن مالک نے بگھی کا پردہ اٹھ اکر اندر جھانکا اندر ایک عورت رسیوں سے جکڑی پڑی تھی۔ الحریف بن مالک نے ہاشم کو اشارہ کیا۔ اس نے عورت کو رسیوں سے آزاد کیا۔وہ عورت حیرت سے الحریف بن مالک اور ہاشم کی طرف دیکھنے لگی۔ الحریف بن مالک نے کہا۔”بہن! گھبراﺅ نہیں، میں ۔جاری ہے ۔

شہر طنجہ کا نائب الحریف بن مالک ہوں اور امیر طارق بن زیاد کے حکم سے تمہیں رہا کرانے کے لئے آیا ہوں۔“یہ سن کر لوسیہ نے احسان مندی سے الحریف بن مالک کی طرف دیکھا۔اب الحریف بن مالک نے ہاشم کو اپنے گھوڑے پر سوار کرایا اور لوسیہ کو چشم کے گھوڑے پر سوار کرادیا۔ رات کی تاریکی میں دونوں گھوڑے سرپٹ شہر طنجہ کی طرف بھاگنے لگے۔جب صبح کی روشنی نمود پر ہوئی تو انہیں دور سے شہر طنجہ کی فصیل کی دیواریں دکھائی دیں فصیل کے قریب پہنچے تو محافظوں نے الحریف بن مالک کو دیکھ کر سلام کیا اور شہر کے دروازے کھول دیئے۔الحریف بن مالک اور ہاشم لوسیہ کو لے کر شہر میں داخل ہوئے۔ الحریف بن مالک انہیں لے کر بیت العدل کی طرف آیا۔ ایک نوجوان کو اس نے بیت العدل کھولنے کا حکم دیا۔ پھر ان دونوں کو بیت العدل میں ٹھہرا کر خود طارق بن زیاد کی طرف چل پڑا۔طارق بن زیاد نماز فجر پڑھ کر فارغ ہوا تھا۔ اس نے الحریف بن مالک کو گلے لگایا۔ الحریف بن مالک نے وضو کر کے نماز فجر ادا کی پھر طارق بن زیاد کو لے کر بیت العدل میں آگیا۔ وہاں ہاشم اور لوسیہ دونوں موجود تھے۔”خوش آمدید میری بہن ….! راستہ میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔“طارق بن زیاد نے نرم لہجے میں پوچھا۔”امیر آپ کا اور الحریف بن مالک کا بہت شکریہ۔ آپ نے مجھے مارتن کی قید سے نجات دلائی۔“یہ سن کر طارق بن زیاد نے کہا:”یہ تو ہمارا فرض تھا۔ تم کچھ دیر آرام کرلو پھر میں تمہیں تمہارے شہر بھجوا دوں گا۔“ یہ کہہ کر امیر طارق بن زیاد نے الحریف بن مالک کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔”ابن مالک مجھے تم پر فخر ہے۔“یہ کہہ کر طارق بن زیاد نے اسے گلے لگالیا۔