قسمت کے تھپیڑے جنگ ستمبر ۱۹۶۵ کا عظیم ہیرو آج بھیک مانگنے پر مجبور کیا آپ جانتے ہیں یہ کون ہے ؟

۔۱۹۶۵۔ کی جنگ میں کشمیر کے محاذ پر داد شجاعت دینے والا میر محمد غازی بھیک مانگنے پر مجبورہو گیا، عیاشیوں میں مصروف حکمرانوں نے محسن ملت کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔تفصیلات کے مطابق جذبہ شہادت سے سرشار ۔۱۹۶۵۔کی پاک بھارت جنگ میں جوان سال میر محمد وطن عزیز کے دفاع کا عزم لئے مجاہد فورس میں شامل تھا۔میر محمد غازی نے اپنے سے کئی گنا بڑی دشمنعسکری قوت کو تتہ پانی سیکٹر میں ناکوں چنے چبوائے۔ دورانِ جنگ میر محمد کی ٹانگ میں گولی آلگی،۔جاری ہے ۔

خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا ، شدید زخمی حالت میں غازی کو طبی امداد کیلئے روانہ کر دیا۔ میر محمد غازی زخمی حالت میں اپنے ٹھیک ہو جانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ ٹھیک ہو کر دوبارہ محاذ جنگ میں پر جا سکے۔ اسی دوران جنگ اختتام پذیر ہو گئی اور میر محمد غازی دل میں شہادت کی تڑپ لئے بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ حکومتی اداروں اور مجاہد فورس نے بھی اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ۔جاری ہے ۔

......
loading...

گولی لگنے کے باعث میر محمد غازی عملی زندگی میں ناکارہ ہو کر رہ گیا تھا۔ حالات کی ستم ظریفی نے اسے کئی بار بڑے ایوانوں کی زنجیر ہلانے پر مجبور کیا مگر کہیں شنوائی نہ ہو سکی ۔ ۱۹۶۵۔کا جواں سال میر محمد غازی آج اپنے بڑھاپے میں حالات کے مد و جزر نے بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا۔ گلے میں تختی لٹکائے سارا دن خاموشی سے مصروف راستوں پر خاموش بھیک کے انتظار میں بیٹھے میر محمد غازی کی خاموشی شاید پوری قوم سے سوال کر رہی ہے کہ کیا غیور قومیں اپنے محسنوں اور غازیوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہیں۔؟