دو کنجوس

پُرانے زمانے کی بات ہے ایک گاؤںمیں ایک آدمی رہتا تھا۔ وہ بہت ہی کنجوس تھا۔ ایک بار و ہ ایک جنگل سے گذررہا تھاتو اس نے کھجور کا ایک درخت دیکھا ، جس میں بہت سارے میٹھے میٹھے کھجور لگے ہوئے تھے ۔ پھر کیا تھا؟… کنجوس آدمی کو مفت میں کھجور مل گئی ، اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ مالِ مفت دلِ بے رحم۔ اس نے جلدی جلدی درخت پر چڑھنا شروع کردیا۔وہ جب کافی اونچائی تک چڑھ گیا تو اچانک ایک شہد کی مکھی نے اسے ڈنک ماردیا۔ اس نے دیکھا کہ درخت پر شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا سا چھتّا لگا ہوا ہے، ۔جاری ہے ۔

وہ گھبرااُٹھا، اس نے نیچے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچا، … لیکن یہ کیا؟ نیچے ایک کنواں تھا۔وہ بہت زیادہ ڈر گیا اور وہ خدا سے دعا مانگنے لگا کہ :’’ اے خدا! مجھے بچا لے میں سو(۱۰۰) فقیروں کو کھانا کھلا ؤں گا۔‘‘پھر اس نے دھیرے دھیرے نیچے اترنے کی کوشش کی ، تھوڑا نیچے آنے کے بعد اس نے کہا :’’ سو (۱۰۰) نہیں تو پچہتر(۷۵) کو تو کھلا ہی دوں گا۔‘‘ تھوڑا اور نیچے آنے پر اس نے کہا :’’چلو پچہتر(۷۵) نہیں تو پچاس(۵۰) کو تو ضرور کھلاؤں گا۔‘‘ایسا کرتے کرتے وہ نیچے آنے تک ایک (۱) فقیر تک پہونچ گیا ۔ اور نیچے اتر کر وہ سلامتی کے ساتھ اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے سارا حال اپنی بیوی کو کہہ سنایا۔  ۔جاری ہے ۔


دوسرے روز بیوی نے ایک ایسے فقیر کو بلایا جس کا پیٹ خراب تھا اور جو کھانا ٹھیک ڈھنگ سے کھا نہیںسکتا تھا ۔ فقیر بھی اتفاق سے کنجوس اور چالاک آدمی تھا ، اس نے بیس(۲۰) روٹیاں ، دہی، کھیٖر اور دوٗدھ پیک کرنے کو کہا اور جاتے وقت کنجوس آدمی کی بیوی سے کہا : ’’اجی ! میرا نذرانہ!‘‘اس نے سونے کی دوموتیاں فقیر کو دے دیں۔ شام کو جب کنجوس آدمی گھر واپس آیا تو اُس نے فقیر کے بارے میں پوچھا ، تو اس کی بیوی نے اُسے سارا ماجرا کہہ سنایا، کنجوس آدمی کو بہت غصہ آیا، وہ لاٹھی لے کر فقیر کے گھر پہونچا ۔ فقیر کی بیوی بہت چالاک تھی ، اُس نے جب کنجوس آدمی کو غصے کی حالت میں اپنے گھر کی طرف بڑھتے دیکھا تو وہ دروازے کے باہر آکر زور زور سے چلانے لگی کہ : ۔جاری ہے ۔


’’پتا نہیں کس نے میرے شوہر کو کیا کھلا دیا ہے؟ اُن کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی ہے ، ہاے! میں کیا کروں ؟ ایسا لگتا ہے اب وہ زندہ نہیں بچیں گے ، ارے کوئی ہے جو میری خبر گیری کرے۔‘‘ کنجوس آدمی یہ سُن کر بری طرح سہم گیا، اس نے فقیر کی بیوی سے کہا: ’’ آپ چلائیں مت، میں آپ کے شوہر کے علاج کے لیے ابھی گھر جاکر دو سونے کے سکّے بھیج دیتا ہوں ۔‘‘
چالاک فقیر گھر کے اندر بیٹھا مزے لے لے کر خوب ہنس رہا تھا ۔ اس طرح ایک کنجوس نے ایک بڑے کنجوس کو پھنسا لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں