مجھے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اپنے جسم کا یہ حصہ دیدو تو ایک لاکھ تیس ہزارروپے دوں گا لیکن پھر جب پیسے دینے کی باری آئی تو پاکستانی خاتون کا ایسا انکشاف کہ جان کر ہر شہری کو ڈاکٹروں سے ہی ڈر لگنے لگے

لاہور میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گروہ سے متعلق مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے نے گرفتار ڈاکٹروں سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا اور مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔ روزنامہ خبریں کے مطابق ٹرانسپلانٹ ایکٹ کے تحت پہلی کارروائی کرتے ہوئے نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ایک گر پر چھاپہ مار کر غیر قانونی طور پر گردوں کی پیوندکاری کرنے والے دو ڈاکٹروں سمیت 10 کے قریب افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ۔جاری ہے ۔

اخبار کے مطابق ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم گروہ ہے جو وسیع پیمانے پر کام کررہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتار ہونے کا امکان ہے۔ گرفتار ڈاکٹروں سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے اور انکشاف ہوا ہے کہ اس گروہ میں مزید ڈاکٹر بھی شامل ہیں ۔جاری ہے ۔

......
loading...

جن کی گرفتاری کے لئے کوششیں شروع کردی گئی۔ گرفتار ڈاکٹروں کے اثاثہ جات کی تفصیلات بھی اکٹھی کی جارہی ہے۔ غیر ملکی گردوں کی پیوندکاری کے لئے کس طرح پاکستان آئے اور انہیں کس نے یہاں سپانسر کیا اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ نجی کلینک میں جن دو شہریوں کے گردے نکالے گئے انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹروں نے ڈرادھمکا کر گردہ نکالا ان میں سے خاتون کو ایک لاکھ 30ہزار روپے جبکہ کاہنہ کے رکشہ ڈرائیور کو ایک لاکھ روپے دینے کے معاملات طے پائے تھے جو انہیں ادا نہیں کئے گئے۔ ۔جاری ہے ۔

دوسری طرف محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایف آئی اے کی طرف سے باضابطہ طور پر کوئی آگاہی نہیں دی گئی لیکن ہم اپنے طور پر معلومات حاصل کررہے ہیں اور اگر سرکاری ڈاکٹر غیر قانونی دھندے میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف ضابطے کی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔