قاضی کی بیوی کی ذہانت اور قاضی کا انصاف – ایک سبق آموز کہانی

بہت عرصہ ہوا بغداد میں ایک نیک انسان احمد رہتا تھا احمد ایک سوداگر تھا۔ اور وہ اپنا تجارت کا سامان لے کر دوسرے شہروں میں جاتا تھا بغداد کے سب لوگ احمد کو جانتے تھے اس نے کبھی کسی سے دھوکہ نہیں کیا تھا کسی کو پریشان نہیں کیا تھا۔ اس لیے سب لوگ اس سے بہت خوش تھے۔ایک بار احمد نے تجارت کے لیے دوسرے شہر جانے کا ارادہ کیا اس نے تجارت کاسامان خریدااور سفر کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔ سفر پر جانے سے ایک دن پہلے اس نے دیکھا کہ اس کے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں ۔وہ ان اشرفیوں کو اپنے ساتھ تو لے جانہیں سکتا تھا اس لیے سوچنے لگا کہ ان اشرفیوں کوکہاں رکھے۔سوچتے سوچتے اسے خیال آیا کہ وہ ان اشرفیوں کو ایک تھیلی میں ڈال کر یوسف سنار کے پاس امانت کے طور پر رکھوا دیتا ہے یوسف سنار بھی ایک نیک انسان تھا۔ ۔جاری ہے ۔


اس نے سرخ رنگ کے کپڑے کی تھیلی لی۔ اس میں اشرفیوں کو ڈال کر تھیلی کو گرہ لگا کر باندھ دیا اور یوسف سنار کے پاس جاپہنچا اور بولا”یوسف بھائی چند دنوں کے لیے میری یہ امانت اپنے پاس رکھ لو۔ میں سفر سے واپس آﺅں گا تو اسے لوں گا“۔یوسف سنا ر نے خوشی خوشی وہ امانت اپنے پاس رکھ لی۔ احمد سفر پر روانہ ہوگیا۔ ایک دن یوسف سنار نے اپنی تجوری سے اشرفیوں کی تھیلی نکال کر دیکھی۔ تھیلی کافی وزنی تھی یوسف سنار کے منہ میں پانی بھر آیا وہ سوچنے لگا کہ دیکھوں اس تھیلی میں کیا ہے۔یہ سوچ کر وہ تھیلی پر بندھی گرہ کھولنے لگا۔پھر کچھ سوچ کر رک گیا کہ اگر میں نے تھیلی کو کھولا تو احمد سوداگر کو پتہ چل جائے گا۔ کیونکہ اس نے تھیلی کی گرہ مخصوص انداز میں باندھی تھی۔ اب وہ سوچنے لگا کہ کیا کروں۔ آخر اس نے تھیلی کو ایک طرف سے تھوڑا سا کاٹا۔ تو اشرفیاں چھن چھن نیچے گرنے لگی۔ ۔جاری ہے ۔

سونے کی اشرفیاں دیکھ کر یوسف سنار کی رال ٹپکنے لگی اس نے جلدی سے اشرفیاں سمیٹ کر ایک دوسری تھیلی میں بھر یں اور اسے اپنی تجوری میں رکھ دیا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ جب احمد سوداگر واپس آئے گا تو اسے کیا جواب دوں گا۔ آخر ایک ترکیب اس کے ذہن میں آہی گئی۔ اس نے تھیلی میں چھوٹے چھوٹے پتھر بھرے اور اسحاق رفوگر کے پاس گیا اور بولا۔”اسحاق بھائی اس تھیلی کو اتنی نفاست سے رفو کرو کہ پتہ ہی نہ چلے“۔اسحاق رفو گر تو اپنے کام میں ماہر تھا اس نے یوسف سنار کو بیٹھنے کے لیے کہا اور خود تھیلی کو رفعہ کرنے لگا جب تھیلی رفو ہوچکی تو اسے یوسف سنار دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ یہ تھیلی رفو کرائی گئی ہے ۔اس نے اسحاق رفو گر کو اجرت دی ۔اور تھیلی لے کر خوشی خوشی اپنے گھر آگیا۔ ۔جاری ہے ۔

دن گزرتے رہے یوسف سنار کے دل میں خوف تھا کہ جب احمد اپنی تھیلی لے کرجائے گا اور اس میں سے اشرفیاں کے بجائے پتھر نکلیں گے تو وہ اپنی اشرفیوں کا مطالبہ کرے گا۔ اب کیا کیاجائے یہی سوچتے سوچتے دن گزرنے لگے۔آخر وہ دن بھی آہی گیا جب احمد سوداگر اپنے سفر سے واپس آگیا وہ بہت تھکا ہوا تھا اس نے سارا دن تو اپنے گھر پر آرام کیا۔پھر دوسرے دن ناشتہ کرکے وہ یوسف سنار کے پاس پہنچا تاکہ اس سے اپنی تھیلی لے سکے۔یوسف سنار احمد سوداگر کے ساتھ بڑی خوش اخلاقی سے ملا۔ پھر اس نے اس کی تھیلی اس کے حوالے کردی ۔ تھیلی میں اشرفیاں نہیں تھیں۔ بلکہ اس میں تو پتھر بھرے ہوئے تھے۔بے چارہ احمد تو اپنا سر پیٹ کر رہ گیا وہ فوراً یوسف سنا رکے ہاں پہنچا اور بولا”یوسف بھائی میری اس تھیلی میں تو اشرفیاں بھری ہوئی تھی۔ا ب اس میں سے پتھر نکلے ہیں“۔یہ سن کر یوسف سنار نے ڈھٹائی سے جواب دیا”مجھے کیا معلوم میں نے تو تمہاری تھیلی کو کھولا بھی نہیں“۔احمد سوداگر نے کہا ۔جاری ہے ۔


”میں جانتا ہوں کہ تم نے میری تھیلی کو نہیں کھولا مگر اس میں سے اشرفیاں کیسے غائب ہوگئیں“۔احمد بے چارہ خاموشی سے گھر واپس آگیا اسے رہ رہ کر اپنی اشرفیوں کا خیال آرہا تھا۔ آخر وہ شہر کے قاضی کے پاس فریاد لے کر پہنچا۔ شہر کے قاضی نے یوسف سنار کوبلایا تو اس نے لا علمی کا اظہار کیا پھر بولا”قاضی صاحب میں نے اس کی تھیلی کو کھولا تک نہیں پھر اس کی اشرفیاں تھیلی سے کیسے نکال سکتا ہوں احمد سوداگر نے بھی کہا”میں جانتا ہوں کہ اس نے میری تھیلی کو نہیں کھولا۔مگر پھر بھی تھیلی سے اشرفیاں غائب ہیں“۔اب تو قاضی صاحب بھی چکرا کر رہ گئے ۔انہوں نے دوسرے دن عدالت میں حاضر ہونے کے لیے کہا۔تھیلی قاضی صاحب نے اپنے پاس رکھ لی تھی ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ کیسے کریں۔آخر قاضی صاحب عدالت سے اٹھ کر گھر آگےے۔ تھیلی قاضی صاحب کے پاس موجود تھی۔ گھر آکر بھی وہ پریشان رہے۔ بیوی نے جب قاضی صاحب کو پریشان دیکھا تو پریشانی کی وجہ پوچھی۔قاضی صاحب نے بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی سوچ میں پڑ گئی پھر بولی ۔جاری ہے ۔

”ذرا تھیلی مجھے دکھانا“۔قاضی صاحب نے تھیلی بیوی کی طرف بڑھا دی ۔قاضی صاحب کی بیوی غور سے تھیلی کو دیکھنے لگ۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر اچانک قاضی صاحب کی بیوی اچھل پڑی اور بولی”احمد سوداگر سچ کہتا ہے۔ اس نے اس تھیلی میں اشرفیاں رکھی تھیں اور بے ایمان یوسف سنار نے تھیلی میں سے اشرفیاں نکال لیں“۔قاضی صاحب یہ سن کر حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے
”تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ یوسف سنار نے اس تھیلی سے اشرفیاں نکالی ہیں“۔بیوی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا”اس لیے کہ اس تھیلی کو کاٹ کر اشرفیاں نکالی گئی ہیں اور بعد میں اس تھیلی کو رفو کرادیا گیا ہے یہاں غور سے دیکھیں آپ کو رفو کا ہلکا سا نشان نظر آجائے گا“قاضی صاحب نے جلدی سے تھیلی لے کر دیکھا بہت ہی غور سے دیکھنے پر پتہ چلتا تھا کہ اس تھیلی کو کاٹ کر رفو کرایا گیا ہے۔ اب قاضی صاحب ساری بات سمجھ گئے انہیں یوسف سنار پر بے تحاشا غصہ آنے لگا۔ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ کل یوسف سنار کو بڑی سخت سزادیں گے۔دوسرے دن عدالت لگی تو احمد سوداگر اور یوسف سنار دونوں عدالت میں حاضر تھے ۔قاضی صاحب نے غو رسے احمد سوداگر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا؛ ۔جاری ہے ۔


”کیا واقعی تم نے اس تھیلی میں اشرفیاں رکھی تھیں؟“۔احمد سوداگر نے کہا”قاضی صاحب میں سچ کہہ رہاہوں میں نے اس تھیلی میں اشرفیاں رکھی تھیں۔قاضی صاحب نے اطمینان سے جواب دیا۔”ہمیںپتہ ہے کہ تم سچ کہہ رہے ہو“۔یہ کہہ کر قاضی صاحب اپنی جگہ سے اٹھے انہوں نے نیام سے اپنی تلوار نکالی اور یوسف سنار کے سر پر پہنچ گئے۔یہ دیکھ کر یوسف سنار تھر تھر کانپنے لگا۔قاصی صاحب گرج دار آواز میں بولے:۔جاری ہے ۔


”ہم جانتے ہیں کہ تم نے اس تھیلی سے اشرفیاں نکالی ہیں۔ اور بعد میں اس تھیلی کو رفو کرادیا ہے ہم اس رفو گر سے بھی مل چکے ہیں“۔<
یہ سن کر یوسف سنار کا رنگ زرد پڑ گیا،اور وہ گڑگڑا کر کہنے لگا”قاضی صاحب مجھے معاف کردیں میں نے ہی احمد کی تھیلی سے اشرفیاں نکال لیں “۔قاضی صاحب نے فوراً کوتوال کو اس کے ساتھ اس کے گھر بھیجا جو احمد سوداگر کی اشرفیاں لے کر آئے اور قید کی سزا کا حکم سنایا۔احمد سوداگر تو اپنی اشرفیوں کو پاکر خوش ہوگیا تھا۔ قاضی صاحب کے انصاف کی وجہ سے نہ صرف اسے اس کی اشرفیاں مل گئی تھیں بلکہ مجرم کو اس کے کئے کی سزا بھی مل گئی تھی۔

کیٹاگری میں : Kahani

اپنا تبصرہ بھیجیں