ملکہ بلقیس کا تابوت میں تروتازہ جسم کہ سبا بلقیس سال کچھ ماہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زوجیت میں رہ کر تدمر میں فوت ہوئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔ حضرت سلیمان کا ظہور تدمر ہی میں ہوا تھا۔ ولید ابن عبدالملک کے زمانہ میں ان کا تابوت کھل گیا۔ تابوت پر لکھا تھا کہ بادشاہت سلیمان کے اکیسویں سال ان کا انتقال ہوا۔ تابوت کو کھولا گیا تو

ملکہ سبا بلقیس سال کچھ ماہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زوجیت میں رہ کر تدمر میں فوت ہوئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔ حضرت سلیمان کا ظہور تدمر ہی میں ہوا تھا۔ ولید ابن عبدالملک کے زمانہ میں ان کا تابوت کھل گیا۔ تابوت پر لکھا تھا کہ بادشاہت سلیمان کے اکیسویں سال ان کا انتقال ہوا۔ تابوت کو کھولا گیا تو ان کا جسم ترو تازہ تھا۔ یہ بات ولید تک پہنچائی گئی۔ولید نے حکم دیا کہ تابوت کو وہیں دفن کر دیا جائے اور اس پر پتھر کی عمارت بنا دی جائے۔ ۔جاری ہے ۔


ترک کلام، ترک طعام، ترک منام کا فائدہمولانا ارسلان کہتے ہیں میرے والد ماجد حضرت مولانا محمد یاسین صاحب جب قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید اور جامع کمالات حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد تھے، انہوں نے خود اپنا واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ دارالعلوم دیو بند کے طالب علم بچوں سے کچھ دیر تک خوش طبعی کی باتیں کرتے رہے تو والد صاحب نے سوال کیا کہ ’’حضرت اکابر سلف سے زائد کلام سے بچنے کے بارے میں بڑی سخت تاکیدیں منقول ہیں۔ ۔جاری ہے ۔

ان کی اصلی حیثیت کیا ہے؟‘‘حضرت مولانا نے والد صاحب کے ہاتھ میں سے ایک کتاب لے کر گوشہ موڑ دیا اور پھر کتاب والد صاحب کو دے دی کہ یہ مڑا ہوا ورق سیدھا کر دو۔ والد صاحب نے بار بار سیدھا کیا، مگر وہ پھر مڑ جاتا۔ حضرت مولانا نے پھر وہ کتاب لے کر ورق کے اس گوشے کو اس کے مخالف سمت میں موڑ دیا اور پھر والد صاحب کو کتاب دی کہ اب سیدھا کرو۔ والد صاحب نے سیدھا کر دیا تو ورقہ اپنی جگہ سیدھا بیٹھ گیا۔ ۔جاری ہے ۔


اس مثال کے بعد فرمایا کہ ’’بس ترک کلام، ترک طعام، ترک منام وغیرہ کے مجاہدات کی یہی مثال ہے کہ مقصود تو استقامت اور حدود شرعیہ کے تابع ہوتا ہے مگر عادۃً نفس اس وقت تک سیدھا نہیں ہوتا جب تک اس کو دوسرے رخ پر بالکل نہ موڑا جائے۔ وہ حلال کھانے اور جائز سونے اور حلال کلام پر تبھی مستقیم ہو گا جبکہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے بالکل ترک طعام، ترک منام، ترک کلام کا ایسا خوگر بنایا جائے کہ حقوق نفس اور ضرورت سے زائد ان چیزوں کا استعمال نہ کرے اور جب وہ خوگر ہو جائے تو جائز و حلال چیزوں کا ترک پسندیدہ نہیں رہتا، بلکہ سنت کے مطابق حلال چیزوں کا شکر کے ساتھ استعمال اور حرام سے اجتناب ہی اصل حالت مقصودہ محمودہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں