ﺁﭖ ﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮐﺮ ﺩﯼ کل اس غریب کے ساتھ بہت برا ہوا اس کا بچہ کل سیڑھیوں سے گرااور سر پر گہری چوٹ لگنے سے بے ہوش ہو گیا بیچارہ اطلاع ملنے پر آفس سے بھاگا

گرمیوں کی چلچلاتی دوپہر تهی ،دور دور تک ہو کا عالم تها ،کبهی کبهار کوئی انسانی چہرہ سڑک پر نظر آجاتا تو زندگی کے آثار جاگ اٹهتے ،آج صبح سے دوکان پر کوئی گاہک نہیں آیا تها ،میں سخت کوفت اور جهنجهلاہٹ کے عالم میں اپنے آپ سے الجهہ رہا تها .تبهی ایک گاڑیی پوری قوت سے بریک لگا کرمیری دوکان کے سامنے آرکی ،دروازہ کهول کر کوئی تیزی سے نکلا ،میرے غصے کی انتہا نہ رہی ،ایک تو پہلے ہی کوئی گاہک نہیں آرہا ،دوسرے تم نے آنے والے کا راستہ روک دیا ،ہٹاو اسے یہاں سے ،لیکن اسے شائد ذیادہ ہی جلدی تهی ،قریب ہی تنگ سی گلی کی طرف بهاگتا ہوا بولا ، بس میں دس منٹ میں آیا ،۔جاری ہے ۔


میں غصے سے بےقابو ہو گیا ، جو آتا ہے یہی کہہ کر جاتا ہے پهر گهنٹو ں واپس نہیں آتا . ابهی مزہ چکهاتا ہوں تمہیں ! میں نے ادهر ادهر دیکها ،ارد گرد کوئی بهی نہیں تها ، نیچے بیٹهہ کر گاڑی کے ان دونوں ٹائیروں کی ہوا مکمل طور پر نکال دی ،جو میرےے سامنے تهے ، پهر فخر سے جهومتا ،اپنے اس کارنامے پر اتراتا ہوا اٹها ،دوکان بند کی اور گهر چلا گیا .اگلے دن آکر دوکان کهولی تو گاڑی ابهی بهی وہیں کهڑی تهی ،ساتهہ والا دوکاندار مجهے دیکهہ کر کہنے لگا ،یار! کل اس غریب کے ساتهہ بہت برا ہوا ،اس کا بچہ کل سیڑهیوں سے گرا ،اور سر پر گہری چوٹ لگنے سے بے ہوش ہو گیا ،بے چارہہ اطلاع ملنے پر آفس سے بهاگا چلا آیا ،گلی تنگ ہونے کی وجہ سے گاڑی اندر نہیں جاسکتی تهی ،وہ بچے کو لینے گیا تو کسی نے دونوں ٹائیروں کی ہوا نکال دی ،۔جاری ہے ۔


بچے کو لے کر واپس آیا ،اسے پچهلی سیٹ پر لٹا کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تو اس کی نظر ٹائیروں پر پڑی ،پهر تو جیسے وہ بدحواس ہو گیاا ،کبهی گاڑی کو دیکهتا اور کبهی سڑک پر ادهر ادهر بهگنے لگتا ،تجهے تو پتہ ہے کل پہیہ جام ہڑتال تهی ،دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تهی ،شائد کسی نے اس جوش میں اس کی گاڑی بهی پنکچرر کر دی .بہت ظلم ہوا اس کے ساتهہ ،بہت دیر بعد ایک پرائیویٹ گاڑی آتی نظر آئی ، بیچ سڑک میں کهڑے ہو کر اسے روکا اور منت سماجت کر کےے بچے کو ہستپال لے گیا لیکن بچہ جانبر نہ ہو سکا ،ڈاکٹروں نے کہا ،۔جاری ہے ۔


“آپ نے آنے میں دیر کر دی ،”مجهے لگا ،جیسے میں پتهر کا ہو گیا ہوں ،نہ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہوں ،نہ بول سکتا ہوں ،بس اس کی آواز کانوں میں آرہی تهی ،وہ کہہ رہاا تها ،انسان کو شیطان بننے میں ایک لمحہ لگتا ہے ،اور وہی ایک لمحہ اس کی پو ری زندگی پر حاو ی ہو جاتا ہے ، کاش ہم سوچیں کہ ایک دن اسس دنیا سے چلے جانا ہے ۔جاری ہے ۔


تو کیوں نا کچهہ ایسا کر کے جائیں کہ دوسروں کے دلوں میں ہمیشہ اچهی یادوں کے ساتهہ زندہ رہیں .
میرے پاس کہنے کو کچهہ نہیں تها ، جا کر اس سے معافی مانگ بهی لیتا تو کیا ہوتا ،میری سزا کے لئے یہی کافی تها کہ عمر بهر اپنے ضمیرر کی آگ میں جلتا رہوں .

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں