خوف مولانا ارسلان کہتے ہیں کہ مارے پریشانی کے اس کا رنگ زرد تھا، بال بکھرے ہوئے تھے، آتے ہی کہنے لگا ’’لگتا ہے کہ اب میں بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہوں گا، بہت جلد تم میری موت کی خبر سن لو گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے سرد آہ بھری۔میں نے اس کی طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ میرا بہت پرانا دوست تھا

مولانا ارسلان کہتے ہیں کہ مارے پریشانی کے اس کا رنگ زرد تھا، بال بکھرے ہوئے تھے، آتے ہی کہنے لگا ’’لگتا ہے کہ اب میں بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہوں گا، بہت جلد تم میری موت کی خبر سن لو گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے سرد آہ بھری۔میں نے اس کی طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ میرا بہت پرانا دوست تھا، لیکن اس قدر عجیب بات اس نے زندگی میں پہلی بار کہی تھی۔ ’’بات کیا ہے بھئی، کچھ پتا تو چلے؟‘‘ میں نے پرسکون آواز میں پوچھا۔’’ہم چار بھائی تھے، تین سال پہلے سببڑا بھائی فوت ہو گیا، اس کے ایک سال بعد دوسرا بھائی فوت ہو گیا، اس سال تیسرا بھائی بھی گیا، اب لوگ مجھے گھور گھور کر دیکھتے ہیں، جیسے پوچھ رہے ہوں اب تم کب اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہو؟ کل ایک دوست کہہ رہا تھا کہ تمہارے تین بھائی نوجوانی میں فوت ہوگئے، یہ کوئی خاندانی مسئلہ لگتا ہے،۔جاری ہے ۔

لہٰذا تم بھی تیاری کرو، نہ جانے موت کا پیغام کب آ جائے۔ اس کی بات نے مجھ پر کپکپی طاری کردی، اس وقت سے میں بس سوچے ہی جا رہا ہوں، یہ سوچ کسی طرح میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی کہ بس اب میری باری ہے۔ نہ جانے میں کس دل چل بسوں۔‘‘’’اوہ! تو یہ بات ہے۔‘‘’’ہاں! بات تو اتنی سی ہے، لیکن ہے بہت خوفناک۔ موت کا خیال کس قدر وحشت ناک ہے، اگر کسی کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی موت کا دن نزدیک آ گیا ہے تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھلا اس کا کیا حال ہوگا۔‘‘’’ہاں! میں سوچ رہا ہوں، دیکھ رہا ہوں تمہاری جو حالت ہے، اس پر بھی غور کر رہا ہوں۔۔۔ ویسے تمہارا ایک ہی علاج ہے۔‘‘ میں نے جلدی جلدی کہا۔’’علاج۔۔۔ لیکن میں بیمار کب ہوں؟‘‘۔جاری ہے ۔

میرے دوست انوار احمد خان نے کہا۔’’میرے خیال میں تم بیمار ہو، پہلی بات تو یہ کہ موت تو سبھی کو آئے گی، اور دوسری بات یہ کہ یہ ضروری نہیں کہ اگر تمہارے تین بھائی نوجوانی میں اللہ کو پیارے ہو گئے تو تم بھی نوجوانی میں فوت ہو جاؤ گے۔دوسرے یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا لکھ دیا ہے تو ایسا ہونے سے کون روک سکتا ہے بھلا۔۔۔ ہو کر رہے گا۔۔۔ کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ ان حالات میں تمہیں ایک مشہور ڈاکٹر شامی کے پاس لے چلتاہوں وہ تمہارا علاج کریں گے۔‘‘لیکن اس کی پریشانی میں کوئی کمی نہیں۔اس کے بعد ایک روز میں اسے ڈاکٹر شامی کے پاس لے گیا اور انہیں تفصیل بتائی کہ ’’آج سے دو سال پہلے ان کا سب سے بڑا بھائی فوت ہو گیاتھا ایک سال بعد دوسرا اور اس سال تیسرا بھائی بھی فوت ہو گیا۔اب کسی نے انہیں اس پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کہ یہ بھی نوجوانی میں ہی فوت ہو جائیں گے ۔جاری ہے ۔

میں ان کا یہ وہم دور کرنے کی کوشش تو کی، لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔۔۔ آپ کی طرف خیال گیا تو انہیں یہاں لے آیا ہوں، یہ بہت پریشان ہیں۔‘‘’’اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا۔ اب انہوں نے اس سے سوالات شروع کیے۔ ’’آپ کے ماں باپ زندہ ہیں؟‘‘’’جی ہاں! اللہ کی مہربانی ہے۔‘‘ ’’تب تو کام آسان ہے۔‘‘ ڈاکٹر شامی مسکرائے۔’’جی! کیا مطلب! میں سمجھا نہیں، یہ کام آسان ہے سے آپ کی کیا مراد ہے؟‘‘’’دیکھئے! یہ صرف ایک وہم ہے۔ آپ کو تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہم کا کوئی علاج نہیں، لہٰذا آپ کا علاج صرف ایک ہے، یہ کہ اس وہم سے پیچھا چھڑا لیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ خالص وہم ہے،۔جاری ہے ۔

اس کی کوئی حقیقت نہیں، اس کے علاوہ میں آپ کا علاج بھی کروں گا، لیکن آپ کے لیے جو نسخہ تجویز کروں وہ آپ کو استعمال کرنا ہوگا۔‘‘’’کیوں نہیں ڈاکٹر صاحب! میں آپ کی ہدایات پر عمل کروں گا۔‘‘’’تب پھر علاج سنئے آپ کے ماں باپ حیات ہیں، آپ خوب دل لگا کر ان کی خدمت کریں، خدمت میں دن رات ایک کر دیں، خدمت کا کوئی پہلو بھی ہاتھ سے جانے نہ دیں، ایسی مثالی خدمت کریں کہ لوگ مثالیں دیتے نظر آئیں۔‘‘’’میں یہ ضرور کروں گا، لیکن اس بات کا میری عمر سے کیا تعلق؟‘‘’’بہت گہرا تعلق ہے۔‘‘ڈاکٹر شامی بھرپور انداز سے مسکرائے۔’’تب پھر ذرا وضاحت فرما دیں، تاکہ بات میرے ذہن میں آ جائے۔‘‘اچھی بات ہے سنئے۔ حضور نبی کریمؐ کا ارشاد ہے ’’جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر لمبی کردے، اس کا رزق بڑھا دے، اسے چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور دوسرے رشتہ داروں سے محبت سے پیش آئے۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں