بڑا آدمی کون ؟؟ شیرشاہ تہائی رات ہوتی کہ بیدار ہوجاتا ،غسل کرتا اور نوافل پڑھتا ،نماز فجر سے پہلے اور ادختم کر لیتا پھر مختلف صیغوں کے حسابات دیکھا اور دن کے اہم کاموں کے متعلق حکام و ایل کاران سلطنت کو ہدایت دیتا اور روزانہ کا نظام عمل بتلاتا کہ دن کو سوالات سے اس کو پریشان نہ کریں

اریخ اسلام کے مشہور بادشاہ شیر شاہ سوری (952ھ) کے اوقات و معمولات کی فہرست اگر ملاحظہ کی جائے تو ایک عام انسان یہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اس زمانے کے متوسط درجے کے مشغول آدمی کے لیے بھی ان کا التزام مشکل ہے، چہ جائیکہ اس مصروف ترین بادشاہ کے لیے جس کو پانچ برس کی مدت میں ایک صدی کا کام کرنا تھا اور جس کو بظاہر اپنی انتظامی و سیاسی مشغولیت سے ایک لمحہ کی فرصت نہیں ہونی چاہئے تھی۔ شیر شاہ سوری تہائی رات ہوتی کہ بیدار ہو جاتا، غسل کرتا اور نوافل پڑھتا، نماز فجر سے پہلے اوراد ختم کر لیتا، پھر مختلف صیغوں کے حسابات دیکھتا اور دن کے اہم کاموں کے متعلق حکام و اہل کاران سلطنت کو ہدایت دیتا اور روزانہ کا نظام عمل بتلاتا کہ دن کو سوالات سے اس کو پریشان نہ کریں،۔جاری ہے ۔

ان سب سے فارغ ہو کر نماز فجر کے لیے وضو کرتا اور جماعت کے ساتھ نماز فجر پڑھتا۔ پھر ا ذکار و اوراد میں مشغول ہو جاتا۔اتنے میں حکام سلام کے لیے حاضر ہوتے، بادشاہ نماز اشراق سے فارغ ہو کر لوگوں کی ضروریات معلوم کرتا اور گھوڑے، علاقے، جاگیریں اور مال جس کو جیسی ضرورت ہوتی، دیتا۔ پھر اہل مقدمہ اور داد خواہوں کی طرف متوجہ ہوتا اور ان کی دادرسی اور حاجت براری کرتا۔ پھر افواج شاہی اور اسلحہ کا معائنہ کرتا اور فوج کے لیے امیدواروں کی قابلیت کا اندازہ کرکے ان کے تقرر کا حکم دیتا۔اس کے بعد ملک کی روزانہ آمدنی اور مالیہ کا معائنہ کرتا، پھر ارکان سلطنت ، امراء اور سلطنتوں کے سفراء اور وکلاء حاضر ہوتے،۔جاری ہے ۔

......
loading...

ان سے گفتگو کرتا، پھر حکام اور اہل کاروں کی عرضیاں گزرتیں، ان کی سماعت کرتا اور حکم لکھواتا، دوپہر کا کھانا تناول کرتا۔ علمائے و مشائخ بھی دستر خوان پر ہوتے، پھر ظہر کی نماز تک دو گھنٹے اپنے ذاتی کام انجام دیتا اور قیلولہ کرتا، پھر ظہر کی نماز جماعت سے پڑھتا، اس کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرتا۔ اس سے فارغ ہو کر پھر امور سلطنت میں مشغول ہو جاتا۔ سفر و حضر میں اس نظام الاوقات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی، کہا کرتاتھاکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اپنا پورا وقت ضروری کام میں صرف کرے۔ لوگ بھوک کی وجہ سے تڑپ رہے ہوں گے اور میں۔۔۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی انگشتری میں ایک ایسا نگینہ جڑا ہوا تھا، جس کی صحیح قیمت کا اندازہ جوہری بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اتفاق سے ایسا ہوا کہ ایک دفعہ سخت قحط پڑ گیا۔۔جاری ہے ۔

لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ حضرت عمر رحمتہ اللہ علیہ کو ان حالات کا علم ہوا تو لوگوں کی امداد کے لیے اپنی انگشتری کا وہ قیمتی نگینہ بھی فروخت کر دیا اور جو قیمت ملی اس سے اناج وغیرہ خرید کر تقسیم کردیا۔ جب اس بات کا علم آپ کے خیر خواہوں کو ہوا تو ان میں سے ایک نے آپ سے کہا ’’یہ آپ نے کیا کیا؟ ایسا بیش قیمت نگینہ بیچ دیا؟‘‘حضرت عمر رحمتہ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا۔’’وہ نگینہ مجھے پسند تھا، لیکن مجھے یہ بات گوارا نہ تھی کہ لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہوں اور میں اپنے آرام و زینت کے سامان کو عزیز رکھوں۔‘‘ یہ فرمایا اور آپ کی آنکھوں سے ہمدردی کی وجہ سے آنسو جاری ہو گئے۔