میرے ہاتھ کل بھی خالی تھے اور آج بھی خالی ہیں طلاق کے کاغذات پہ سائن کرنے شیدید غم و غصے کی حالت میں میں نے گاڑی نکالی اور تیز رفتار ڈرائیو کرتا

طلاق کے کاغذات پہ سائن کر کے ، شدید غم و غصے کی حالت میں مَیں نے گاڑی نکالی اور تیز رفتار ڈرائیو کرتا میں شہر سے دور نکل آیا تھا، میرے اندر کی آگ مجھے سکون نہیں لینے دے رہی تھی، مجھے یاد نہیں کہ میں کس سڑک پہ تھا اور یہ سڑک جاتی کہاں ہے ۔ دل و دماغ میں بس یہی تھا کہ یہ زندگی اور یہ دنیا سب دھوکہ اور فریب ہے۔ دل میں نفرت کا ایک ایسا سمندر تھا جس نے میرے حواس مجھ سے چھین لیے۔ اور کب میری گاڑی سڑک سے نیچے اتر کے ایک کھڈے میں جاگری۔ ہوش میں آتے ہی میں نے اپنے آپ کو ایک انجان بستر پہ پایا۔ “یہ میں کہاں ہوں؟” میرے دماغ میں سب سے پہلا سوال یہی تھا۔ لیکن ساتھ ہی میرے جسم پہ لگے کئی ۔جاری ہے ۔

زخم بول پڑے اور میرے منہ سے ایک ددر بھری آہ نکلی۔ کمرے کا دروازہ کھلا، میں نے دیکھنے کے لیے گردن کو ہلکی سی جنبش دی پر شدید درد کی ایک لہر میرے جسم سے بجلی کی طرح گزری، میں نے مزید گردن ہلانے کا فیصلہ ترک کر دیا اور چھت کی طرف دیکھنے لگا کہ جو بھی ہوگا خود ہی سامنے آجائے گا۔ چند لمحے انتظار کر نے کے بعد کوئی بھی سامنے نہ آیا ، لیکن ہلکی سے گرم سانس کو میں نے اپنے کان کے ساتھ محسوس کیا، مجھے گدگدی کا احساس ہوا اور میں نے اپنی آنکھوں کا رخ اس طرف کیا، ایک معصوم سی مسکراہٹ میں نے محسوس کی ، اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتا تین سال کا وہ بچہ دوڑتا ہو اباہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک آدمی کمرے میں آیا، اسکے ہاتھ میں یخنی کا ایک پیالہ تھا۔ وہ میرے پاس آکے بیٹھا اور یخنی کا چمچ میری طرف بڑھایا۔ سوال کرنے کی غرض سے میں نے منہ کھولا تو اس نے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ خاموشی سے وہ مجھے یخنی پلاتا گیا اور میں اضطراب میں اسکے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔ اسکے چہرے پہ داڑھی تھی، اور آنکھیں روشن ستارے کی طرح تھیں، چہرے پہ ایک اطمینان تھا ۔ بہت ہی پر سکون طبیعت کا مالک لگ رہا تھا۔ یخنی ختم ہوئی ، تو وہ مجھ سے گویا ہوا۔ “آپکی گاڑی کھڈے میں گری ہوئی ملی تو میں اور میرے چند ساتھیوں نے باہر نکالا، گاڑی کی حالت بہت ہی خراب تھی اسے ٹرک میں ڈال کہ شہر کے ورکشاپ میں بھجوا دیا ہے۔ آپکی حالت ایسی نہیں تھی کہ آپکو ہسپتال لے جاتے، اس لیے میں آپ کو یہاں لے آیا ،ڈاکٹر صاحب یہیں پہ ہی آپکا علاج کر رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی ، لیکن کافی چوٹیں آئی ہیں۔ چند دن میں آپ چلنے پھرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ آپ کے گھر والوں کو اگر اس حادثے کی اطلاع دینی ہے ۔جاری ہے ۔

تو انکا کوئی رابطہ نمبر دے دیں” میں نے نفی میں سر ہلایا، اور وہ مجھے آرام کرنے کا بول کے باہر چلا گیا۔ میں اسے دروازے کی طرف جاتا دیکھتا رہا، اور تبھی مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک ٹانگ سے معذور ہے۔ نا جانے کونسی ایسی بات تھی اس شخص میں کہ مجھے شدت سے احساس ہوتا تھا یا تو میں اسے جانتا ہوں یا پھر کبھی نا کبھی اس سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ خیر ! کئی دن گزر گئے اور میں اسی کمرے میں پڑا رہا، ایک عمر رسیدہ ڈاکٹر آیا کرتے تھے میرے علاج کے لیے، میری چوٹیں ٹھیک ہونا شروع ہوئیں۔ اور آہستہ آہستہ میں نے چلنا شروع کیا۔ وہ آدمی خود معذور ہونے کے باوجود مجھے سہارا دے کے صحن میں لے جاتا اور چلنے میں میری مدد کرتا۔ مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ شائد یہ وہ دنیا ہے ہی نہیں جس سے میں بھاگ کے آیا تھا۔ یہ دنیا کوئی اور ہے، یہ لوگ کوئی اور ہیں۔ دو کمروں کا گھر تھا، اس گھر میں تین افراد رہتے تھے، وہ آدمی ، اسکی بیوی ، اور تین سال کا ایک بیٹا ، جس سے میری دوستی ہوگئی تھی ۔ اسکے ماں باپ اسے “فارو” بلاتے تھے۔ اسکی معصوم باتیں اور ہلکی پھلکی شرارتوں میں اتنی کشش تھی کہ میں تھوڑی دیر اگر اسے اپنے سامنے نہ دیکھتا تو بے چینی ہونے لگتی تھی۔ کافی دن گزر گئے تھے پر میں ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس آدمی کو میں نے آخر کہاں دیکھا تھا۔ اور اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ میرے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا،۔جاری ہے ۔

بس ہر بات کا جواب ہلکی سے مسکراہٹ اور چند لفظوں میں دیتا۔ وہ گھر کسی جنت سے کم نہیں تھا، ایسا سکون مجھے کبھی زندگی میں نصیب نہیں ہوا جو وہاں پہنچ کے ملا تھا۔ میں بالکل ٹھیک ہوگیا، بس چند ایک زخم تھے جو اب بھرنا شروع ہوگئے تھے، مجھے واپس لوٹنا تھا۔ میری گاڑی بھی واپس آ چکی تھی۔ اس دن صبح ناشتہ کرکے میں نے اسکی بیوی اور اس آدمی سے اجازت چاہی۔ کافی دیر سے فارو مجھے نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے اسکی امّی سے پوچھا تو پتا چلا کہ وہ کمرے میں بیٹھا کھیل رہا ہے۔ میں کمرے میں چلا گیا، اس سے اتنا لگاؤ ہوگیا تھا کہ ایسے چھوڑ کے جانے کو دل نہیں کررہا تھا ۔ وہ فرش پہ بیٹھا فوٹو البم میں لگی تصویریں دیکھ رہا تھا۔ میں بھی اسکے پاس جا کے بیٹھ گیا۔ میری نظریں اس معصوم سے چہرے پہ مرکوز تھیں اور اسکا پورا دھیان تصویروں پہ تھا۔ یہ دیکھیں میرے پاپا جب چھوٹے تھے ، یہ انکی سکول کی فوٹو ہے، اور یہ ان کے بیسٹ فرینڈ کی فوٹو ہے۔ اسکے کہنے پہ میں نے تصویر پہ نظر ڈالی۔ اور وہ تصویر مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے گئی۔ جب میں میٹرک میں تھا، تب ایک لڑکے سے میری دوستی ہوئی تھی، جو ہر وقت خاموش رہتا تھا۔ کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا، اور پر میں ایک نمبر کا شرارتی تھا۔ ۔جاری ہے ۔

سب اسکی تعریف کرتے اور یہی کہتے کہ میرا اور اسکا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ میں جھگڑالو ہوں اور وہ خاموش طبیعت ۔ مجھے پڑھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی اور وہ بہت محنتی تھا۔ شروع شروع میں تو سب ٹھیک تھا، پر جب لوگ اسکی تعریف کرتے اور مجھے برا کہتے تو مجھے اس سے حسد ہونے لگتا تھا۔ پھر وہ حسد نفرت میں بدل گئی۔ ہر ٹیسٹ میں جب وہ اوّل نمبر پہ ہوتا تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ میں اکثر اسکی کتابیں چوری کرکے پھاڑ دیتا تھا۔ اسکے نوٹس غائب کردیتا ۔ اور ایک دن ایسا بھی آیا جب میں نے نفرت کی ساری حدیں پار کردیں۔ اس دن لائبریری سے کچھ کتابیں لانے کے بہانے میں اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ ۔جاری ہے ۔

مجھے پتا تھا اس وقت لائبریری انچارج موجود نہیں ہوتا ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو کوئی بھی وہاں پہ نہیں تھا۔ میں اسے کتابوں کی اس بوسیدہ ریک کے پاس لے کے گیا جس کے گرنے کا بہت خطرہ تھا، لائبریری انچارج اس الماری سے کبھی کسی کو کتابیں نہیں نکالنے دیتا تھا، بلکہ خود بڑی احتیاط سے کتابیں نکالتا ۔ میں نے اسے اس ریک سے ایک کتاب نکالنے کاکہا وہ وہاں سے کتاب نکالنے لگا اور میں نے دوسری طرف جانب سے ایک زور دار دھکا مار کے الماری گرا دی۔ الماری اسکے اوپر گری اور میں ہنستا ہوا باہر نکل گیا۔ لائبریری انچارج نے واپس آ کے شور ڈالا، وہ بے ہوش حالت میں ملا اسے ہسپتال پہنچایا گیا۔ اس کے بعد میں نےا سے کبھی نہیں دیکھا بس یہی خبر آئی تھی کہ وہ ایک ٹانگ سے معذور ہو چکا ہے۔ میں اس واقعہ کو پوری طرح بھول چکا تھا۔ ۔جاری ہے ۔

مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ زندگی اس طرح اس موڑ پہ لا کے کھڑا کر دے گی۔ میں سالوں کے بیمار مریض کی طرح کمر پہ ہاتھ رکھ کے فرش سے اٹھا ۔ میں فطرتا ً حاسد طبیعت کا مالک تھا، اور شائد اسی وجہ سے میری زندگی میں کبھی سکون نہیں رہا۔ میرے اپنوں نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ اور آج میں اس شخص کے احسانوں تلے دب چکا تھا جس سے میں نے زندگی میں سب سے زیادہ نفرت کی تھی۔ کاش زمین پھٹ جائے اور میں اس میں غرق ہو جاؤں، کیسے اس کمرے سے باہر نکل کے میں اس آدمی کا سامنا کروں ۔ کیا گڑگڑا کے اسکے پاؤں میں گر جاؤں اور معافی مانگ لوں۔ پھرکیا اسکا وہ سب لوٹ آئے گا جسے میں نے چھینا تھا۔ “مجھ سے لٹ کے بھی اسکے پاس اتنا تھا کہ آج اس نے میری جھولی بھر دی اور میرے ہاتھ کل بھی خالی تھے اور آج بھی خالی ہیں۔ میں نے دروازے کے ساتھ پیشانی ٹیک دی اور آنکھیں موند لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں