شادی کے بعد ہم نے سوچا کہ ہمیشہ کیلئے ہنی مون منائیں ، اس لئے نوکری چھوڑی اور نکل پڑے، اب 12 ماہ بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ ۔۔۔‘ شادی کے بعد سب کچھ چھوڑ کر سیر پر نکلنے والے جوڑے نے ایک سال بعد ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

شادی کا خواب پورا ہونے کے بعد نئے نویلے جوڑے کیلئے اگلا خواب ایک خوبصورت ہنی مون کا ہوتا ہے لیکن شادی کی طرح ہنی مون کا خواب پورا کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ آج کے دور میں چند دن کا سیاحتی سفر بھی بڑا مہنگا پڑ جاتا ہے۔ آسٹریلوی جوڑے مونیک او ر ڈیلان میکفیل نے اس مشکل کا ایسا انوکھا حل نکالا کہ جسے جان کر آپ بھی کر حیران ہونگے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈیلان اور ان کی اہلیہ مونیک لامتناہی ہنی مون پر نکل گئے ہیں ، یعنی ایک ایسا ہنی مون جسے وہ کبھی بھی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ ڈیلان ایک الیکٹریکل انجینئر ہیں اور ان کی دولہن مونیک نے مارکٹیگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی ہے۔ مونیک نے اپنے نادر تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کی تعلیم جیسے ہی مکمل ہوئی تو خوش قسمتی سے انہیں بہت اچھی ملازمتوں کی پیشکش بھی ہو گئی۔جاری ہے ۔

لیکن ان کے ذہن پر کچھ اور ہی دھن سوار تھی۔ مونیک کہتی ہیں کہ جب انہیں بہترین ملازمت کا موقع ملا تو انہوں نے خود سے پہلا سوال یہ کیاکہ ” کیا میں واقعی اس طرح کی زندگی گزارنا چاہتی ہوں؟ “ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان کا جواب ناں میں تھا بلکہ ڈیلان بھی ایک روایتی زندگی نہیں گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جلد ہی شادی کریں گے اور پھر اپنا ہنی مون منانے کیلئے دنیا کے سفر پر چلے جائیں گے۔ جب ان کی شاد ی ہوئی تو سب لوگ انہیں مبارک دینے لگے اور کہنے لگے کہ اب آپ جلد ہی اپنا گھر خریدیں گے اور پھر آپ کے بچے ہونگے۔جاری ہے ۔

......
loading...

جن کے ساتھ آپ ہنسی خوشی اپنی زندگی گزاریں گے۔ دوسری جانب ڈیلان اور مونیک نے سب کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ ہنی مون کیلئے روانہ ہو رہے ہیں اور واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے اس اچھوتے خیال کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے آسٹریلیا سے سفر کا آغاز کیا اور اب تک دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ مونیک نے اپنے عالمی سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ” اکثر لوگ ایک نارمل زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ نارمل زندگی کیا ہے ؟ آپ روزانہ مہنگا لباس پہنتے ہیں اور گاڑی میں سوار ہو کر دفتر جاتے ہیں۔ وہ مہنگا لباس جس کیلئے۔جاری ہے ۔

آپ کو کافی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، اور وہ مہنگی گاڑی جس کی قسطیں آپ ایک لمبے عرصے تک آپ ادا کرتے رہتے ہیں۔پھر آپ ایک گھر خریدتے ہیں جس کی قسطیں شائد ساری عمر ادا کرتے رہتے ہیں، لیکن اس گھر میں وقت گزارنے کیلئے آپ کو موقع کم ہی ملتا ہے کیونکہ آپ اس کی قسطیںا دا کرنے کیلئے رات دن گھر سے باہر کام کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ایسی نارمل زندگی گزارنے سے اچھا ہے کہ ہم ابنارمل زندگی ہی گزاریں۔ سو، ہم نے ایک ایسی زندگی کا آغاز کیا جس کیلئے ہمیں نہ کسی مستقل گھر کی ضرورت ہے اور نہ گاڑی کی۔ ہمارے پاس 10 ہزار ڈالر (10 لاکھ پاکستانی روپے ) تھے جن سے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔۔جاری ہے ۔

اب ہم جس ملک بھی جاتے ہیں وہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتے ہیں اور عام ریستورانوں میں دستیاب سستا کھانا کھاتے ہیں۔ اکثر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جہاں قیام کریں وہیں کے مقامی اور سادہ کھانے خود پکا کر کھائیںلیکن میں سب کو یہ مشورہ نہیں دوں گی کیونکہ دنیا کے سفر پر نکلنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ یہ بالکل بھی آسان کام نہیں ہے۔ اجنبی سرزمین پر مشکل زندگی کی تکالیف اٹھانا آسان نہیں۔ ہمارے سفر کی جو اچھی اور دلکش تصاویر آپ دیکھتے ہیں ان سے یہ پتا نہیں چلتا کہ ہم ان مقامات تک کیسی کیسی صعوبتیں اٹھا کر پہنچے۔“