فتویٰ آگیا جس موبائل میں قرآن کی تلاوت ریکارڈ ہو ، کیا وہ موبائل بیت الخلا میں لے جایا جا سکتا ہے؟

شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علماء کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ اُنکا شمار فی البدیہ اور فوراً فتویٰ دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی بذلہ سنجی، ظریف اور پُر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ براہ راست پروگراموں میں اُن سے پوچھے گئے سوالات کے جواب سننے کے لائق ہوتےہیں۔ایک پروگرام کے دوران یمن سے ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، میرے موبائل میں قرآن شریف کی بہت سی تلاوت بھری ہوئی ہے۔ کیا میں موبائل کے ساتھ بیت الخلاء میں جا سکتا ہوں؟ ۔جاری ہے ۔

......
loading...

شیخ صاحب: ہاں جا سکتے ہو، کوئی حرج نہیں۔ سائل نے سوال دوبارہ دہرایا: شیخ صاحب، میں موبائل میں قرآن شریف کے بھرے ہونے کی بات کر رہا ہوں۔شیخ صاحب: میرے بھائی کوئی حرج نہیں، قرآن شریف موبائل کے میموری کارڈ میں ہوگا، تم اُسے ساتھ لیکر بیت الخلاء میں جا سکتے ہو۔ سائل: لیکن شیخ صاحب یہ قرآن کا معاملہ ہے۔ اور بیت الخلاء میں ساتھ لے کر جانا اچھا تو ہرگز نہیں ہے۔جاری ہے ۔

ناں! شیخ صاحب؛ کیا تمہیں بھی کُچھ قرآن شریف یاد ہے؟ سائل: جی شیخ صاحب، مُجھے کئی سورتیں زبانی یاد ہیں۔ شیخ صاحب: تو پھر ٹھیک ہے، اگلی بار جب تُم بیت الخلاء جاؤ تو اپنے دماغ کو باہر رکھ جانا۔۔