ایمان افروز واقعہ مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے

مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :
’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے دور دراز سے آنے والو! میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے ۔ جو شخص بھی مجھے وہ واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ اُسے بہترین جزادے اور جہنم سے آزادی عطا کرے‘‘(دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے اس کا وزن 4,347گرام بنتا ہے۔ اس طرح اندازہ کر لیں کہ ایک ہزار دینار ، اچھا خاصا سونے کا خزانہ تھا)۔جاری ہے ۔


یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے صاحب اٹھے اور انہوں نے اُس اعلان کرنے والے کو مخاطب کر کے کہا:’’اے خراسانیبھائی ! ہمارے شہر کے حالات آج کل بہت ہی دگرگوں ہیں ۔ ہر طرف قحط سالی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ مزدوری کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فقر و غربت کا دور دورہ ہے ۔ آپ کیلئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص کیلئے جو آپ کا مال لوٹا دے‘ کچھ انعام کا اعلان کردو ۔ ممکن ہے کہ وہ مال کسی فقیر اور محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب وہ انعام کا اعلان سنے گا تو آپ کا مال لا کر دے دے گا ۔ تاکہ اُسے بھی حلال طریقے سے کچھ دینار مل جائیں‘‘۔خراسانی شخص نے پوچھا:’’ آپ کے خیال میں ایسے شخص کا انعام کتنا ہونا چاہیے؟‘‘۔مکہ مکرمہ کے رہائشی اُن بزرگ عمر شخص نے کہا:’’ایک ہزار دینار میں سے کم از کم سو دینار تو ہونے ہی چاہئیں‘‘۔لیکن خراسانی شخص اس پر راضی نہیں ہوا اور اُس نے کہا :’ میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں ۔ آج مجھے مال نہ ملا تو کوئی بات نہیں ‘روزِ قیامت تو مل ہی جائے گا ‘‘۔۔جاری ہے ۔


ابن جریرطبری کہتے ہیں کہ میں یہ سارا مکالمہ سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہ مال کسی اور کو نہیں اسی بابا جی کو ملا ہے لیکن یہ بغیر کسی حلال انعام کے اُسے واپس نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ شاید یہ بہت محتاج اور فقیر ہے ۔ میں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کیلئے اور اصل صورت حال سمجھنے کیلئے اُس کا پیچھا کیا کہ یہ کہاں جاتا ہے؟وہ بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور مکہ مکرمہ ایک پرانے محلہ کے کچے گھر میں داخل ہوئے ۔ ابن جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے ۔ اندر گھر سے آواز آئی کہ بابا جی اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے:’’ اے لبابہ ! دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اب ہمیں دینار واپس ہی کرنے پڑیں گے ۔ میں نے اُسے کچھ انعام دینے کا ہی کہا لیکن وہ تو اس سے بھی انکاری ہے‘‘۔کئی دنوں سے فاقے کی ستائی ہوئی اہلیہ نے جواب دیا :’’ میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت بھری زندگی بسر کر رہی ہوں لیکن کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی ۔ لیکن اب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے ۔ پھر ہم دونوں کی ہی بات نہیں ۔ گھر میں ہماری چار بیٹیاں ، آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہیں ۔ انہی کا کچھ خیال کر لو ۔ یہ مال جیسا بھی ہے آج خرچ کر لو ۔ کل کو ممکن ہے کہ اللہ تمہیں مالدار کر دے تو یہ قرض چکا دینا ‘‘۔۔جاری ہے ۔


بابا جی نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا:’’ کیا میں ۸۶ برس کی عمر میں آکر اب حرام کھانا شروع کردوں‘ جبکہ میں نے پوری زندگی صبر وشکر میں گزاردی ہے ۔ اب تو یوں سمجھو کہ میں قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہوں ۔ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔‘‘ اس پر بیوی بھی خاموش ہو گئیابن جریر طبری کہتے ہیں میں یہ سب باتیں سن کر بہت حیران ہوا اور واپس حرم شریف آگیا ۔ اگلے دن جب سورج کچھ بلند ہوا تو وہ ہی کل والا خراسانی شخص اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’اے خراسانی بھائی! میں نے کل بھی آپ کو ایک مفید مشورہ دیا تھا اگر آپ ہزار دینار میں سے سو دینار نہیں دے سکتے تو دس دینار ہی دے دو تاکہ اگر کسی غریب‘ فقیر ‘محتاج کو آپ کا مال ملا ہے تو اُس کا بھی کچھ بھلا ہو جائے ‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ اس طرح دوسرا دن بھی بیت گیا اور خراسانی شخص کو اُس کا مال نہیں مل سکا ۔ جب تیسرے دن کی صبح ہوئی تو پھر وہ آکر اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ اب پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’خراسانی بھائی! میں نے پرسوں آپ کو سو دینار انعام کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نہیں مانے ۔ کل دس دینار کا مشورہ دیا ‘ اُس پر بھی آپ نے انکار کر دیا ۔ چلو! ایک دینار انعام کا ہی اعلان کر دو ، ممکن ہے کہ جس غریب کو مال ملا ہے ‘ اُس کے گھر میں کئی دن سے فاقہ ہو تو وہ ایک دینار سے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ کھانے کا ہی انتظام کر لے گا ‘‘۔خراسانی شخص نے پھر بڑی ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک دینار بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گا ورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا ۔۔جاری ہے ۔

جب بابا جی نے یہ سنا تو اُن کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس خراسانی شخص کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:’’میرے ساتھ آئو کہ میں تمہارا مال واپس کردوں ۔ اللہ کی قسم! جب سے یہ مال مجھے ملا ہے‘ میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں بھی چپکے سے ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ بابا جی اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ دینار لیے اور باہر نکل کر وہ سارے دینار اُس خراسانی شخص کو دیتے ہوئے کہا:’’اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے اور اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرمائے‘‘۔مجھے اُن کے پیچھے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کہ سب کئی دن فاقے سے تھے ۔ اُس خراسانی شخص نے تسلی سے اپنے دینار گنے اور روانہ ہو گیا ۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ اچانک مڑا اور اُن بابا جی کی کنیت سے اُنہیں مخاطب کر کے کہنے لگا:
’’اے ابو غیاث! میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے اور وصیت کی تھی کہ شرعی طریقے پر اس کا تیسرا حصہ یعنی ہزار دینار فقراء و مساکین پر صدقہ کر دئیے جائیں اور میں مکہ مکرمہ سے یہ مال اسی نیت سے لایا تھا کہ کسی فقیر اور محتاج کو دے کر اپنے لیے اور اپنے مرحوم والد کیلئے دعا کروائوں گا ۔ مجھے اس سفر میں آپ سے زیادہ سفید پوش کوئی نظر نہیں آیا ‘ اس لیے یہ مال رکھ لو اور اپنی ضروریات میں خرچ کرو‘‘۔۔جاری ہے ۔


یہ سن کر ابو غیاث کی آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو رواں ہو گئے اور انہوں نے خراسانی شخص اور اس کے والد ِ مرحوم کو خوب دعائیں دیں ۔ پھر جب وہ خراسانی شخص وہاں سے جانے لگا میں بھی واپس ہونے کیلئے مڑا تو پیچھے انہی بابا جی ’’ابو غیاث‘‘ کی آواز سنائی دی :
’’ بیٹا ! رک جائو ۔ میں پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو اور پورے معاملے سے باخبر ہو ۔ میںنے اپنے شیخ احمد بن یونس یربوعیؒ سے اور انہوں نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے حضرت نافع ؒ سے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ہدیہ (تحفہ) بغیر مانگے اور بغیر نفس کے انتظار کے دے دے تو اُسے قبول کر لینا اور رد نہ کرنا‘‘۔۔جاری ہے ۔


پھر انہوں نے گھر کے نو افراد کیلئے سو ‘سو دینار الگ کیے اور پورا دسواں حصہ یعنی سو دینار مجھے عنایت کیے اور مجھے ساتھ ہی کہا کہ یہ حلال مال ہے ‘ اسے احتیاط سے خرچ کرنا ۔ابن جریر طبری کہتے ہیں میں وہ ہی سو دینار دو سال تک خرچ کرتا رہا اور خوب علم حاصل کیا ۔اللہ کریم ہم سب کو اپنے لطف و احسان سے اس کا یقین عطا فرما دے کہ جو رزق ہمارے نصیب میں لکھا ہے‘ وہ ہمیں ضرور ملے گا چاہے وہ کہیں بھی ہو اور جو رزق ہمارے حصہ کا نہیں ہے‘ وہ ہمارے کام نہیں آئے گا ‘۔جاری ہے ۔

خواہ ہمارے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو۔ بس رزقِ حلال کے اہتمام اور حرام روزی سے بچنے کی یہی کنجی ہے ۔ باقی رزقِ حلال کیلئے محنت ‘ مسنون دعائوں اور مقبول وظائف بھی بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ذرائع اور بہانے ہیں۔