تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے نمک اور مردانہ طاقت میں تعلق بے نقاب کر دیا، ایسا انکشاف کر دیا کہ ہمارے آج تک کے تمام خیالات یکسر غلط ثابت کر دیئے

عام تاثر ہے کہ نمک کی زیادتی انسان میں بلند فشار خون، ہارٹ اٹیک اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے لیکن اب سائنسدانوں نے اپنی ایک تحقیق میں اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”زیادہ نمک کھانے سے انسان کا بلڈپریشر بڑھنے اور اس کو ہارٹ اٹیک آنے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔جاری ہے ۔

لیکن اگر کوئی شخص نمک کم کھائے تو اس کے نقصانات اسے اٹھانے پڑ سکتے ہیں کیونکہ نمک کی کمی سے انسولین کا لیول متاثر ہوتا ہے اور آدمی کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ نمک کم کھانے سے آدمی موٹاپے کا شکار ہو کر موٹاپے سے جڑی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔“۔جاری ہے ۔

......
loading...

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نمک جنسی صحت پر بھی شدید اثرات مرتب کرتا ہے۔ کم نمک کھانے سے جنسی کمزوری پیدا ہوتی ہے اور جنسی تحریک انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ نمک کی کمی سے جوانوں میں بھی ضعیف افراد جیسی مردانہ کمزوری دیکھنے میں آتی ہے۔اس کے علاوہ نمک کا استعمال کم کرنے سے خواتین کے حاملہ ہونے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی پیدائشی وزن کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔جاری ہے ۔


رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست میسوری کے سینٹ لوکس مڈ امریکہ ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں کا مزید کہنا تھا کہ ”100سال سے یہ فرضی کہانی چلی آ رہی ہے کہ نمک فشارخون کو بلند کرتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ ایک متناسب جسم کے آدمی کو روزانہ 2.4گرام سوڈیم درکار ہوتا ہے جو 6گرام نمک سے حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمیں صحت مند رہنے کے لیے روزانہ کم از کم 6گرام نمک لازمی کھانا چاہیے۔جو لوگ پہلے ہی بلڈپریشر کی بیماری کا شکار ہے یا عمررسیدگی کے باعث ان میں بیماری ہونے کے امکانات زیادہ ہیں انہیں ڈاکٹر نمک کا استعمال کم کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں مگر پھر بھی نمک زندہ رہنے کے لیے ہمارے جسم کی انتہائی اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔“